مصنف: شازل
30 - جولائی - 2010

انتہا پسند

ایک شخص نیویارک کے سنٹرل پارک میں ٹہل رہا تھا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ ایک چھوٹی بچی پر بل ڈاگ نے حملہ کردیا ہے۔ وہ کتے کو روکنے کے لیے بھاگا۔ ۔ ۔ اس دھینگا مشتی میں‌ لڑکی کی جان تو بچ گئی لیکن کتا جان سے گیا۔ ایک رپورٹر جو وہاں سے گزر رہا تھا اس نے تمام واقعہ ملاحظہ کیا۔ وہ اس شخص کے پاس آیا اور کہا “تم ایک ہیرو ہو، کل تمام اخبارات میں یہ لکھا ہوگا کہ کس طرح ایک نیو یارکر نے ایک بچی کی جان بچائی“۔
“لیکن میں‌نیویارکر نہیں‌ہوں“ اس شخص نے وضاحت کی۔
“اوہ! تب تم یہ خبر ملاحظہ کرو گے کہ ایک بہادر امریکی نے کس طرح ایک بچی کی جان بچائی“۔ رپورٹر نے کہا۔
“لیکن میں امریکن بھی نہیں‌ہوں“۔ اس شخص کی طرف سے جواب ملا۔
“تو تم کس جگہ سے تعلق رکھتے ہو؟“ رپورٹر جھلا گیا۔
وہ شخص بولا “میں ایک سعودی ہوں“۔
دوسرے دن اخبارات کی سرخی تھی۔ “اسلامک انتہا پسند نے سنڑل پارک میں کتے کو موت کی نیند سلا دیا“۔

مصنف: شازل
29 - جولائی - 2010

مووی فلکرننگ: ایک حل

چند دن پہلے ایک فلم ڈاؤنلوڈ کی تھی جسے دیکھنے کی حسرت ہی رہی کیوں کہ تصویر بار بار جھپکتی (فلکرننگ کرتی) تھی اور ایک جگہ ٹھہر کے نہیں دیتی تھی۔ صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ لیکن اتنا کیا کہ فلم کو ڈیلیٹ نہیں‌کیا۔ کل اچانک ہی اس کا حل مل گیا۔ میں ٹورینٹ پر سرچ کررہا تھا کہ بالکل اسی قسم کا مسئلہ سامنے آگیا۔ سو حل حاضر ہے
سب سے پہلے آپ VLC Media Player کو انسٹال کریں۔ انسٹال کرنے کے بعد اس فلم کو وی ایل سی پلیئر میں کھولیں جو کہ فلکرننگ کررہی ہے۔ مینو میں ٹولز پر کلک کریں اور پھراسی مینو میں Effects and Filters پر۔ نئی ونڈو سامنے آجائے گی جہاں پر آپ نے Video Effects کے ٹیب کرکلک کردینا ہے۔ یہاں ذیلی ٹیب امیج موڈیفکیشن کے نام کی ہوگی، اس پر جاکر Motion Blur کے آگے چیک لگا کر نیچے سلائیڈر کو کافی درمیان میں کردینا ہے، یعنی کم کردینا ہے اور پھر اپلائی کردیں۔ اس سے فلم بالکل اسموتھ طریقے سے دکھائی دے گی۔ آپ اپنے مطابق سلائیڈر میں کمی بیشی کرسکتے ہیں امید ہے کہ یہ چھوٹی سے ٹپ آپ کے بہت کام آئی گی۔

مصنف: شازل
27 - جولائی - 2010

گوگل امیجز: بنگ ؟ شاید!

لو جی گل ای مک گئی۔ گوگل نے بنگ کی دیکھا دیکھی گوگل امیجز کی بناوٹ بھی تبدیل کردی ہے۔ میں نے ایک پوسٹ کچھ اسی قسم کی پہلے بھی لکھی تھی کہ کس طرح گوگل نے بنگ کی دیکھا دیکھی بیک گراونڈ کا آپشن دیا تھا۔ جوابا بہت سے دوستوں‌ نے اعتراض کیا تھا کہ آسک جیوز (شاید) پہلے ہی اس قسم کی سہولت دے رہا تھا۔ اب میں کیا کروں کہ گوگل امیجز بھی بالکل بنگ ہی کی طرح امیجز ڈسپلے کررہا ہے۔(انداز پھر بھی بنگ کا علیحدہ ہی ہے )اور سچ مانئے کہ یہ بہت ہی اچھا لگ رہا ہے۔ گوگل نے پتا نہیں‌کس کو فالو کیا ہے یا نہیں‌لیکن پس منظر میں بنگ ہی دکھائی دے رہا ہے۔ چند روز میں شاید کوئی اور تبدیلی بھی دکھائی دے جو صرف بنگ کا ہی خاصا ہے ایک بات ہے کہ گوگل ، گوگل ہے چاہے کتنے ہی بنگ اس کے مقابل آجائیں لیکن دور کہیں ایک ایسی سوچ بھی موجود ہے جو بنگ کو سراہتی ہے

