امریکی عدالت میں ایک پاکستانی دہشت گرد کی تقریر جس نے بہت سے لوگوں کو رلا دیا
امریکی عدالت میں ایک پاکستانی دہشت گرد کی تقریر جس نے بہت سے لوگوں کو رلا دیا

طارق مھنا ایک پاکستانی مصری امریکن ہیں ان کے والدین پاکستان اور مصر سے امریکہ ہجرت کرگئے تھے اور طارق وہیں پیدا ہوئے اور پیدائش سےا مریکہ میں مقیم ہیں۔ انہیں کچھ ہفتے قبل ہی امریکی حکومت نے انٹر نیٹ پر جہادیوں کی حمایت کرنے کے الزام میں کئی سال کے لئے جیل بھیج دیا ہے۔ جس وقت جج انہیں سزا سنا رہا تھا انہوں نے بھری عدالت میں ایک بیان دیا تھا۔ اس جذباتی بیان نے عدالت میں موجود بہت سے لوگوں کو مہبوت کردیا تھا اور کئی لوگ اپنی آنکھیں پونچھتے دیکھے گئے۔ اس تقریر کے بعد جج نے کہا کہ عدالت صرف قانون کے دائرے میں رہ کر فیصلہ دیتی ہے قانون بناتی نہیں اور امریکی قانون یہی کہتا ہے کہ آپ مجرم ہیں۔ ذیل میں دئی گئی تحریر دراصل وہ تقریر ہے جوطارق مھنّا نے۱۲ اپریل ۲۰۱۲ء کو سزا سنائے جانے پر امریکی جج کے سامنے کی، طارق مھنّا ان بہت سارے لوگوں میں سے ہیں جو اپنی حق گوئی کی بابت امریکی عقوبت خانوں میں قید ہیں اور امریکہ کی اسلام دشمنی کا ہد ف بن رہے ہیں۔ آپ ابو سبایا کے نام سے انٹرنیٹ پر جانے جاتے تھے اور بہت موثر مقرر ہیں۔
افریقہ…. انسانوں نے جنگلی جانوروں کے ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا
افریقہ.... انسانوں نے جنگلی جانوروں کے ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا

کانگو . یوگنڈا اور روانڈا میں پناہ گزینوں نے نیشنل پارکس میں آبادیاں قائم کر لیں. کاشتکاری اور ایندھن کیلئے جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے. خوراک کے حصول کیلئے جنگلی حیات کا شکار عام ہو چکا ہے. روک ٹوک پر مسلح جنگجو وائلڈ لائف اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں.
جیسا کہ توقع ہے کہ اس کرہ ارض کی آبادی 2045 تک بڑھ کر 09 بلین کے لگ بھگ ہو جائے گی. لیکن براعظم افریقہ کے ایک گوشے میں عشروں پہلے ہی آبادی میں اضافے کے سلسلے میں تنازعہ شروع ہو گیا ہے. یہ تنازعہ بارش کی کثرت، گہری جھیلوں، آتش فشانی مٹی اور ان کے کثیر المقاصد استعمال کے بارے میں ہے.
پڑھناجاری رکھئے...
قبر سے ایک ای میل
قبر سے ایک ای میل
میرے ایک واقف کار نے یہ واقعہ سنایا۔ کہتا ہے اُس کا ایک بہت اچھا دوست تھا جو پچھلے دنوں روڈ ایکسیڈنٹ میں مارا گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اُس پر اپنا رحم فرمائے اور اُس کی خطاوں کو معاف فرمائے۔ مرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ وہ مر گیا، سب نے مرنا ہے۔ لیکن اس کی موت سے کچھ قباحتیں اور مشکلات کھڑی ہوئی ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ مرنے والا انٹرنیٹ سے متعلقہ امور میں مہارت رکھنے والا شخص تھا۔ فحش مواد والی ویب سائٹس اُسکی کمزوریاں تھیں اور ننگی تصاویر جمع کرنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔
حتیٰ کہ اُس نے اپنی ایک ویب سائٹ بھی بنا رکھی تھی جس پر ہر طرح کی فحش تصاویر کا ایک بہت بڑا مجموعہ لوگوں کی تفریح طبع کیلئے موجود تھا۔ ویب سائٹس کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ رجسٹرڈ ممبران کو نئی تصاویر یا ہر کچھ دنوں کے بعد چند تصاویر کا ایک مجموعہ خود بخود ہی ان کے ایمیل پر پوسٹ ہو جاتا تھا۔
اب میرے اس دوست کی ناگہانی موت نے ہمارے لیئے یہ مصیبت کھڑی کر دی ہے کہ ہمیں اس کی ویب سائٹ کا پاس ورڈ معلوم نہیں ہے تاکہ کم از کم اس ویب سائٹ کو بند کریں یا کوئی دوسرا حل نکالیں۔
مسئلہ سیاچن …. کب …. کیسے … مستند تفصیلی ریکارڈ
مسئلہ سیاچن .... کب .... کیسے ... مستند تفصیلی ریکارڈ
سیاچن گلیشئر پر قبضے کا فیصلہ اندرا گاندھی نے کیا تھا. 1948 میں کشمیر میں جنگ بندی کے بعد 1978 تک سیاچن کا علاقہ پاکستان کا حصہ تسلیم کیا جاتا رہا. 1982 میں بھارتی وزیراعظم نے باقاعدہ کنٹرول کیلئے منصوبہ بندی کی 1983 میں پاکستانی کمانڈوز نے علاقے میں بھارتی فوج کی موجودگی کی تصدیق کی. بلافونڈلا کے مقام پہ آمنا سامنا ہونے پر دشمن بھاگ اٹھا تھا.
