شازل کا بلاگ

Just another WordPress site

گوگل گریوٹی

جنوری3

بات اگرچہ کچھ ایسی نہیں کہ ایک عدد پوسٹ ماری جائے لیکن تجربہ اتنا دلچسپ ہے کہ شیئر کئے بنا رہا نہیں جاتا۔
اس لنک پر کلک کریں اور دیکھیں کہ کیا وقوع پزیر ہوتا ہے۔
ہے نا مزے کی ٹپ؟

پانی پہ مکاں

دسمبر26

کافی دن انٹرنیٹ سے دور رہنے کے بعد میری واپسی ہوئی ہےامید ہےکہ یہ سلسلہ اب جاری رہے گا۔ دور رہنے کی وجہ تو کوئی نہیں تھی لیکن اب اچانک واپسی میں کئی عوامل کارفرما ہیں۔ابھی کل ہی بات ہے ایک جاننے والے مجھے ایک مسئلے کے سلسلے میں لے گئے ان کے کمپیوٹر میں وائرس تو تھا ہی لیکن وہ اس سے پریشان نہیں تھے کیونکہ یہ کوئی انوکھی بات نہیں رہی ، ہر ایک کو انہی شیطانوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، بات اصل میں یہ تھی کہ وہ پورن سائٹس کے بند ہوجانے سے پریشان تھے۔ مجھے انہوں نے کچھ لنکس دیے کہ میں انہیں چیک کروں واقعی سائٹس دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔ مجھے خیال گزرا کہ شاید حکومت نے انہیں بند کردیا ہےلیکن آج اچانک ہی ایس ایم ایس ملا کہ آپ کا خیال غلط تھا لنکس اب کھل رہے ہیں۔
ہماری نوجوان نسل کدھر جانکلی ہے اگر اس مرحلہ پر انہیں روکا نہ گیا تو یہ نشہ ان کی رگ رگ میں سما جائے گا (کچھ حد تک شاید سما بھی چکا ہو)۔انہیں کچھ حد تک آزادی دینا ہوگی لیکن واننگ کے ساتھ ۔ کچھ عرصہ پہلے ہم نے فیس بک کا بائیکاٹ کیا تھا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا کچھ دوستوں کا موقف تھا کہ ہمیں میدان نہیں چھوڑنا چاہئے تھا بلکہ میدان میں رہے کر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے اور جزباتی ہوناخود ہمارے لیے ہی خطرناک ہوگا اور اپنا نقصان کریں گے کسی اور کو کیا پڑی ہے کہ وہ ہمارے احتجاج کو اہمیت دے بلکہ دلائل اور متحد ہوکر مقابلہ ان کا مقابلہ کرنا چاہئے۔
مجھے اب بھی ان لوگوں کے پیغامات ملتے رہتے ہیں جو فیس بک سے ریلٹیڈ ہوتے ہیں ایک عرصہ تک انہیں نظر انداز کرتا رہا بحث کرنے کو دل کرتا رہا لیکن خود پر قابو پانا تھا سو پایا لیکن ایک واقعے نے مجھ پر اپنی گرفت پالی ، وہ واقعہ دہرانا نہیں چاہتا لیکن اس وقت اگر ہم میدان میں رہ کر مقابلہ نہ کرتے تو کوئی کامیاب ہوجاتا اور اب تک شیر ہوچکا ہوتا مگر ہم سب کی کوششوں سے راکھشس پر قابو پایا جاچکا ہے، ایسا ہی ردعمل اگر ہم فیس بک پر دکھاتے تو پتھر پر بوند بوند پانی گرنے سے کچھ نقش ان کے دل پر بھی ابھر چکا ہوتا۔ (جاری ہے)

فرق؟

نومبر29

پاکستان میں امریکہ یا نیٹو کے ہاتھوں کئی لوگوں کی جان جاچکی ہے جن میں اکثریت بےگناہ لوگوں کی تھی لیکن ہماری سپاہ ہمیشہ اس کاالزام حکومت کو دیتی رہی کہ وہ ہمیں اجازت نہیں دیتی ورنہ ہم بھی حملے روک سکتے ہیں۔
یکایک سپاہ غیرت کیوں کھا گئی کہ اس نے تندوتیز بیان جاری کردیے۔ کیا پہلے بھی پاکستانی نہیں‌مرتے رہے نیٹو یا امریکہ کے ہاتھوں۔
کیا اس لیے کہ حملے میں ان کے لوگ مارے گئے ہیں۔
کیا سویلین جانور اور خچر ہیں جو وہ مرتے رہے تو کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی اور اب انسان مرے ہیں تو غیرت آنے لگی۔

