محبت رسول ﷺایمان میں سے ہے !

اس ہستی کی زندگی کے اہم پہلو
اعجازالحسینی
مدیر
مدیر
مراسلات: 10960
تاریخ شمولیت:: ہفتہ اکتوبر 17, 2009 12:17 pm
جنس:: مرد
مکانیت: اللہ کی زمین
CONTACT:

محبت رسول ﷺایمان میں سے ہے !

مراسلہاز: اعجازالحسینی » پیر فروری 15, 2010 10:34 am

”حبّ الرسول صلی الله علیہ وسلم من الإیمان“یہ عنوان ہی جاذبِ نظر ہے اور جب آپ اس رسالہ کو پڑھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ محبت نبوی کیا ہے؟ اس کے تقاضے کیاہیں؟ اور صحابہ کرام نے کس انداز میں آپ صلی الله علیہ وسلم سے محبت کی؟ یہ سب کچھ آپ اس کتاب میں پڑھیں گے۔
حضور صلی الله علیہ وسلم سے محبت، ایمان کا جز ہے اور محبت کی منجملہ علامات میں سے یہ ہے کہ تمام معاملات میں حضور صلی الله علیہ وسلم کا اتباع کیا جائے، قرآن کریم سے محبت اور تلاوت ہو، آپ کی احادیث پڑھی جائیں، آپ صلی الله علیہ وسلم کی سنت اور طریقہ پر عمل کیا جائے، آپ کی سیرت اور شمائل کو اپنایا جائے، آپ کا ذکر خیر کثرت سے کیا جائے، آپ پر درود پڑھا جائے، آپ صلی الله علیہ وسلم سے ملنے کا اشتیاق ہو، یہ سب محبت کی علامات ہیں اور ایسی محبت کا عملی نمونہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت تھی۔
صحابہ کرام حضور صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کے عینی شاہد اور گواہ، آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات سے آراستہ وپیراستہ، آپ صلی الله علیہ وسلم کی تربیت وصحبت یافتہ اور آپ کے دین کو پہچانے اور پھیلانے کا اولین ذریعہ اور وسیلہ تھے، صحابہ کرام کی زندگی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی محبت سے معمور اور بھر پور تھی، اپنی جان ومال اور آل واولاد کی پرواہ کئے بغیر آپ صلی الله علیہ وسلم کے ہر حکم پر تعمیل کرنا ان کا خاصہ اور طرہ ٴ امتیاز تھا۔
صحابہ کرام نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی اسی محبت کو اقوام عالم میں روشناس کرایا اور پھیلایا جو آپ صلی الله علیہ وسلم کے مکارم اخلاق اور جود وکرم کے ذریعہ ان کے اعمال واخلاق پر چھائی ہوئی تھی۔ صحابہ کرام کی یہ اعلیٰ سیرت اسلام کی طرف دلوں کے میلان کا ذریعہ اور اقوام عالم پر ان کی عظمت وفضیلت کا سبب بنی۔
صحابہ کرام آپس میں الفت ومحبت، عزت واحترام اور مرتبہ و مقام کاپاس اور لحاظ رکھتے تھے، آپ اس کتاب میں پڑھیں گے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور پوچھا کہ سب سے بہادر کون ہے؟ لوگوں نے کہا :”امیر المؤمنین وہ آپ ہیں۔ حضرت علی نے فرمایا: جہاں تک میرا تعلق ہے، مجھ سے جس نے بھی مقابلہ کیا، میں نے اس سے بدلہ لیا ہے، لیکن سب سے بہادر حضرت ابوبکر ہیں اور پھر غزوہٴ بدر میں ان کی بہادری کا ذکر کیا۔
حضرت علی نے پھر فرمایا: مجھے بتاؤ ! کہ فرعون کے خاندان کا مؤمن بہتر ہے یا حضرت ابوبکر؟ لوگ خاموش ہوگئے ۔ حضرت علی نے فرمایا: بخدا! حضرت ابوبکر کی ایک گھڑی فرعون کے خاندان کے مؤمن سے زمین بھر جائے ان سے بہتر ہے، کیونکہ فرعون کے خاندان کے شخص نے ایمان چھپا رکھا تھا اور حضرت ابوبکر وہ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کا برملااعلان کیا تھا۔
