السلام علیکم
بلاشبہ موبائل ایس ایم ایس ہماری نوجوان نسل میں بے حد مقبول ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ دیوانگی کی حد تک ہماری نوجوان نسل ایس ایم ایس کی عادی ہو چکی ہے تو یہ بے جا نہ ہو گا۔
ویسے تو موبائل ایس ایم ایس ہماری نوجوان نسل میں بہت سی برائیاں لے کر آیا ہے اور ہماری نوجوان نسل کے بگاڑ اور اس کی اخلاقیات کی تباہی میں پیش پیش ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت معمولی حد تک اس کا اچھا استعمال بھی ہو رہا ہے۔
آپ نے بہت سارے ایسے ایس ایم ایس دیکھے ہوں گے جن میں مختلف قسم کی اسلامی معلومات ہوتی ہیں۔ گو کہ اس میں سے اکثریت ایسے پیغامات کی ہوتی ہے جن کی حیثیت کچھ حد تک مشکوک ہوتی ہے ایسے ایس ایم ایس چند ایسی اسلامی معلومات لیئے ہوئے ہوتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا ایسے پیغامات اکثر گمراہ کرتے ہیں۔
لیکن پچھلے کچھ عرصے سے میں نے یہ بات شدت سے نوٹ کی ہے کہ ہماری نوجوان نسل کا کچھ حصہ ایسے پیغامات کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے اور صحیح اسلامی پیغامات کو فروغ دے رہا ہے، ان پیغامات میں قرآنی آیات کے تراجم اور احادیث مبارکہ نمایاں ہوتی ہیں۔
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔
کھانا تقسیم کر دیا گیا تھا _ گاؤں کا ہر شخص ملک رحمت کی تعریف کر رہا تھا _وہ ملک رحمت کو گاؤں کے لیے رحمت قرار دے رہے تھے _ پیشتر اس کے کہ لوگ اپنے گھروں کو واپس جاتے ملک رحمت اٹھا اور کرم دین کے سوئم میں آئے ہوئے لوگوں سے مخاطب ہوا _
جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ کرم دین میرا نہایت ہی وفادار اور جفاکش ملازم تھا حقیقت میں میں نے اسے کبھی ملازم نہیں سمجھا ، ہمیشہ اسے اپنا بھائی جیسا ہی سمجھتا رہا ہوں لیکن اس کا یوں اچانک دنیا سے چلے جانا میرے لیے انتہائی صذمے کا باعث ہے _ ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں ایک ہمدرد بھائی سے محروم ہو گیا ہوں _ اس کے ہوتے ہوئے مجھے کسی کام کی پریشانی نہیں تھی _ کرم دین سب کام وقت پر کر دیتا تھا _ ہر کڑے وقت میں حویلی کی خدمت کرنے والا کرم دین ہر آواز پر حاضر ہو جانے والا کرم دین آج جب اس دنیا میں نہیں رہا تو مجھے اپنے سے زیادہ اس کے خاندان کی فکر محسوس ہو رہی ہے _میں غم کی ان گھڑیوں میں یہ اعلان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کرم دین کا بیٹا جو ابھی محض چھ برس کا ہے اسے حویلی میں کام پر رکھ رہا ہوں _ وہ اگرچہ چھوٹا ہے اور زیادہ کام نہیں کر پائے گا لیکن حویلی میں رہنے سے وہ زمانے کی اونچ نیچ بھی سمجھتا رہے گا اور آوارہ گردی سے بھی بچا رہے گا _ اب اسے ہی تو اپنے خاندان کا سہارا بننا ہے _ کرم دین کی بڑی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا رحم دین پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے لیکن تقدیر کے لکھے کو بھلا کون مٹا سکتا ہے _
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔
پاکستانی فوج کے ایک وفد کا امریکی دورہ اس وقت منسوخ کردیا جب اس وفد کو واشنگٹن کے ڈیلس ائیرپورٹ پر ایک پرواز سے ایک مسافر کی شکایت پر اتار دیا گیا۔
پاکستانی فوج کا نو رکنی وفد ٹامپا میں واقع امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کے دفتر ایک اجلاس کے لیے جا رہا تھا۔