ووٹ برائے فروخت

نومبر26

آجکل بلاگ ایوارڈ کا بہت چرچاہے ہرایک اپنے بلاگ کے لیے ووٹ مانگتا پھر رہا ہے
ووٹ چاہے قومی اسمبلی کا ہو یا یونین کونسل کا اس کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ کسی سیاسی نمائندے سے ووٹ کے بدلے ہم گلی یا ٹرانسفارمر کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔لیکن بلاگرز سے بھلا کیا مانگیں وہ تو پہلے ہی بھکاری بنے ہوئے ہیں۔ نہ ان کے پاس اب کچھ ہے اور نہ بعد میں‌کچھ ہوگا، نہ وہ گلی بنوا کر دے سکتے ہیں اور نہ ہی ٹرانسفارمر لگا کردے سکتے ہیں۔
ایک دوست کا کہنا ہے کہ ان سے کچھ مانگ کرتو دیکھیں۔ کیا پتہ آپ کی قسمت کھل جائے۔ کہنا تو ان کا بھی بجا ہے لیکن۔۔۔
اس لیکن کے بعد میری تو بولتی ہی بند ہوجاتی ہے۔
ایک ووٹ کےبدلے شکریہ تو ادا کرسکتےہو۔ چاہے بعد میں کچھ بھی کہہ دینا۔ اب تو آپ بھی مجبور ہو تو کیا خیال ہے؟

لانڈری والے

نومبر13

ان دنوں تبدیلی اور انقلاب کی کافی باتیں‌ہورہی ہیں، لوگ پرانے چہروں سے اکتاگئے ہیں یہ تاثر جان بوجھ کر پھیلایا جارہا ہے، تبدیلی کیسے آئے گی کیا صرف سیاستدان ہی اس تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہیں؟ “لانڈری” والوں‌نے تو یہی سوچ ٹھونسنی شروع کردی ہے اور ہم ایک بار پھر دام میں آنے والے ہیں۔دوتین سال نکالنے کے بعد لانڈری والے ایسی ہی سوچ پھیلاتے ہیں اور بالاخر سب کچھ “صاف” ہو جاتا ہے۔
کیا کوئی ایسا سیاستدان ہوگا جو ان لانڈری والوں کو بھی احتساب اور اثاثہ جات کے بارے میں پوچھ گچھ کرے گا؟
شاید
انقلاب تب آئے گا جب ان لانڈریوں کا “صفایا” ہوگا ورنہ پھنے خان کچھ بھی کہتا رہے انقلاب تو آنے سے رہا۔

شدید خواہش

اکتوبر10

آج عمران الرشید نے ایک کالم لکھا ہے اس کی ابتدائی دولائنیں‌ملاحظہ فرمائیں
“عمران خان کے کارکن گھروں میں بیٹھ رہنے کی بجائے اگربروئے کار آئے تو آئندہ الیکشن میں نواز شریف اور شہباز شریف سمیت نون لیگ کا کوئی ایک امیدوار بھی لاہور میں شایدآسانی سے سرخرو نہ ہو سکے ۔”
وہ بات جس میں‌اکثر تکرار کرتا ہوں کہ ایجنسیوں نے اپنا کھیل شروع کردیا ہے اور سارے مہرے بادشاہ سمیت ایک ہی جماعت کو روکنا چاہتے ہیں۔ روایت رہی کہ جس کی حکمومت ہوتی ہے اپوزیشن یا مخالفین اسی کے خلاف اپنا زرو بازو یا زور قلم آزماتے ہیں‌لیکن حیرت ہےکہ ناکام حکومت ہوئی ہے اور الزامات کی ذد میں نوازشریف آرہاہے۔ راتوں رات عالیشان دفاتر بنادیے گئے ایک مہم چلائی جارہی ہے۔ اچانک فوج کو کوسنے دینے بند کرکے نوازشریف کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کردیا گیاہے۔ پچھلے دنوں عطاالحق قاسمی نے اسی بات کی نشاندہی کی تو گالیوں کا ایک طوفان امڈ آیا تھا عمران یقینا ایک اچھا آدمی ہوگا لیکن اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں‌میں‌کھیل رہا ہے اسٹیبلشمنٹ سے قریب کرنے میں ہارون الرشید نے نہایت ہی اہم کردار ادا کیا ہے اور فی الحال وہی ان کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے۔
اوپر جو لائن کوٹ کی گئی ہے اس کے مطابق اس کی شدید خواہش بن چکی ہے کہ عمران خان نواز شریف کا متبادل بن جائے ایک اخبار نویس کو اس قدر بھی جانبدار نہیں‌ہونا چاہئے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے اخبار نویس باقاعدہ مشاہرے پر کام کررہے ہیں۔عمران فی الوقت وزیراعظم نہیں بنے گا جس طرح اس نے سٹہ بازوں‌ کو ببانگ دہل کہا ہے اسی طرح میں‌بھی کہتا ہوں‌کہ یہ اسوقت وزیراعظم نہیں‌بن سکتا۔ہاں‌یہ روڑے ضرور اٹکا سکتا ہے۔اور بن بھی گیا تو اس ملک کی بدقسمتی ہوگی یہ بھی لکھ لیں۔اس کو اپنی ہی عزت پیاری ہے ماضی میں اس بات کی کئی مثالیں‌موجود ہیں جب اسے کپتان بنا دیا جاتا تھا وہ بھی بغیر ملکی یا غیرملکی سطح کی کرکٹ کھیلے بغیر۔ شاید یہ سیاست میں بھی اسی طرع کے میانداد کی تلاش میں ہے جو رضاکارانہ طور پر اسےکے لیے وزارت عظمٰی چھوڑ دے۔ یہ اسی نواز شریف کو آج بدنام کررہا ہے جس نے اس کے ذاتی منصوبے یعنی شوکت خانم کے لیے زمین دی تھی جس کے بل پر آج یہ سیاست کررہاہے۔