اللہ پاک ہمیں بھی حضور صلی الله علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کی سچی محبت اور اتباع نصیب فرمائے۔ آمین
وصلی الله تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔
مقدمہ مؤلف
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، فضائل اورکمالات کے حصول کے لئے ایک عظیم شاہراہ ہے،اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان میں سے ہے ،بلکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو ایمان کی پہچان بھی نہ ہوتی ۔
یہ ایک مختصر سی کتاب ہے جو اس محبت کی حقیقت کو بیان کرتی ہے ، جس پر عامل باعمل ہوکر امت کے پہلے طبقہ (جوسب سے اعلی طبقہ ہے یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے اونچامقام حاصل کیا ۔
ایمان کی اس علمی اور عملی تعریف کے بعد اس سے انتفاع آسان اور وہ بلند مقام حاصل کرنا سہل ہوجائے گا، جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بشارت دی ہے :” اَلمَرْأُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ“یعنی ہرشخص کا حشر اس کے ساتھ ہوگا جس سے اس نے محبت کی ہوگی۔
میں نے اس مختصر رسالہ کے نام کا انتخاب امام بخاری رحمہ اللہ تعالی کی کتاب ”صحیح بخاری“ کی ” کتاب الإیمان“ کے اس عنوان ”حُبُّ الرَّسُوْلِ صَلَّی اللّٰہُ علیہ وسلم منَ الإیمانِ“سے لیا ہے،یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کا جزء ہے، نیز میں نے جوروایات اس موضوع سے متعلق ذکر کی ہیں، وہ صحیح اور ثابت ہیں اوریہ تنبیہ یہاں اس لئے کردی ہے تاکہ تخریج احادیث اور اسانید پر کلام کی تفصیلات سے بچاجائے ۔ ہاں بعض خاص خاص جگہو ں پر تاکید مزیدکے لئے میں نے ان احادیث کے ثقاہت و ثبوت پر کلام کیا ہے ، وگرنہ اس مختصر کتاب کا مضمون اللہ کے فضل سے صحیح ثابت اور مقبول ہے ۔
اے اللہ! ہمیں محبت کا وہ مقام نصیب فرما جس کے بارے میں ہمارے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”المرأ مع من أحبّ “۔”ہر شخص کا حشر اس کے ساتھ ہوگا جس سے اس نے محبت کی “۔
”الحبّ اور المحبّة“یہ دونوں الفاظ ایسے معنی کواداکرتے ہیں جس کا تعلق قلب سے ہے ، جودوسری صفات کے مقابلہ میں اپنے اندر ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے ، اور اپنی تاثیر کے اعتبارسے سب سے زیادہ عظیم ہے ، کیونکہ اس میں دل کا میلان اور محبوب کی طرف کھچاؤ پایا جاتا ہے ،اور وہ انسان کی طبیعت میں ایسا شعور اورسلوک کا جذبہ پید ا کردیتا ہے کہ کبھی یہ کیفیت ہوجاتی ہے کہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربا ن کردیتاہے ، بلکہ اپنے محبوب کی محبت میں وہ اپنے آپ سے بھی بیگانہ ہوجاتا ہے اور اپنی صفات چھوڑ کر محبوب کی صفات اختیار کرلیتاہے ۔


(جاری ہے)
[center]ہوا کے رخ پے چلتا ہے چراغِ آرزو اب تک
دلِ برباد میں اب بھی کسی کی یاد باقی ہے
[/center]

روابط: بلاگ|ویب سائیٹ|سکرائبڈ |ٹویٹر

اعجازالحسینی
مدیر
مدیر
مراسلات: 10960
تاریخ شمولیت:: ہفتہ اکتوبر 17, 2009 12:17 pm
جنس:: مرد
مکانیت: اللہ کی زمین
CONTACT:

Re: محبت رسول ﷺایمان میں سے ہے !

