الیکشن 2013 قومی اسمبلی کے نتائج
الیکشن 2013 قومی اسمبلی کے نتائج

| پارٹی کا نام | امیدوار کا نام | اسمبلی کا نام |
| پاکستان تحریک انصاف | عمران خان | این اے - 1 |
| پاکستان تحریک انصاف | انجینئر حامد الحق | این اے - 2 |
| پاکستان تحریک انصاف | ساجد نواز | این اے - 3 |
| پاکستان تحریک انصاف | گلزار خان | این اے - 4 |
| پاکستان تحریک انصاف | پرویز خٹک | این اے - 5 |
| پاکستان تحریک انصاف | سراج محمد خان | این اے - 6 |
| جمعیت علماء اسلام (ف) | مولانا محمد گوہر شاہ | این اے - 7 |
| قومی وطن پارٹی | آفتاب احمد خان شیرپاؤ | این اے - 8 |
| عوامی نیشنل پارٹی | امیر حیدر خان ہوتی | این اے - 9 |
| پاکستان تحریک انصاف | علی محمد خان | این اے - 10 |
| پاکستان تحریک انصاف | مجاہد علی | این اے - 11 |
| عوامی جمہوری اتحاد پاکستان | عثمان خان ترکئی | این اے - 12 |
| پاکستان تحریک انصاف | اسد قیصر | این اے - 13 |
| پاکستان تحریک انصاف | شہریار آفریدی | این اے - 14 |
| پاکستان تحریک انصاف | ناصر خان خٹک | این اے - 15 |
| پاکستان تحریک انصاف | خیال زمان اورکزئی | این اے - 16 |
| پاکستان تحریک انصاف | ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون | این اے - 17 |
| پاکستان مسلم لیگ (نواز) | مرتضیٰ جاوید عباسی | این اے - 18 |
| پاکستان تحریک انصاف | راجہ عامر زمان | این اے - 19 |
| پاکستان مسلم لیگ (نواز) | سردار محمد یوسف | این اے - 20 |
| پاکستان مسلم لیگ (نواز) | کیپٹن(ر) محمد صفدر | این اے - 21 |
| جمعیت علماء اسلام (ف) | قاری محمد یوسف | این اے - 22 |
| آزاد | سر زمین | این اے - 23 مکمل تحریر پڑھیں » |
گیارہ مئی چھٹی کا نہیں وُوٹ کا دن ہے
گیارہ مئی چھٹی کا نہیں وُوٹ کا دن ہے
اس ملک کی تاریخ میں یہ دن پہلی مرتبہ آرہا ہےکہ گیارہ مئی 2013 کو پوری پاکستانی قوم جمہوریت کے تسلسل کے لیے اپنے وُوٹ کا استمال کرے گی۔یعنی ایک جمہوری حکومت کی مدت کے بعد دوسری جمہوری حکومت کا قیام۔ بدنصیبی سے ہمارئے ملک کے سیاسی حالات ایسے رہے ہیں کہ جو ملک جمہوری طور سے حاصل کیا گیا اس میں ایک جمہوری حکومت آتی مگر اسکے بعد ایک جنرل کی حکومت آجاتی اور وہ چونکہ غیر جمہوری ہوتی اسلیے ایسی حکومت ہمیشہ لمبی مدت رہی ہے اور آمر کی خواہش کے برعکس ختم ہوئی ہے۔ 1988 سے 1999 تک دو دوسال کا کھیل جمہوریت کےنام پر کھیلا گیا مگر اس میں بھی اس میں بھی فوج کے جنرلوں کا عمل دخل رہا جس کی ایک مثال IJI کا قیام تھا۔ برحال اب 11 مئی کوپاکستان کے عوام نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اگلی حکومت کس کی ہوگی۔ ویسے تو الیکشن کمیشن کے پاس 100سے زیادہ سیاسی پارٹیاں رجسٹرڈ ہیں مگر صرف دس کے قریب ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جن کے بارئے عام لوگ جانتے ہیں ۔ ان کی ترتیب کچھ یوں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن ، پاکستان مسلم لیگ ق ، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل، متحدہ قومی مومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، جمیت علمائے پاکستان ف، جماعت اسلامی، جمہوری وطن پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف۔
پڑھناجاری رکھئے...