فلک بوس پہاڑوں اور حسین و جمیل وادیوں کا گہوارہ، جہاں قدرت کی رعنائیاں پوری آن بان سے جلوہ فکن ہوتی ہیں، پاکستان کے انتہائی شمال میں شمالی علاقہ جات کے نام سے موسوم ہے، یہ علاقہ بلندوبالا پہاڑی سلسلوں کو اپنے فراخ دامن میں سمیٹے بامِ دنیا سے قریب تر ہے. دنیا کے تین مشہور ترین پہاڑی سلسلے قراقرم، ہندوکش اور ہمالیہ، قرن ہا قرن سے سینہ تانے اپنی بلندیوں پر نازاں زمین کے کھونٹے سے بندھے اسی علاقے میں کھڑے ہیں.
شہیدوں کی مائیں رویا نہیں کرتیں
شہیدوں کی مائیں رویا نہیں کرتیں

کبھی تیرا یہ بیٹا
خاکی وردی پہنے
سینے پہ تمغے سجاءے
مجاہدوں کا سا نور لیے
تیرے سامنے فخر سے کھڑا ہو،
... اور میری ماں
میری ماں یہ سن کر
ہنس دیا کرتی تھی ـ ـ ـ
کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اْس سے کہنا
وہ اب بھی ہنستی رہا کرے،
کہ شہیدوں کی مائیں
رویا نہیں کرتیں۔ ۔ ۔ ۔
آئین آئین کی رٹ،، حقوق، اختیارات اور میمو گیٹ
آئین،آئین کی رٹ، حقوق، اختیارات اور میمو گیٹ
یہ سویلین لوگوں کو بھی بات سمجھ نہیں آتی۔ جتنی بار بھی ناکام ہو جائیں، جتنی بھی مار کھا لیں، جتنے بھی مارے جائیں، پھر اٹھتےہیں تو آئین اور قانون کی طرف بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ان کم بختوں کوچونسٹھ سالوں میں اتنی سی بات سمجھ نہیں آئی کہ یہ ملک آئین سے نہیں چل سکتا؛ اسے صرف ہم چلا سکتے ہیں۔
پہلے آئین بنانے کے چکر میں پڑے رہے۔ آٹھ نو سال لگ گئے مگر باز نہ آئے اور ایک آئین بنا کرہی دم لیا۔ خیرایوب انکل نےاُس آئین کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ ایوب انکل بھی کیا سادہ تھے دو تین سال بھی نہ نکال پائے اور سویلین والی باتیں شروع کر دیں۔ بہت سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے اور خود ہی ایک آئین بنا کر دے دیا۔ بھلا ان سویلین کو فوجیوں کا آئین پسند آسکتا ہے۔ آج تک اُس آئین پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ سویلین کی حرکتیں دیکھیں تو آخر ایوب انکل کو سمجھ آہی گئی اور اپنا ہی بنایا ہوا آئین لپیٹ کر ایک طرف رکھا اور اقتدار یحییٰ انکل کے حوالے کر دیا۔
ام الاخبائث سوچ کو شکست دینا ہوگی
ام الاخبائث سوچ کو شکست دینا ہوگی
۱۹۵۲سے لے کر آج تک ھماری فوجی قیادت ہمیشہ سے سمجھتی آئی ہے کہ پاکستان میں ہر چیز اس کے تابع ہونی چاہیےاور ملک کے ہر معاملے میں صرف اس کی گرفت مضبوط ہو۔ یہ خود کو عقل کل اور اپنے ہر عمل کو قانون سے برتر سمجھتی ہے۔ اس کا اپنا ایک مخصو ص مائنڈ سیٹ )ذہنی کیفیت) ہے جس کی وجہ سے یہ اپنے علاوہ ملک کی ہر قانونی و عدالتی اتھارٹی اور عوام سمیت سب کو بلڈی سویلین گردانتی ہے۔
ھماری اعلی فوجی قیادت نے اپنی اس گہری سوچ کو عملی جامہ بھی پہنایا ہے۔ جمہوری حکومت کے ہوتے ہوئے کورکمانڈر بیٹھ کر کھلے عام سیاسی فیصلے کرتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرواتے ہیں۔ آرمی قیادت کی نظر میں جمہوری اور آئینی نظام کی ذرا برابر وقعت نہیں۔ آرمی چیف عوام کے چنے ہوئے وزیراعظم کو سیلوٹ تک نہ کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہیں۔ ایک منتخب وزیراعظم تو حاضر سروس آرمی چیف پرویزمشرف کے اپنے بارے میں مخصوص تکیہ کلام حرامی کی گواہی بھی دے چکے ہیں۔
ذکر اُس پری وش کا
ذکر اُس پری وش کا