مراسلہاز: اعجازالحسینی » پیر فروری 15, 2010 10:35 am

بے شک اللہ تعالی جو رب العالمین ہیں اور سب کے خالق ہیں وہ ہر قسم کی محبت اور عظیم ترمحبت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ،کیونکہ وہ اعلیٰ صفاتِ کمال سے متصف ہیں ،جن کی کوئی انتہاء اور کوئی حدنہیں ہے، جن کی نہ کوئی تعداد ہے اور نہ انہیں گِنا جاسکتا ہے ،وہی ہے جو بندوں پر اپنے جود و سخا کے خزانوں سے وہ نعمتیں برساتا ہے جن کا شمار نہیں ہوسکتا ، اور وہ احسانا ت کرتا ہے جن کا احاطہ نہیں ہوسکتا۔ ارشاد باری ہے :

﴿وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰہِ لَاتُحْصُوْھَا﴾ ( ابراہیم:۳۴)
ترجمہ : ۔”اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ان کا شما ر نہیں کرسکتے ۔“
بلکہ بہت ہی کم ان کی نعمتوں کا احاطہ اور شمار کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں لفظ ”لَاتُحْصُوْھَا “ سے اشارہ ملتا ہے ۔
ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم مخلوق میں اس محبت کے سب سے زیادہ مستحق اورحق دار ہیں، بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم ہماری ذات سے زیادہ ہماری محبت کے حق دار ہیں۔ ارشاد باری ہے :

﴿ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہُ أمَّہَاتُھُمْ ﴾ (الأحزاب:۶)
ترجمہ :” نبی سے لگاوٴ ہے ایمان والوں کو زیادہ اپنی جان سے اور اس کی عورتیں ان کی مائیں ہیں ۔“
تو اس آیت نے بغیر کسی قیدو تحدید کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی کو ہرمسلمان کی ذات پر فوقیت دی ہے،یہ آیت ہرچیزکو شامل ہوگئی ہے ، لہذا اس میں غورو فکر کرو اور خوش ہو جاؤ:

﴿ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہُ أمَّہَاتُھُمْ﴾
محبت کو واجب کرنے والی صفات
جس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت حاصل ہوگئی ،وہ اس حقیقت کو نہ صرف یہ کہ جان لے گا ، بلکہ ذوقاً بھی محسوس کر لے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو واجب کرنے والی جتنی بھی صفات ہو سکتی ہیں وہ بدرجہ کمال صرف آپ میں موجود ہیں اورکسی اور مخلوق میں نہیں ،، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کامل صفات کا خلاصہ ائمہ علم و عرفان اور اہل محبت نے دو عظیم حصوں میں تقسیم کیا ہے :
۱: ۔وہ کامل صفات جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم متصف تھے۔
۲:۔آپ کی جود و سخاوت ۔
جہاں تک صفات ِ کمالیہ کا تعلق ہے جن کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان سے محبت کرتا ہے ، مثلاً ایک انسان کبھی دوسرے انسان سے اس کے خوبصورت چہرے کی وجہ سے محبت کرتا ہے یا اس کی خوش الحانی کی وجہ سے یا ایسی دوسری صفات جمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے جو محبت کو واجب کرتی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جمال خلقت اور جمال صورت میں تمام مخلوق سے اعلیٰ اور افضل ہیں، جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تواتر اور یقینی طریقہ سے ثابت ہے کہ:

” کان رسول ُ الله صلی الله علیہ وسلم أحسن الناس وجہاً وأحسنَہم خَلقاً“۔
ترجمہ :” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب انسانوں میں زیادہ حسین چہرے والے اور سب سے زیادہ خوب صورت جسم والے تھے “۔
حضرت ھند بن ابی ھالہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

”کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم فخمًا مفخّماً، یتلأ لأ وجہہ تلألوٴ القمر لیلة البدر“
ترجمہ :”حضور صلی الله علی وسلم اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے بھی عظیم الشان تھے اور دوسروں کی نظروں میں بھی بڑے رتبہ والے تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا۔“
حضرت ابوھریرة رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”مارأیت أحسن من رسول الله صلی الله علیہ وسلم کأنّ الشمس تجری فی وجہہ“۔
ترجمہ :” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ میں نے کسی کو حسین نہیں دیکھا۔ گویا سورج آپ کے چہرہ مبارک میں گردش کررہاہے “۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

”مامَسِسْت دیباجةً ، ولا حریرةً ألین من کفّ رسول الله صلی الله علیہ وسلم، ولا شممت مسکةً ولا عنبرةً أطیب من رائحة النبی صلی الله علیہ وسلم، وفی روایة : أطیب من عرق النبی صلی الله علیہ وسلم“․
ترجمہ :” میں نے کسی موٹے یا باریک ریشم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیاد ہ نرم نہیں پایا ، اورنہ ہی مشک اور عنبر کی خوشبو کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے عمدہ پایا ،اورایک روایت میں ہے کہ نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ سے زیادہ خوشبودار اورعمدہ پایا “۔
جس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان فرمائے ہیں، سب نے یہی کہا:

” لم أر قبلہ ولا بعدہ مثلَہ صلی الله علیہ وسلم “۔
ترجمہ :” آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیساہم نے نہ آپ سے پہلے کسی کو دیکھا اور نہ آپ کے بعد کسی کو دیکھا “۔
لہٰذا آپ مخلوق کے جمال سے کتنے ہی متاثر ہوں، آپ پر لازم ہے کہ آ پ تمام مخلوق اور اپنے نفس سے بھی زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کریں ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر قسم کے جمال کے اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز ہیں ۔
اسی طرح ایک عقلمند انسان کسی سے محبت اس کے حسن اخلاق اور اعلیٰ سیرت کی بنا پر کرتا ہے ،اگرچہ وہ خوداس سے کتنا ہی دور ہو ۔جبکہ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پورے عالم میں سب سے زیادہ اخلاق میں کامل ہیں ، اور جس کے لئے اللہ تعالی کی گواہی کافی ہے :