مصنف: شازل
17 - جولائی - 2010

ہالوکاسٹ: ٹربیلنکا کا جھوٹ

حال ہی میں‌جھوٹ کا ایک اور شاہکار سامنے آیا ہے۔ یہ ٹربیلنکا کیمپ (پولینڈ) کے سابق کمانڈنٹ فرانزسٹانگل کی آپ بیتی ہے اس شخص کو دسمبر 1970 میں‌ پولینڈ کی ایک عدالت نے عمر قید کی سزا دی۔ آپ بیتی کے اقتباسات 8 اکتوبر 1971 کے ڈیلی ٹیلیگراف (لندن) میں‌ایک مضمون میں‌شائع ہوئے۔ لکھا تھا کہ یہ ایک انٹرویو پر مبنی ہیں جو فرانزسٹاگل سے قید خانے میں لیا گیا۔ وہ انٹرویو ختم ہونے کے چند روز بعد مر گیا۔ اب تک جتنی آپ بیتیاں چھپی ہیں یہ آپ بیتی ان میں ‌سب سے خونیں اور انوکھی ہے اور کچھ اس طرح اوٹ پٹانگ انداز میں لکھی گئی ہے کہ خود مضمون نگار کو تسلیم کرنا پڑا کہ سٹانگل کے مقدمے میں پیش کی جانے والی شہادت سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس نے قتل کے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ مضمون نگار کے بقول آپ بیتی کا وہ حصہ تو خاصا من گھڑت ہے جس میں سٹانگل نے اپنی پولینڈ کی زندگی کے ابتدائی ایام کی داستان بیان کی ہے۔ ٹربیلنکا کے پہلے دورے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے “ جونہی گاڑی اسٹیشن کے قریب پہنچی ساتھ والی پٹری کے دونوں طرف سینکڑوں نہیں ہزاروں لاشیں بچھی دکھائی دیں۔ ان میں سے اکثر گل سٹر چکی تھیں۔ اسٹیشن پر پہنچا تو ایک گاڑی یہودیوں سے بھری کھڑی تھی۔ کچھ لوگ مر چکے تھے اور کچھ ابھی تک زندہ تھے یوں نظر آتا تھا جیسے یہ قتل عام کئی روز پہلے ہوا ہو“ اس بے سروپا کہانی کا کلائمکس وہ ہے جب سٹانگل کہتا ہے “میں ڈبے سے نکلا تو میری ٹانگیں گھٹنوں تک پلیٹ فارم پر بکھرے ہوئے روپوں میں دھنس گئیں۔ مجھے کہیں جانے کو رستہ نہ ملتا تھا۔ آخر نوٹوں، روپوں، پیسوں، جواہرات، زیوروں اور کپڑوں کے انبار میں سے گزرتا ہوا نکلا۔ پلیٹ فارم پر جدھر نگاہ اٹھتی تھی یہی چیزیں پڑی تھیں۔“ لیکن ابھی یہ منظر مکمل نہیں ہوا۔ سٹانگل کہتا ہے “ خاردار تاروں کے جنگلے کے پار وارسا کی طوائفیں جمع تھیں اور نشے میں دھت ناچ رہی تھیں۔ گار رہی تھیں اور آلات موسیقی بجا رہی تھیں۔ پلیٹ فارم پر پھیلا ہوا گھٹنوں تک گہرا نوٹوں اور زیورات کا سمندر اور اس سمندر میں تیرتی ہوئی ہزاروں گلی سڑی لاشیں اور گاتی بجاتی طوائفیں ۔ ۔ ۔“ کیا اب بھی آپ کو اس داستان کی صداقت پر یقین نہیں آئے گا؟ (جاری ہے).

