یہ ہے غلامی۔۔۔۔۔۔از محمد سلیم چوہدری

یہ ہے غلامی۔۔۔۔۔۔ از محمد سلیم چوہدری

 

East Pakistan in 1971

میں ایک آزاد ملک میں ایک آزاد شہری کی حیثیت سے پیدا ہوا۔میں جب چھوٹا سا تھاتو اپنے بڑوں سے آزادی اور حریت کی کہانیاں سنا کرتا تھا۔
وہ بتایا کرتے تھے کہ ہم نے آزادی کیسے حاصل کی ۔ ہم کیسے ہندوستان سے پاکستا ن آئے
میں اس وقت بہت چھوٹا تھا اور آزادی کا صحیح مطلب نہیں‌سمجھ سکتا تھا اور جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ویسے ویسے آزادی اور غلامی میرے لیئے اہم سوال بنتی گئی۔میں‌سوچا کرتا تھا کہ ہمیں‌آزادی کی کیا ضرورت تھی اور غلامی کیا چیز تھی۔
اگر ہم غلام ہی رہتے تو کیا ہوتا۔یہ سب وہ سوالات تھے جن کے جوابات میں تلاش کرتا رہتا تھا۔میں اپنے استادوں سے اکثر سوال کرتا تھا کہ غلامی اور آزادی کیا چیز ہے ۔؟ وہ اپنے علم اور تجربے کے مطابق مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے۔
لیکن مجھے کوئی خاص سمجھ نہ آتی، آج اچانک میں عنایت اللہ کی لکھی ہوئی ایک کتاب “منزل اور مسافر “ کا مطالعہ کر رہا تھا۔مصنف نے اس میں جنگِ عظیم دوئم کا ذکر کرتے ہوئے بنگال کا ایک واقعہ تحریر کیا جو اس کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اس واقعہ کو پڑھنےکے بعد مجھے ایسا لگا کہ مجھے سب سوالوں کے جواب مل گئے۔
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