آخر کار دوسری عالمی جنگ اپنے انجام کو پہنچی اور اپنے پیچھے ایسی تباہ کاریاں چھوڑ گئی جس کی مثال پوری دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، خاص طور سے جب کہ ایٹم بم سے دو جاپانی شہر “ہیروشیما” اور “ناگاساکی” پوری طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے اور دنیا دہل کر رہ گئی..
اور پھر دنیا نے ایک نئے دور کا آغاز کیا..
“یورپ” اور “ایشیا” قیدیوں اور مالِ غنیمت کی تقسیم کے بعد تعمیرِ نو کے کاموں میں لگ گئے، اور افریقہ ایک طویل جنگ میں گھسیٹے جانے کے بعد جس میں کہ اس کا دور تک کوئی لینا دینا نہیں تھا اپنی اکھڑی سانسیں سمیٹنے لگا..
رہا امریکہ تو اس کے تو گویا پر ہی نکل آئے اور وہ اپنی نئی طاقت کا مظاہرہ مختلف جشن مناکر کرنے لگا..
دن گزرتے گئے..
اور سب کچھ ٹھہر گیا..
لیکن امریکہ اپنے آپ کو دنیا کی سپر پاور کے طور پر دیکھنے اور برتاؤ کرنے لگا کیونکہ اس کے پاس ایسے ایٹمی ہتھیار تھے جو کسی اور کے پاس نہیں تھے چنانچہ دنیا کی کوئی بھی طاقت اس سے ٹکرانے کی ہمت نہیں کر سکتی تھی..
تقریباً دو سال بعد منگل 24 جون 1947ء کو امریکی نوجوان تاجر “کینتھ آرنلڈ” ریاست واشنگٹن کے وسطی پہاڑی سلسلے رینئر (Rainier) کے پہاڑ “مائٹی” کے بجھے لاوے کی چوٹی کے گرد اپنے دو انجن والے جہاز سے چکر لگا رہا تھا، مطلع بالکل صاف تھا اور آسمان بادلوں سے خالی تھا، وہ اس علاقے میں پراسرار طور پر غائب ہوئے امریکی فضائیہ کا ایک جہاز تلاش کر رہا تھا، امریکی فضائیہ نے جہاز یا اس کا ملبہ تلاش کرنے پر پانچ ہزار ڈالر کے انعام کا اعلان کیا تھا..
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔
دنیا کے خوبصورت ترین کرنسی نوٹ
آج مجھے ایک دوست کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں دنیا کے چند خوبصورت ترین نوٹ دکھائے گئے تھے اور مزے کی بات یہ کہ پاکستانی پانچ روپے کا نوٹ دنیا میں خوبصورت کرنسی میں دسویں نمبر پر رکھا گیا تھا ، میں نے سوچا کہ کیوں نہ یہ بات آپ سے بھی شئیر کی جائے۔

کوسٹاریکا کا پانچ کلون کا نوٹ جس پر کوسٹا ریکا کے صدر رافیل (1894 سے 1902) کی تصویر اور کوسٹاریکا کے قومی پھول کی تصویر موجود ہے، البتہ 2010 میں یہ نوٹ متروک قرار دے کر اسے نئے نوٹوں سے تبدیل کر دیا گیا۔

کینیڈا کا پانچ ڈالر کا نوٹ جس پر بچے ہاکی میچ کھیل رہے ہیں۔
ایک سردار میوزیم گیا،
وہاں اس سے ایک مجسمہ ٹوٹ گیا
آفسیر: جانتے ہو تم نے کیا کیا؟
سردار: کیا کیا؟
آفسیر: تم نے 5000 سال پرانا مجسمہ توڑ دیا
سردار: شکر واہے گرو دا میں سمجھدا سی نواں اے
لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرو
اللہ تمہارے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا
اور اللہ کی پیدا کی ہوئی آسانیاں تمہاری آسانیوں سے بہت بہتر اور بڑی ہوں گی۔
نہیں ممکن اندھیروں میں چراغوں کا بجھا دینا
بہت مشکل ہے میری جاں تمہیں دل سے بھلا دینا
تمہیں اک دن ستائیں گے میری چاہت کے سب جذبے
میری غزلیں، میری نظمیں ، میرے خط بھی جلا دینا
کبھی جو یاد آؤں میں تمہیں فرصت کے لمحوں میں
حسیں ہاتھوں سے کاغذ پہ مجھے لکھنا اور مٹا دینا
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔
مشتاق احمد یوسفی ۔۔۔
ایک ایسا نام جس کے بارے میں کہا گیا “الفاظ خود کو یوسفی سے کہلوا کر فخر محسوس کرتے ہیں”
اور ابن انشاء جیسے عظیم ادیب کا قول تو ان کے لئے ایک اعزاز ہے۔۔
“ہم مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں”
ان کی باتوں اور اقتباسات کا کچھ ذکر ہو جائے۔
ایک جگہ فرمایا ۔۔۔
“انسان کتنا ہی ہفت زبان کیوں نہ ہو جائے، گالی، گنتی اور گانا اپنی زبان میں ہی کہتا ہے”
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔
ٹربیلنکا کا جھوٹ
حال ہی میںجھوٹ کا ایک اور شاہکار سامنے آیا ہے۔ یہ ٹربیلنکا کیمپ (پولینڈ) کے سابق کمانڈنٹ فرانزسٹانگل کی آپ بیتی ہے اس شخص کو دسمبر 1970 میں پولینڈ کی ایک عدالت نے عمر قید کی سزا دی۔ آپ بیتی کے اقتباسات 8 اکتوبر 1971 کے ڈیلی ٹیلیگراف (لندن) میںایک مضمون میںشائع ہوئے۔ لکھا تھا کہ یہ ایک انٹرویو پر مبنی ہیں جو فرانزسٹاگل سے قید خانے میں لیا گیا۔ وہ انٹرویو ختم ہونے کے چند روز بعد مر گیا۔ اب تک جتنی آپ بیتیاں چھپی ہیں یہ آپ بیتی ان میں سب سے خونیں اور انوکھی ہے اور کچھ اس طرح اوٹ پٹانگ انداز میں لکھی گئی ہے کہ خود مضمون نگار کو تسلیم کرنا پڑا کہ سٹانگل کے مقدمے میں پیش کی جانے والی شہادت سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس نے قتل کے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ مضمون نگار کے بقول آپ بیتی کا وہ حصہ تو خاصا من گھڑت ہے جس میں سٹانگل نے اپنی پولینڈ کی زندگی کے ابتدائی ایام کی داستان بیان کی ہے۔ ٹربیلنکا کے پہلے دورے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے
پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