مصنف: شازل
16 - جولائی - 2010

پی ٹی سی ایل : اور کیا چاہیئے

پی ٹی سی ایل جیسے ادارے کو جب بیچا جارہا تھا تو بہت سے لوگوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ سب سے زیادہ تکلیف ان لوگوں کو تھی جو اس سے متاثر ہورہے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اس سے جان چھڑانا چاہتے تھے، وجہ اس کی یہ تھی کہ موبائلز کی آمد نے پی ٹی سی ایل کی اجارہ داری ختم کرکے رکھ دی تھی۔ جیسا کہ توقع کی جارہی تھی کہ اتصلات کے پیش نظر بھی یہ باتیں ہونگی اور وہ مسابقت کی فضا کو قائم رکھے گا۔ براڈ بینڈ کے مختلف پیکجز نے عام لوگوں تک رسائی ممکن بنا دی اور یوں پی ٹی سی ایل اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب ہوگیا۔ موجودہ پیکج کے لاگو ہونے کے ساتھ ہی ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس میں دو ایم بی کے کنکشن کو چار ایم بی سے بدل دیا گیا ہے اور چار ایم بی کو چھ ایم بی سے۔ ساتھ ہی ایک نیا 8 ایم بی کا پیکج بھی متعارف کرادیا گیا ہے
اب 15 جولائی سے ریٹس کچھ یوں ہونگے۔
1Mbps at Rs 1199
4Mbps at Rs 1999
6Mbps at Rs 4999
8Mbps at Rs 6999
ذرا ڈائل اپ کا تصور کریں اور پھر آٹھ ایم بی کا تو آپ حیران ہوجائیں گے کہ حالیہ برسوں میں کیا خوب ترقی ہوئی ہے۔ اگرچہ اس سے وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو فلموں اور گیمز کے شوقین ہیں۔ اسے اگر کچھ لوگ ترقی سمجھتے ہیں تو سمجھا کریں ہماری بلا سے۔ مجھے تو اس پیکج سے فی الحال فائدہ نہیں‌ہونے والا کیونکہ ایک ایم کو ڈبل نہیں‌کیا گیا ہے۔ البتہ مستقبل میں امید کی جاسکتی ہے کہ ہم بھی چار ایم بی کی اسپیڈ سے مستفید ہو سکیں۔ فی الحال آپ تو مزے کریں۔