کوک

اگست4

بہت سے دوستوں کا میرے بارے میں خیال ہے کہ میں جذباتی ہوں اور ہوش و خرد سے بے گانا ہوجاتا ہوں۔میرا بھی اپنے بارے میں یہی خیال ہے۔
کئی لوگ رو میں آکر اپنے تئیں خدا کی نگری سے نکل جاتے ہیں جیسا کہ ہم نے حال ہی میں دیکھا کہ ایک صاحب خدا پر باتیں‌کرنے لگے۔ استغفراللہ
میں خیر خدا کی نگری سے تو نہیں‌لیکن بلاگ یا انٹرنیٹ کی دنیا کو تیاگ رہا ہوں۔
اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے یہ مجھے بھی نہیں‌معلوم۔ میں یکسانیت سے جلد اکتا ہوجاتاہوں شاید اسی لیے تبدیلی چاہتا ہوں۔
مجھے معلوم ہے یہ میرے لیے ایک بہت مشکل فیصلہ ہے لیکن میں نے ہمیشہ دل کی بات مانی ہے۔ اگر دماغ کی کچھ مانی ہوتی تو شاید حالات کچھ اور ہوتے۔
کتنے دن میں انٹرنیٹ اور بلاگ سے دور رہوں گا یہ میں نہیں‌جانتا۔ شاید کسی دن ذہنی رو بہکی تو واپس لوٹ آؤں۔
کچھ دوستوں کو میں بہت مس کروں گا شاید وہ بھی۔ لیکن یہ دنیا بڑی بے درد ہے بڑے بڑے زخم بھر جاتے ہیں۔
ایک دن میں خواب آور گولیاں پھانکتے ہوئے خوب رویا تھا دنیا چھوڑنے کا کس کا دل چاہتا ہے۔
آج بھی میرا دل چاہتا ہے خوب روؤں۔