طالبان دہشتگردوں کو پاک فوج کا پیغام
طالبان دہشتگردوں کو پاک فوج کا پیغام
پاکستان جمہوری طریقے سے حاصل کیا گیا اور یہ ایک جمہوری ملک ہے۔ اس ملک کو حاصل کرنے کی وجہ مسلمانوں کی اپنی ایک خود مختار ریاست تھا، جس میں انکومذہبی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی آزادی حاصل ہو۔ مگر آج بدقسمتی سے ہم کو نہ ہی مذہبی آزادی ہے اورنہ ہی سیاسی۔ معاشی اور معاشرتی آزادی جب ہوتی ہے جب مذہبی اور سیاسی آزادی ہو۔ آج مذہب کے نام پر انتہا پسندی اور دہشتگردی کا راج ہےاور سیاسی آزادی کے نام پر گذشتہ پانچ سال لیٹروں کا راج رہا۔ بڑی مشکل سے چھیاسٹھ سال بعد آج ہم جمہوریت کے تسلسل کو رواں رکھنے کے لیے 11 مئی کو انتخابات کے عمل سے گذرنے جارہے ہیں۔ عام انتخابات میں صرف چند روز باقی ہیں،مگر انتخابی گہما گہمی کے مناظر صرف پنجاب میں نظر آرہے ہیں باقی تین صوبے دہشتگردی کا شکار ہیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور سندھ خاصکرکراچی میں اے این پی ، متحدہ قومی مومنٹ اور پیپلز پارٹی کے الیکشن دفاتر یا اُنکی کارنرمیٹنگ پر ہونیوالے بم دھماکوں نے عام لوگوں کو خوف زدہ کیا ہوا ہے اور طالبان دہشت گردوں کا اصل مقصد بھی یہ ہی ہے۔ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کیلئے دہشت گردکارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے،تاکہ لوگ اپنے ووٹ کا استمال کم سے کم کرپایں، اور ملک جمہوری طور پر مستحکم نہ ہونے پائے۔
پاکستان میں دہشتگردوں اور فسادیوں کو لانے کا سہراتو پاکستان کے سب سے وحشی آمر جنرل ضیاالحق کوجاتا ہے جس نے امریکہ کے ڈالروُں اور اپنی حکومت کو طویل کرنے کےلیےروس کے ساتھ افغانستان میں کرائے کی جنگ لڑئی۔اور جب امریکہ میں 9/11 کا واقعہ ہوا تو امریکہ کا سابق ایجینٹ اسامہ بن لادن افغانستان میں موجود تھا۔
پڑھناجاری رکھئے...
کیااگلا وزیراعظم طالبان کا ہوگا؟
کیااگلا وزیراعظم طالبان کا ہوگا؟
لگ تو یہ ہی رہا ہےکہ اس ملک کا اگلاوزیراعظم طالبان کا ہی ہوگا۔ اور یہ بات سمجھنے کے لیے تھوڑئے عرصئے پہلے طالبان کی امن مذاکرات کی پیشکش پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔میں نے اپنے ایک مضمون "طالبان دہشتگردوں کے پیٹی بند بھائی " میں لکھا تھا کہ
"ایک ایسے وقت جب پاکستان میں الیکشن ہونے جارہے ہیں اچانک طالبان دہشتگردوں کی طرف سے حکومت سے مذاکرات کی مشروط پیش کش کی گئی تھی جس میں انہوں نے پاکستانی فوج پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے میاں نواز شریف، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور امیر جماعت اسلامی منور حسن کی مذاکرات سے متعلق ضمانت مانگی تھی۔ دہشتگردوں کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کیخلاف کارروائیاں مزید تیز کردی جائیں گی یعنی ابھی دہشت گرد کراچی کے عام لوگوں پر اور ظلم کرینگے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کو ضامن بنانے کے اعلان کے بعد تینوں جماعتوں کے رہنماوں کے نمائندہ وفد کو قبائلی علاقوں کے دورہ کی دعوت بھی دی ہے۔"