مصنف: شازل
09 - جولائی - 2010

پی ایچ پی بی بی تھری:‌ نیا ورژن

چند دن پہلے ماجد بھائی نے مجھے اردو نامہ کی “اپڈیشن” کے لیے کہا تو میں ٹال مٹول کرنے لگا۔ ایک عرصہ ہوا میں نے پی ایچ پی بی بی تین “سافٹ ویئر“ کو چھوا بھی نہیں تھا۔ ادھر ایک ساتھ کئی پروگرامز کو وقت دے کر میں نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی چلائی۔ سب چیزیں گڈ مڈ ہورہی تھیں اور اوپر سے بھولنے کی عادت سونے پر سہاگا ہے۔ بہرحال میں نے موڈ بنتے ہی اردو نامہ کو اپ ڈیٹ کرہی ڈالا۔ لیکن بغیر کسی بیک اپ کے۔ یہ بلاشبہ ایک بہت بڑا رسک تھا شکر ہے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوا۔ کچھ ٹائم بچا تو میں نے ایک نئے آئیڈیے کے تحت phpbb3 کے نئے ورژن کو انسٹال کیا اور ایک تھیم بھی چن کر لگا لی۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس نئے ورژن میں کوئیک رپلائی کا آپشن بلٹ ان موجود تھا(اگرچہ یہ آپشن پہلے بھی موجود تھا لیکن تھوڑی محنت کےبعد حاصل ہوتا تھا )جبکہ فیڈز بھی موجود تھیں بس انہیں ایکٹو کرنا تھا۔ ان خوبیوں کے ہوتے ہوئے کئی لوگ محتاجی سے بچ جائیں‌گے، خود مجھے کئی لوگوں‌کے پیغام ملتے ہیں کہ کوئیک رپلائی کا موڈ انسٹال کرکے دوں۔ اللہ بھلا کرے مکی بھائی کا انہوں نے مجھے ایک تھیم بنا کردی تھی، جس کی دیکھا دیکھی میں نے کئی تھیمز بنا ڈالیں۔ اردو نامہ کی موجودہ تھیم بھی میری کاوش ہے۔ اگرچہ یہ اس وقت بنائی تھی جب میں‌نوآموز تھا (اب بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا) اس لئے کئی خامیاں موجود ہیں لیکن وقت ہی نہیں‌ملا کہ اس تھیم سے مذید کوئی چھیڑ چھاڑ کی جائے۔ ماجد بھائی کی یہ پسندیدہ تھیم ہے چاہے میں ایک سے ایک تھیم چن کر کیوں نہ لاؤں وہ اسے ہی رکھنا پسند کرتے ہیں۔ میں نے شکریہ کا موڈ کسی اور تھیم پر لگایا تو بھی انہوں‌نے تھیم نہ بدلی۔ ایک موڈ ہے جسے اردو نامہ پر لگانے کی حسرت ہے۔ حسرت یوں کہ میں‌نے یہ موڈ کئی جگہ بڑی آسانی سے لگایا ہے لیکن اردو نامہ پر جانے کیوں مائی ایس کیو ایل کا ایرر آجاتا ہے۔ یہ موڈ تازہ ترین پوسٹ کی پٹی کا ہے جسے ایک جگہ سے حاصل کرکے لگانے کی تمنا اب دم توڑ گئی ہے۔ ماجد بھائی کا کہنا ہے کہ لوکل ہوسٹ پر سے اس کی ٹیبل کو اٹھا کر انہیں دے دوں تو کام بن جائے گا۔ اب ان سے کیسے کہوں‌کہ ٹیبل کو کیسے اٹھایا جاتا ہے۔ ماجد بھائی اس کام کے ماہر ہیں۔ شروع کے دنوں‌ میں‌جب ہم فری ہوسٹ سے پیڈ ہوسٹنگ پر منتقل ہورہے تھے تو ایسے ایسے ایررز سے واسطہ پڑا تھا کہ میں ہوتا تو مایوس ہوکر تائب ہوجاتا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اردو نامہ کے ڈیٹابیس کو منتقل کرکے ہی دم لیا۔ مزے کی بات یہ تھی کہ جس فری ہوسٹ پر ہم موجود تھے وہ ڈیٹابیس کے بیک اپ کی اجازت ہی نہیں دیتا تھا۔
phpbb3 کے نئے ورژن میں وہ سب کچھ ہے جس کا تصور کیا جاسکتا ہے، ہزاروں کی تعداد میں موڈز اور اسٹائلز کی موجودگی اس بات کا مظہر ہے کہ لوگ کس قدر اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر لاجواب سپورٹ ہے جو کسی بھی سافٹ ویئر ، اسکرپٹ یا او ایس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ بلاشبہ وی بلیٹین کے بعد پی ایچ پی بی بی ہی تین ہی فرسٹ چوائس ہے اب تو اس کی بلٹ ان موڈز کی موجودگی سے اور بھی سہولت حاصل ہوگئی ہے۔

