کہانی تھک چکی ہے … قمر ساجد

Kahani Thak Chuki Hay :: کہانی تھک چکی ہےقمر ساجد کا پہلا شعری مجموعہ میرے سامنے ہے اور میں ایک خوشگوار حیرت سے دوچار ہوں۔ اس مجموعے میں شامل غزلوں ، نظموں کی سب سے بڑی خوبی موضوعات کا تنوع اور انہیں  مشاہداتی سچائی کو مسخ کئے بغیر پیش کرنے کا براہ راست عمل صاف نظر آتا ہے۔ گنجلک علائم کی بھرمار، ناقابل فہم و تفہیم استعاروں کی سرحدوں سے باہر جاتی ہوئی فکری بے راہ روی جو آج شاعری کے تساہل پسند شعرا کی خصوصیت بن چکی ہے ہمیں قمر ساجد کے یہاں نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے قمر ساجد کے شعری رویے کو ڈائرکٹ اپروچ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی کہ فنکار اپنے مشاہدات و تجربات کا بیان کچھ اس صفائی اور مہارت سے پیش کرے کہ ایک طرف حقیقی مشاہدہ اور تجربہ نمایاں نظر آئے اور دوسری طرف بیان کے مختلف ٹکڑوں کی ہم آہنگی سے کسی نئی حقیقت کا امکان روشن ہوتا ہوا نظر آئے۔ قمر ساجد کی شاعری میں حقیقت کا انکشاف مشاہدات و تجربات کے براہ راست بیان سے ہوتا ہے۔ مجھے قمر ساجد کی شاعری میں یہی رویہ کار فرما نظر آتا ہے، ان کے یہاں معروضی مشاہدات کی جزئیات اپنے اختتام پر کسی حقیقت کے اسرار کی نقاب کشائی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ حقیقت معلوم اور نامعلوم کے درمیان کہیں موجود ہے اور قمر ساجد اسے ہمارے ادراک کا حصہ بنا دیتے ہی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*