پاکستان کی تقریبا تمام سیاسی جماعتیں یہ کہہ رہی تھیں کہ مذکرات ہونے چاہیں مگر پیپلز پارٹی کی حکومت کا وقت ختم ہوچکاہے۔ میاں نواز شریف نے تو چپ سادھ لی مگر مولانہ فضل الرحمان اورجماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن بہت پرجوش تھے۔ اے این پی نے پہلے آل پارٹی کانفرنس بلائی جس میں جماعت اسلامی نے شرکت نہیں کی
دو سیاسی خبریں اور تبصرئے یوسفی کے ساتھ
دو سیاسی خبریں اور تبصرئے یوسفی کے ساتھ
ہمیں بچپن سے ہی سیاست کا چسکا لگ گیا تھا، لہذا ہر بات میں سیاست کا دخل ہم اپنی طرف سے کردیتے ہیں۔ تاریخ اور سیاست پسندیدہ موضوع ہیں لیکن طنز مزاح بھی پڑھنے کا شوق ہے ۔ مشتاق احمد یوسفی پسندیدہ مصنف ہیں اسلیے سلسلہ یوسفیہ کے مریدوں میں اپنے آپ کو بھی شمار کرتے ہیں۔ حال ہی میں دو سیاسی خبریں سامنے آیں تو یوسفی صاب یاد آگے۔
پہلی سیاسی خبر
شیخ رشید کے خلاف کسی نے ایک درخواست داخل کی کہ شیخ صاحب نے جھوٹ لکھا ہے، وہ کنوارئے نہیں ہیں بلکہ انہوں نے 1996 میں شادی کی تھی۔ اب یہ تو پتہ نہیں کہ شیخ صاحب نے شادی کی تھی یا نہیں مگر مشتاق احمد یوسفی صاحب نے ضرور کی تھی لہذا اپنی کتاب "زرگزشت" میں ایک مضمون "کراچی کی برسات " میں وہ اپنی شادی کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں۔
بارش اور ایسی بارش ! ایسی بارش ہم نے صرف مسوری میں اپنی شادی کے دن دیکھی تھی کہ پلاؤ کی دیگوں میں بیٹھ کر دلہن والے آ جا رہے تھے خود ہمیں ایک کفگیر پر بیٹھا کر قاضی کے سامنے پیش کیا گیا - پھر نہ ہم نے ایسی حرکت کی ، نہ بادل ایسا ٹوٹ کے برسا ۔ عجب سماں تھا ۔ جدھر دیکھو پانی ہی پانی۔ اس دن سوائے دلہن کی آنکھ کے ہمیں کوئی چیز خشک نظر نہیں آئی۔ہم نے ٹہوکا دیا کہ رخصتی کے وقت دلہن کا رونا رسومات میں شامل ہے ۔ انھوں نے بہت پلکیں ٹپٹپائیں ، مگر ایک آنسو نہ نکلا ۔ پھر کار میں سوار کراتے وقت ہم نے سہرا اپنے چہرے سے ہٹایا ۔ خوب پھوٹ پھوٹ کر روئیں
پرویزمشرف اور دودھ پینے والے مجنوں
پرویزمشرف اور دودھ پینے والے مجنوں
لیلئ اپنے محل میں تھی کہ اُسے اطلاع ملی کہ باہر اُس کا مجنوں آیا ہے اور لیلئ لیلئ پکار رہا ہے۔ محل سے باہر پڑا ہوا مجنوں لیلئ لیلئ پکارتا رہتا تھا اور لیلئ اپنی ایک سہیلی کے زریعے مجنوں کا بہت خیال رکھتی اور روز مجنوں کے لیئے اچھے اچھے کھانے بھجواتی اور رات کودودھ سے بھرا ہواایک پیالہ۔ لیلئ کی سہیلی لیلئ کے کہنے سے سب کرتی تو تھی مگر اُسے اِس مجنوں پر شک تھا کہ وہ لیلئ کااصل مجنوں نہیں ہے۔ وہ باربار لیلئ کو سمجھاتی کہ وہ دھوکا کھارہی ہے یہ اصل مجنوں نہیں ہے۔آخرکار لیلئ نے اپنی سہیلی کے کہنے پر ایک دن اپنے ایک ملازم کو اُس پیالے کے ساتھ جس میں روز اُس کو دودھ بھیجا کرتی تھی اِس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ لیلئ کی طبیت بہت خراب ہے اور اُس کو خون کی ضرورت ہے لہذا اس پیالے میں تم اپنا خون بھرکردئے دو۔ مجنوں نے ملازم سے کہا کہ میں دودھ پینے والا مجنوں ہوں خون دینے والا نہیں اور یہ کہکر وہ جھوٹا مجنوں وہاں سے چلاگیا۔