مصنف: شازل
08 - جولائی - 2010

ذکر کچھ غموں کا

مجھے اس وقت بہت تاؤ آتا ہے جب پڑوسی انٹرنیٹ پر ڈاؤنلوڈنگ میں لگے ہوتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میں کوئی حاجی ہوں، ڈاؤنلوڈنگ میں بھی کرتا ہوں اور جی بی کے حساب سے، لیکن ایک مخصوص وقت پر۔ برا ہو انٹرنیٹ ڈاؤنلوڈ منیجر کا، ہر کوئی یوٹیوب سے ویڈیوز ڈاؤنلوڈ کرتا پھر رہا ہے۔ میرے پاس ایک مجرب نسخہ ہے لیکن مجھے ترس آتا ہے ان پر، ورنہ انہیں پتا لگ جاتا کہ کس طرح دوسروں کی اسپیڈ ختم کی جاتی ہے۔ میں‌صبح سویرے اٹھ کر ریپڈ شیئر کے زریعے فلمز یا لنڈا کی ٹریننگ سی ڈی کو ڈاؤنلوڈنگ پر لگا دیتاہوں اور پھر گیارہ بجے تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ڈیڑھ دو جی بی اس دوران کوئی مشکل کام نہیں۔ اب تو ہارڈ ڈسک فلموں سے بھری ہوئی ہیں اور ٹریننگ سی ڈیز کابھی ڈھیر لگا ہوا ہے۔ ایک سو نوے جی بی کم پڑ رہی ہے۔ جگہ کے لیے فلموں کو اڑانا پڑتا ہے پر ایسی فلمیں بھی ہوتی ہیں جن کو اڑانے کا بہت افسوس ہوتا ہے۔ ایسی فلموں سے مراد یہ نہیں کہ ایسی ویسی ہوتی ہیں۔ میں انگریزی فلموں سے بہت متاثرہوں لیکن بعض انڈین فلمیں بھی کمال کی ہوتی ہیں۔ بات فلموں پر جا پہنچی اب دوبارہ موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔ ہم نے حال ہی میں ایک ایسے شہزادے کو نکال باہر کیا ہے جو ہمہ وقت ڈاؤنلوڈنگ پر لگا رہتا تھا اور پھر پیسوں کے لیے بھی چکر لگواتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد ہم نے شکر پڑھا کہ مصیب سے جان چھوٹی۔ گاہے بگاہے ایک ایسے فوجی سے بھی واسطہ پڑتا رہتا ہے جو چھٹیاں گزارنے کے لیے آتا ہے تو میرا جینا حرام ہو جاتا ہے آپ کسی غلط فہمی میں‌نہ پڑیں، یہ کوئی جعفر، ڈفر یا خاور کا بلاگ نہیں جہاں بارہ مسالے کی چاٹ ملتی ہے۔ مجھے اس کے کمپیوٹر کی مسلسل دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے کچھ اس طرح کہ فریش انسٹالیشن کرکے دوں، فائرفاکس، فلیش پلیئر، آئی ڈی ایم، ویڈیو کوڈیکس اور اینٹی وائرس وغیرہ۔ میں ٹالنا چاہوں بھی تو کس برتے پر، کام تو پھر بھی مجھے ہی کرنا ہوگا اس لیے کسی فرمانبردار بچے کی طرح کہا ماننا پڑتا ہے۔ لیکن روز کوئی نہ کوئی مسئلہ اسے درپیش ہوتا ہے اور جان بچانا بھی تو فرض ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اگر کسی دن میں نے نخرے دکھائے تو ساری نیکیاں ایکدم دریا میں ڈوب جائیں گی۔ اللہ ایسی مصیبتوں سے بچائے تو بچائے۔ ۔ ۔