اللہ کی ایک مشہور اور اشرف مخلوق کی دو اقسام ہیں۔ ایک کو انسان کہتے یں اور دوسری کو عورت۔ عورتیں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک وہ جن پر شاعر حضرات غزل کہتے ہیں اور جن کے وجود سے تصویر کائنات میں رنگ بھرا جاتا ہے۔ دوسری قسم بیوی کہلاتی ہے۔ جس طرح کسی بچے کی معصومیت اُس وقت ختم ہو جاتی ہے جب وہ بڑا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح عورت کی ساری خوبیاں اُس وقت ہوا ہو جاتی ہیں جب وہ زَن سے رَن، میرا مطلب ہے بیوی بن جاتی ہے۔ بیوی کو بیگم بھی کہتے ہیں۔ شنید ہے کہ سنہرے دور میں یہ بے غم کہلاتی تھی کیونکہ ان کا کام شوہروں کو ہر غم سے بے غم کرنا ہوتا تھا۔ دور اور کام تبدیل ہوتے ہی نام بھی تبدیل ہو کر بیگم رہ گیا۔
اعلٰی ثانوی جماعت کے ایک استاد نے طلباء سے پوچھا کہ بیویاں زیادہ تر کس کے کام آتی ہیں؟ ایک شریر طالبعلم نے فوراً جواب دیا "سر لطیفوں کے۔" جی ہاں بیویاں زیادہ تر لطیفوں ہی کے کام آتی ہیں۔ دُنیا میں اب تک جتنے بھی لطیفے تخلیق کئے گئے ہیں، اُن میں سے بھاری اکثریت کا تعلق بیویوں ہی سے ہے۔
ریاضی کا عالمی مقابلہ غریب پاکستانی بچہ جیت گیا
ریاضی کا عالمی مقابلہ غریب پاکستانی بچہ جیت گیا
دنیا کی سب سے کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ارفع کریم اور او لیول کے امتحانات میں 22 مضامین میں اے گریڈ لے کر عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے علی معین نوازش کے بعد نامساعد حالات کے باوجود پاکستانی بچوں نے ایک بار پھر دنیا میں اپنی ذہانت اور قابلیت کا لوہا منوا لیا۔ آسٹریلیا میں ہونے والے 11 سے 13 سال کے بچوں کے درمیان ریاضی کے مقابلہ کو 13 سالہ پاکستانی بچے موسیٰ فیروز نے جیت کر گولڈ میڈل حاصل کرلیا‘ دوسری پوزیشن بھی پاکستانی بچے حسنین نے حاصل کی ہے۔ پہلی پوزیشن لینے والا موسی کبھی بھی پاکستان یا اپنے شہرسے باہر نہیں گیا اور ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے کبھی بھی غیر معمولی ٹیوشن یا دیگر ذرائع سے تعلیمی مدد حاصل نہیں کی وہ بس اپنے اسکول کے اساتذہ سے ہی پڑھتا ہے مگر اس کی ذہانت انتہائی غیر معمولی ہے۔ یہ مقابلہ آن لائن تھا اور اس میں دنیا بھر کے لاکھوں بچوں نے شرکت کی تھی۔آسٹریلیا نے پھالیہ کے پاکستانی طالب علم کو آسٹریلیا آنے کے پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے آسٹریلیا کی شہریت دی جاسکتی ہے۔ مقابلے میں دنیا بھر سے 100 سے زائد ممالک کے 15 لاکھ سے زائد بچی اور بچیاں شریک تھے۔ پہلی پوزیشن ضلع منڈی بہاؤالدین کے انتہائی پسماندہ علاقے پھالیہ کے 13 سالہ موسیٰ نے حاصل کر کے پوری دنیا میں پاکستانی پرچم سربلند کردیا۔
مائیکروسافٹ ونڈوز تاریخ کے آئینہ میں
مائیکروسافٹ ونڈوز تاریخ کے آئینہ میں
ہماری روزمرہ کی زندگی میں کمپیوٹر کا عمل دخل اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہر کام کو کمپیوٹرازڈ کیا جارہا ہے، ہم کمپیوٹر استعمال تو کرتے ہیں لیکن اس چیز سے نابلد رہتے ہیں کہ آخر یہ ونڈوز شروع کہاں سے ہوئی اور یہ چیز شروع میں دکھنے میں کیسی تھی. تو چند تصاویر پیش خدمت ہیں امید ہے معاون ہوںگی.
یہ ونڈوزکا پہلا ورژن ہے، یہ 1985میں لانچ ہوا اور اس کا نام ونڈوز 1.0رکھا گیا.اس ورژن میں سبھی اپلیکیشن فکس ہیں.

یہ ونڈوز کا دوسرا ورژن ہے، یہ 1987میںلانچ ہوا اور اس کا نام ونڈوز2.0رکھا گیا.اس میں کچھ پروگرام فکس جبکہ کنٹرول پینل متعارف کرایا گیا.