عمران الرشید

جولائی21

ہارون الرشید بزرگ صحافی ہیں اور کھرے بھی۔ بزرگ اور کھرے میں‌ کافی فرق ہے اکثر بزرگ کھرے نہیں‌ ہوتے ، دور اندیش اور جہاندیدہ ہوجاتے ہیں، زمانے سے سمجھوتہ کرلیتے ہیں کہ ساری عمر چیخ چیخ کر گلا بیٹھ گیا زمانہ نہ سدھرا اور نہ سدھرے گا اس لئے بقیہ عمر اسی زمانے کے ساتھ گزاری جائے۔
انہوں نے عمران خان سے لو لگائی اور اب ہر قالم میں عمران کے بغیر ان کا کالم مکمل نہیں‌ ہوتا۔ وہ فوج کے سپہ سالار سے بھی انس رکھتے ہیں اس لیے عمران خان کے لیے انہوں نے فوج میں گوشہ نرم کرلیا ہے اب عمران بھی دور اندیش ہوگئے ہیں،فوج کے خلاف بات کئے ہوئے انہیں‌ ایک عرصہ ہوگیا ہے۔
پہلے بھی اس پر بات ہو چکی ہے کہ عمران خان کا اقتدار میں آنا بہت ہی مشکل ہے۔ وہ جمہوری طریقے سے نہیں‌ آسکتے، چور دروازے سے ہی آسکتے ہیں اور یہ کوئی الزام نہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں‌ عوام اپنے لیڈروں کی پوجا کرتے ہوں‌ انہیں‌ غلیطیوں سے پاک اور معصوم قراردیتے ہوں ۔ کوئی کسیے ان کی جگہ لے سکتا ہے۔ ذرداری سے لاکھ بیزاری سہی ان کا ووٹ بینک اب بھی محفوظ ہے۔ سندھ میں‌ ذوالفقار مرزا ایسے لوگ ان کا زہریلا ہتھیار ہیں۔
پنجاب تو نوازشریف کا ہے ہی، پیپلز پارٹی بھی ایک محفوظ ووٹ بینک رکھتی ہے۔
رہ گیا خیبر پختوانخواہ تو وہاں کھچڑی بنی ہوئی ہے۔ وہاں انہیں‌ کچھ سیٹیں مل سکتی ہیں۔ لیکن یہ صرف اندازہ ہے۔ اتنی تگ و دو کے بعد کوئی انہیں‌ حساس صوبے کی حکومت کیسے سونپ سکتا ہے۔ رہ گیا بلوچستان تو وہاں‌ مخصوص خاندانوں ہی کا قبضہ ہے۔
ان تمام باتوں کے باوجود ایجنسیاں‌ کیونکر اسے پروان چڑھا سکتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایجنسیاں عمران خان کا استعمال کرکے سیاستدانوں کو بدنام کرکے اپنا راستہ صاف کرنا چاہتی ہیںِ۔ بھلا بتائے کہ ایک ایسا بندہ جو امریکہ سے نفرت کا اظہار کرتا رہتا ہے امریکہ اس کو اقتدار میں آنے دے گا۔ عمران خان کا کردار صرف اتنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ووٹ توڑے اور یوں‌ ملک میں مستحکم حکومت کا خیال صرف خیال ہی رہے۔

گوگل پلس ممبرشپ

جون30

ہم بھی گوگل پلس کے ممبر بن گئے میں نے سرسری دیکھا ہے کہ 33 کے قریب لوگوں کو میں انویٹیشن بھیج سکتا ہوں اب سمجھ نہیں‌آرہی کہ کس کو بھیجوں۔ یہاں کوئی ایسا بندہ دکھائی تو نہیں‌دیتا جسے انوائیٹ کروں۔ ( مذاق)
ویسے انٹرفیس کچھ متاثر کن دکھائی نہیں‌دیتا لیکن رفتار بہرحال فیس بک سے اچھی ہے۔ ابھی چونکہ ٹیسٹنگ کے مرحلے میں‌ ہے اس لیے فیچرز شاید محدود ہیں۔ بہرحال گوگل کی طرح سادہ انٹرفیس اسکی خوبی بن سکتی ہے۔ کچھ دوستوں کو ایڈ بھی کرلیا ہے جو میرے ای میل سے کنکٹ تھے۔ اگر انہیں‌میرا میسج ملے تو شاید وہ اس تک رسائی نہ پاسکیں کیونکہ انہوں نے فرمایا ہے کہ
“– An important note about Field Trial –
You’re part of a small group of people who are helping to test Google+. When you share something with people who are not yet able to use Google+, they will receive it via email but won’t be able to comment or engage with the content like other Google+ users. They’ll be able to join Google+ as we let more users in over time.”
گوگل نے ایک اور کوشش کی ہے سوشل نیٹ ورکنگ کے میدان میں‌۔ اب دیکھنا یہ کہ اورکٹ کی طرح یہ “پروڈکٹ” کس طرح لوگوں کی توجہ چاہتی ہے۔

آہو

جون28

تو واضح ہوگیا کہ اس نے عیسائیت کو پسند کرلیا ہے اور اسے قبول کرلیا ہے۔ ویسے میرا شروع میں اندازہ تھا کہ یہ یہودیت میں داخل ہے لیکن بلاآخر اس نے عیسائیت کو اپنے لیے بہترین مذہب اختیار کرلیا ہے۔ امید ہے کہ اس نے باقی ساتھیوں‌ کی طرح سور کا گوشت بھی اپنے لیے پسند کرلیا ہوگا کیونکہ عیسائی سور کو بہت پسند کرتے ہیں اس کی طرح “برتاؤ” کرتے ہیں۔ اور بے غیرتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
ایک دوست نے کہا ہے کہ فہرست طویل ہے ایک امریکن اور کنیڈین بھی ہے۔
شکر ہے کہ آپ نے بتادیا ورنہ میں تو انڈین پر ہی لعنت کرکے لمبی تان کر سورہا تھا۔ ——————————————–
——————————————————-
——————————————————-
——————————————————-
—— (ایڈٹ شدہ)
کھوتے نے وی کہویں کہ ساری غلاظت ترے بوتھے تے۔
آہو۔۔۔

« Older Entries