مصنف: شازل
06 - جولائی - 2010

یادیں باتیں

خدا نے بہت سی نعمتیں عطا کی ہیں جن میں میرا ایک دوست نعمت بھی تھا۔ اس کے جسم پر بال ریچھ کی طرح اور صورت معصوم تھی۔ ضدی اتنا کہ جو ٹاس جیتتا اسے ہی پہلے کھیلنا پڑتاتھا۔ اس کی ہر منطق نرالی تھی۔ اڑ گیا تو بس اڑ گیا۔ پٹھانوں‌کی ضد مشہور ہے لیکن وہ ان سے بھی شرط بد لیتا۔ ایک بار میں نے اس کی وہ چابی بھری کہ اس نے میرے جیسے کھلاڑی کو بھی کپتان بنوا کر دم لیا۔ وہ ہم جیسے بالروں کی تو خوب دھنائی کرتا لیکن کسی دوسری ٹیم کے آگے ایک بھی پیش نہ جاتی۔ وہ اسپنر تھا لیکن آنکھیں شعیب اختر کی طرح دکھاتا، وہ اس کی ایسی دھنائی کرتے کہ گیم پلٹ جاتی۔ اسے ایک اوور دینا ہماری مجبوری تھی، ورنہ میدان ہماری صورت کو بھی ترستا۔ عجیب بات تھی کہ وہ کبھی کبھار ایسے کھلاڑی کو بھی آؤٹ کردیتا جو درد سر بنا ہوتا۔ ایک بار ہمارے ایک اور دوست کو کچھ غلط فہمی ہوگئی نتیجہ لڑائی کی صورت میں نکلا۔ نہ مکا چلا نہ لات نہ تھپڑ، ابتدا دائیں طرف کے بازو کی چرچراہٹ سے ہوئی ۔ ۔ ۔ اور پھر یہ چرچراہٹ بڑھتی ہی گئی۔ پندرہ منٹ بعد دونوں کی شرٹیں اس طرح جھول رہی تھیں کہ جیسے کتوں نے ان کو نوچا ہو، نعمت نے جب یوسف کے نچلے پورشن کی طرف ہاتھ بڑھایا تو یوسف یوں رسی تڑوا کر نکلا جیسے قسائی کو دیکھ لیاہو۔ شام کو ہم نے دونوں کی صلح کروائی اور بات قہقہوں میں اڑنے لگی۔ میری وہ کافی عزت کرتا، اور میں اس کی عزت کرنے پر مجبور تھا۔ ہمارے محلے میں ایک صاحب آئے اور جلد ہی اپنی طبیعت کی وجہ سے مشہور ہوگئے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ان کی تلخ کلامی نعمت کی بھابھی سے ہوگئی۔ دونوں نے خوب لتے لیے اور ظاہر ہے کہ عورت ہمیشہ مظلوم ٹھہرتی ہے ۔ ۔ ۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ نہ ہلچل ہوئی نہ کوئی طوفان اٹھا جس کی ہم توقع کررہے تھے۔ تین چار دن بعد وہ صاحب ایک دکان میں بیٹھے تھے کہ نعمت اور اس کا بڑا بھائی آئے، نعمت نے اسے گدی سے پکڑا اور اللہ دے اور بندہ لے والی بات تھی۔ اس بار تاریخ نے تھوڑا ٹرن لیا تھا، مکے، لاتیں اور تھپڑ کا خوب انتظام تھا اور کپڑوں‌کا وہ ڈیزائن بنا جو یوسف نے بنوایا تھا۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح کے کردار صرف فلموں‌میں ہی سجتے ہیں۔ والدہ کی وفات کے بعد بھائیوں‌ میں جائیداد کے لیے تنازعہ ہوا اور اسے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا گیا۔
اپنوں کا وار چل گیا تھا اور گھاؤ اس بار مختلف تھا۔ وہ اپنی بیگم کو لے کر وہاں‌چلا گیا جہاں اس کے بھائیوں کا سایہ بھی نہ پھٹک سکتا تھا۔ میری اس سے ایک دوبار فون پر ملاقات ہوئی تو وہ بھرا بیٹھا تھا اور مجھے زندگی میں پہلی بار اس پر ترس آرہا تھا۔

مصنف: شازل
02 - جولائی - 2010

دوغلے لوگ

ہمارے بہت سے دوستوں کے پیٹ میں اس وقت بہت درد اٹھتا ہے جب غیر مسلم خود کش حملوں میں مارے جاتے ہیں، مارنے والوں کو مسلمان کا درجہ دیتے ہوئے ان کی خوب خبر لی جاتی ہے لیکن جب عام لوگ اور مسجدوں میں دھماکے ہوتے ہیں تو ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور یوں انجان بن جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو. یہ دوغلے پن کی نشانی ہے اور اس میں پیش پیش وہ لوگ ہوتے ہیں جو باہر روزگار یا تعلیم حاصل کررہے ہوتے ہیں. شاید یہ خود کو ماڈریٹ ثابت کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو علم ہونا چاہئے کہ چاہے یہ اپنے ماں باپ ہی تبدیل کیوں نہ کرلیں ان کی پہچان آخر پاکستانی یا مسلمان کی حیثیت سے ہونی ہے.
بوسینا کے وہ لوگ جو غیروں کے رنگ میں رنگ گئے تھے جب موقع آیا تو سروں کی وہ فصل بوئی گئی کہ ہلاکو اور چینگز خان کی روحیں بھی چلا اٹھی بلبلا اٹھی ہونگی.
آج جب مسلمان کو مسلمان مار رہا ہے تو بہت سے لوگوں چپ سادھے بیٹھے ہیں. لیکن یہی مسلمان اگر کسی قادیانی یا غیر مسلم کو مارتے تو “دوستوں” کو وہ تکلیف ہوتی کہ جیسے تیرا غم ، میرا غم . . .
ان کے بلاگز پر کئی کئی دن تک غم کے دیے جلتے رہتے ہیں اور مولویوں کے بخیئے ادھیڑے جاتے رہتے ہیں

مصنف: شازل
29 - جون - 2010

ورڈپریس ڈاٹ کام کیا ہیک ہو گیا ہے

ورڈ پریس ڈاٹ کام پر کچھ اس قسم کا پیغام آرہا ہے
Prioritizing And Fixing Security Vulnerabilities…. Thank you For Azerbaijan Cyber Army ;) for doing this all
کیا اسے ہیک کرلیا گیا ہے