لاہور کے موچی دروازے پر پیپلز پارٹی کے جلسے میں مولانہ کوثر نیازی تقریر کررہے تھے اور فرمارہے تھے کہ بھٹو سورج ہے ہم اُسکی روشنی ، بھٹو چاند ہے ہم اُسکی کرنیں، ایک جیالا کھٹرا ہوا اور بولا بھٹو دیگ ہے اور آپ اُسکے کفگیر۔ مولانہ جیالے کی بات پر مسکرائے اور دوبارہ بھٹو کی تعریف میں لگ گئے۔ مولانہ کوثر نیازی نےذوالفقار علی بھٹو پر ایک کتاب بھی لکھی جسکا عنوان "دیدہ ور"رکھا۔ لیکن جب 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیا الحق نے اقتدار سنبھالا تو صرف چند دن کے بعد دیدہ ور کے مصنف مولانہ کوثر نیازی اور غلام مصطفی جتوئی جنکو بھٹو نے سندھ کا وزیراعلیَ بنایا تھا جنرل ضیا الحق کے دربار میں حاضری دینے پہنچ گے۔ دونوں نے ایک علیدہ پیپلز پارٹی کا دھڑا بھی بنالیا۔ بیگم نصرت بھٹو کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ اب میرا دوپٹا بیچ کر کھالو کیونکہ بھٹو کے دودھ پینے والے مجنوں اُن سے بھٹو کی رہائی کی کوششیں کرنے کے لیے لاکھوں روپے وصول کررہے تھے اور پھرجب 4 اپریل 1979 کو بھٹو کو پھانسی دی گی تو بھٹو کے دودھ پینے والے مجنوں غائب تھے۔
پڑھناجاری رکھئے...
المالک العادل سلطان نور الدین زنگی
المالک العادل سلطان نور الدین زنگی
سلطان نور الدین زنگی سلطنت کے بانی عماد الدین زنگی کا بیٹا تھا جس نے تاریخ میں بڑا نام پیدا کیا۔ نور الدین فروری 1118ء میں پیدا ہوا اور 1146ء سے 1174ء تک 28سال حکومت کی۔
اس نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔ شروع میں نورالدین کا دارالحکومت حلب تھا۔ 549ھ میں اس نے دمشق پر قبضہ کرکے اسے دارالحکومت قرار دیا۔ اس نے صلیبی ریاست انطاکیہ پر حملے کرکے کئی قلعوں پر قبضہ کرلیا اور بعد ازاں ریاست ایڈیسا پر مسلمانوں کا قبضہ ختم کرنے کے لیے عیسائیوں کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا۔ دوسری صلیبی جنگ کے دوران دمشق پر قبضہ کرنے کی کوششیں بھی سیف الدین غازی اور معین الدین کی مدد سے ناکام بنا دیں اور بیت المقدس سے عیسائیوں کو نکالنے کی راہ ہموار کردی۔
پڑھناجاری رکھئے...
شیر شاہ سوری
شیر شاہ سوری
شیرشاہ سوری کا اصل نام فرید خان تھا۔ 1486ع میں پیدا ہوئے جونپور میں تعلیم پائی ۔21 سال والد کی جاگیر کا انتظام چلایا پھر والئ بہار کی ملازمت کی۔ جنوبی بہار کے گورنر بنے۔ کچھ عرصہ شہنشاہ بابر کی ملازمت کی بنگال بہاراور قنوج پر قبضہ کیا مغل شہنشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان پر اپنی حکمرانی قائم کی۔ اپنی مملکت میں بہت سی اصلاحات نافذ کیں۔ اپنے تعمیری کاموں کی وجہ سے ہندوستان کے نپولین کہلائے سنار گاؤں سے دریائے سندھ تک ایک ہزار پانچ سو کوس لمبی جرنیلی سڑک تعمیر کروائی جو آج تک جی ٹی روڈ کے نام سے موجود ہے۔ شہنشاہ اکبر مملکت کا انتظام چلانے میں شیرشاہ سے بڑا متاثر تھا۔ 22 مئ 1545ع میں بارود خانہ کے اچانک پھٹ جانے سے وفات پائی۔ تاریخ دان شیر شاہ سوری کو برصغیر کی اسلامی تاریخ کا عظیم رہنما, فاتح اور مصلح مانتے ہیں۔ اردو ادب میں شیر شاہ سوری سے متعلق کئی مثالی قصے ملتے ہیں۔
پڑھناجاری رکھئے...