واشنگٹن میں ہمارے نامہ نگار زبیر احمد نے بتایا کہ یونایٹڈ ایرلائنز کی پرواز کے دوران ایک مسافر نے غیر ملکی افراد کو ایک ساتھ دیکھ کر اور اردو زبان میں ان کی گفتگو سن کر ائیرلائن کے منتظمین سے انھیں پرواز سے اتارنے کا مطالبہ کیا۔
پرواز کو واشنگٹن کے ڈیلس ائیرپورٹ پر اتارا گیا اور وفد کے تمام نو ارکان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ بعد میں امریکی حکام نے بھی ان سے پوچھ گچھ کی۔
واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کی وفد کے رہنما نے حکام کو کاغذات دکھانے کے علاوہ یہ بھی بتایا کے وہ امریکی فوجی حکام سے سرکاری بات چیت کے لیے ٹامپا جا رہے ہیں۔
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔
لاہور میں یومِ شہادت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے موقع پر کربلا گامے شاہ اور بھاٹی چوک سمیت تین بم دھماکے ہوئے ہیں ان دھماکوں کے نتیجے میں اب تک چھ افراد جاں بحق اور سو زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ تینوں دھماکے تیس منٹ کے دوران ہوئے۔ سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں ایک کانسٹیبل بھی جاں بحق ہوا ہے۔ ادھر پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تین دھماکوں میں سے دو خودکش اور ایک کریکر دھماکہ تھا۔ دھماکوں کے بعد افراتفری کا عالم تھا اور بعض مشتعل افراد نے اس دوران پولیس پر حملہ کر دیا اور ایک پولیس اہلکار کو شدید زدوکوب کیا۔
پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، یہاں کے بسنے والے کھانے کے معاملے میں بہت حساس ہیں، مسلمانوں کو چونکہ دینی تعلیمات میں اکثر چیزوں کے کھانے کی ممانعت کی گئی ہے جیسے شراب، مردار , خنزیر کا گوشت اور دیگر کئی جانوروں کا گوشت کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ ایسی اکثر اشیا دیگر کئی ممالک کے افراد کھاتے ہیں جیسے چینی اور فلپائنی وغیرہ وغیرہ۔
پاکستانی چٹ پٹی چیزوں کے بڑے شوقین ہیں ، اسی حساب سے پاکستان میں کھانے پینے کی مارکیٹیں بھی بنی ہوئی ہیں، آپ کسی بھی بڑے یا چھوٹے شہر میں سڑک پر کھڑے ہو کر اپنی من پسند چیز ، جیسے سموسہ، گول گپے، دہی بڑے ، چاٹ، تکے وغیرہ باآسانی کھا سکتے ہیں۔ تاہم گلیوں اور سڑکوں پر دستیاب ان اشیا کا معیار بہت ناقص ہوتا ہے۔ ہم یہ نہیں جانتے ہوتے کہ برتنوں کی صفائی کس معیار کی ہے، کھانا بنانے میں کس قسم کے اجزاء استعمال کیے گئے ہیں۔ تلنے کے لیے کس قسم کا گھی استعمال کیا گیا ہے اور کھانا بنانے کی جگہ پر ماحول کیسا ہے۔ جب کھانے والے کھا رہے ہوتے ہیں تو انہیں اس بات کا علم نہیں کہ جو وہ کیا کھا رہے ہیں بس وہ چیز میں ڈالے گئے مسالوں کامزا لے لے کر کھا لیتے ہیں۔
یہ سب باتیں مجھے تب ایک خوفناک مسئلے میں تبدیل ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں جب میں نے یو ٹیوب پر ایک نجی ٹی وی چینل کی بنائی ہوئی رپورٹ دیکھی۔ ویڈیو دیکےنے کے بعد میری جو کیفیت ہوئی اسے میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔کئی بار مجھے ابکائی آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس ویڈیو میں یہ دکھایا گیا ہے کہ لاہور کے ایک مضافاتی علاقے میں کچھ پاکستانی مرے ہوے جانورں کی چربی کو پگھلا کر پکانے کا تیل تیار کر رہے ہیں۔ یہ مرے ہوے جانور نہ صرف بھینس، گائے اور بکری جیسے حلال جانوروں پر مشتمل ہیں بلکہ حرام جانور جیسے گدھے، کتے، چوہے اور پتہ نہیں کیا کیا ایک کیمیائی عمل کر کے چربی حاصل کرنے اور بعدا زاں تیل بنانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