ایران، پاکستان سمیت کئی ممالک میں زلزلہ کے شدید جھٹکے
ایران، پاکستان سمیت کئی ممالک میں زلزلہ کے شدید جھٹکے
آج شام مورخہ 16 اپریل 2013 دوپہر تقریبا تین بجے ایران، پاکستان، اندیا اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیئے گئے. مختلف ذرائع کے مطابق زلزلہ کا مرکز ایران کے شہر ذہدان کے قریب تھا اور اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 8 نوٹ کی گئی. پاکستان انڈیا میں زلزلے سے کوئی جانی و مالی نقصان ابھی تک رپورٹ نہیں ہوا ہے البتہ ایران میں زلزلہ سے شدید نقصان ہوا ہے اور کم ازکم چالیس افراد جان کی بازی ہا گئے ہیں. سینکڑوں مکانات منہدم ہو گئے ہیں متاثرہ علاقوں سے تمام مواصلاتی روابط ختم ہو چکے ہیں. امدادی کاروائیوں کے لئے ٹیمیں جائے حادثہ کی طرف روانہ کر دی گئی ہیں. پاکستان محکمہ موسمیات کے ڈی جی عارف محمود نے دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں زلزلے کی شدت ایکٹر اسکیل پر 7.9 ریکارڈ کی گئی۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اب تک زلزلے سے چالیس ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے تاہم حکام کے مطابق اس تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ ملک میں گزشتہ چالیس برس میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق متاثرہ علاقہ صحرائی ہے اور زیادہ تر آباد نہیں اور وہاں کافی فاصلے پر چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں۔ خیال رہے کہ جنوب مشرقی ایران میں رواں ماہ کی دس تاریخ کو بھی ایک زلزلہ آیا تھا جس میں کم از کم 37 افراد ہلاک اور 850 زخمی ہوگئے تھے۔
پڑھناجاری رکھئے...
مافیا کوئینز
ممبئی کی مافیا کوئینز
مافیا کوئینز معروف بھارتی صحافی ایس حسین زیدی کی دوسری بیسٹ سیلر کتاب ہے جسکی تحقیق و تحریر میں جین ہاجز نے انکی معاونت کی ہے۔بمبئی کے رہائشی آج بھی داؤد ابراہیم ، کریم لالہ ، حاجی مستان اور واردا ارجن ، مود الیار کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں ۔ جنکے بارے میں حسین زیدی نے “ڈھونگری سے دبئی “ میں چشم کشا انکشاف کیے ہیں ۔اسی کاوش کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مصنف نے “ مافیا کوئینز “ تحریر کی ہے ۔زیر نظر کتاب انڈر ولڈ مافیا میں خواتین کے کردار پر لکھی گئی منفرد کتاب ہے۔انڈر ولڈ اصلا مردوں کی دنیا ہے لیکن اس دنیا میں صنف نازک کا آنا کیسے ممکن ہوا اس بات پر“ مافیا کوئینز “کی کہانیاں خاطر خواہ روشنی ڈالتی ہیں۔
انڈر ولڈ میں داؤد ابراہیم یا وادارجن بننا اتنی بڑی بات نا تھی لیکن اس دنیا میں جینا بائی ، دار والی للن بھابھی اور گنگو بائی جیسے کرداروں کا موجود ہونا ایک غیر معمولی بات ہے ۔
اسمگلنگ ، دہشتگردی اور منشیات کی ا س بھیانک دنیا میں ان خواتین نے کیسے قدم رکھا اسکی چشم کشا رپورٹیں “ مافیا کوئینز “ کے توسط سے ہمیں پڑھنے کو ملتی ہیں “مافیا کوئینز “ اور “ڈھونگری سے دبئی “ ایک دوسرے سے لازم و ملزوم تصانیف ہیں ۔“ڈھونگری سے دبئی “ پڑھنے کے بعد “ مافیا کوئینز “ کے مطالعے سے اس بات کا پوری طرح اندازہ ہونے لگتا ہے کہ بمبئی انڈر ولڈ کن مرحلوں سے گزر کر آج یہاںتک پہنچی ہے ۔اردونامہ کے قارئین کے لئے “ مافیا کوئینز “ پیش خدمت ہے ۔
پڑھناجاری رکھئے...





