﴿وَاِنّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ﴾ (سورة القلم :۴)
ترجمہ :” بے شک آپ اخلاق کے عظیم مقام پر ہیں “۔
اللہ تعالی کے اس قول ”لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ“میں غور کریں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جتنے بھی اخلاق حسنہ اور انسان کی صفاتِ کمالیہ ہوسکتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان صفات کے اعلیٰ مقام پرفائز ہیں، کیونکہ ”علٰیٰ“ بلندی پردلالت کرتا ہے ، لہٰذا جس قسم کے بھی اعلیٰ اخلاق ہو سکتے ہیں ،آپ ان اخلاق میں سب سے اعلیٰ و ارفع مقام پرفائز ہیں اور جس قسم کے انسانی کمالات ہو سکتے ہیں ،آپ ان کمالات میں سب سے بلند درجہ پر ہیں۔
رہابہت زیادہ عطااور احسان کی وجہ سے کسی سے محبت کرنا، تو انسان دنیا میں ہراس شخص سے محبت کرتا ہے جس نے اس پر ایک یا دو بار کوئی احسان کیا ہو، اور وہ احسان کتنا ہی زیادہ قیمتی اور نفیس کیوں نہ ہو بالآخروہ فانی اور زائل ہونے والا ہے ، جیسے کسی نے اسے ایسی مصیبت سے بچایا جس میں اس کی ہلاکت یقینی تھی یااس میں کسی نقصان کا خطرہ تھا۔کچھ بھی ہو یہ احسان بالا ٓ خرختم ہونے والا ہے، جس کے لئے دوام نہیں ۔
بھلا دنیوی احسان کا مقابلہ نبی کریم اور رسول عظیم صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات سے ہوسکتا ہے جوتما م محاسنِ اخلاق و تکریم کے جامع ہیں ،جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام مکارمِ اخلاق ، عظیم صفات اور فضیلت عامہ سے نوازا۔جن کے ذریعے اللہ تعالی نے ہمیں کفر کی تاریکیوں سے نکال کر نورِ ایمان میں داخل کیا ،اور جن کے ذریعے اللہ تعالی نے ہمیں جہالت کی آگ سے نجات دے کر یقین اور معرفت کی جنت میں پہنچادیا ۔
خوب اچھی طرح غور و فکر کرلوتاکہ آپ کوبخوبی معلوم ہوجائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی آپ کے جنت کی نعمتوں میں ہمیشہ رہنے کا سبب ہیں ، اب خود بتاوٴکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے اس جلیل القدر اور عظیم الفضل احسان سے بڑھ کر کو ن سااحسان ہوسکتا ہے ۔
اب اس احسان کا شکر اور اس کا حق ہم کیسے ادا کریں ؟ جبکہ اللہ تعالی نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے نوازا ہے اور اپنی ظاہر ی وباطنی نعمتوں کی ہم پر بوچھاڑ کردی ہے ، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی آپ کی کامل ومکمل محبت کے مستحق ہیں جو ہر ایک کے نفس ،اس کے اہل وعیال اور سب مخلو ق کی محبت سے زیادہ ہو، بلکہ بعض اہل معرفت حضرات نے یہاں تک کہاہے کہ ”اگر جسم کے رویں رویں سے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اظہار ہورہاہوتب بھی آپ صلی اللہ علیہ کا جو حق محبت ہے اس کا یہ جزء ہوگا،کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو ہرچیز پر فوقیت حاصل ہے

(جاری ہے)
[center]ہوا کے رخ پے چلتا ہے چراغِ آرزو اب تک
دلِ برباد میں اب بھی کسی کی یاد باقی ہے
[/center]

روابط: بلاگ|ویب سائیٹ|سکرائبڈ |ٹویٹر

شازل
مشاق
مشاق
مراسلات: 4478
تاریخ شمولیت:: اتوار اپریل 12, 2009 8:48 pm
جنس:: مرد
CONTACT:

Re: محبت رسول ﷺایمان میں سے ہے !

مراسلہاز: شازل » پیر فروری 15, 2010 3:06 pm

[center]جزاک اللہ[/center]

اعجازالحسینی
مدیر
مدیر
مراسلات: 10960
تاریخ شمولیت:: ہفتہ اکتوبر 17, 2009 12:17 pm
جنس:: مرد
مکانیت: اللہ کی زمین
CONTACT:

Re: محبت رسول ﷺایمان میں سے ہے !

مراسلہاز: اعجازالحسینی » پیر فروری 15, 2010 5:03 pm

[center]و احسن الجزاء [/center]
[center]ہوا کے رخ پے چلتا ہے چراغِ آرزو اب تک
دلِ برباد میں اب بھی کسی کی یاد باقی ہے
[/center]

روابط: بلاگ|ویب سائیٹ|سکرائبڈ |ٹویٹر

رکن کی نمائندہ تصویر
انصاری آفاق احمد
مشاق
مشاق
مراسلات: 1263
تاریخ شمولیت:: اتوار اکتوبر 25, 2009 6:48 am
جنس:: مرد
مکانیت: India maharastra nasik malegaon
CONTACT:

Re: محبت رسول ﷺایمان میں سے ہے !

مراسلہاز: انصاری آفاق احمد » منگل فروری 16, 2010 4:08 am

اسلام علیکم
اچھی اور نفع بخش کاوش ہے.کیا یہ آپ کی ہی تالیف ہے.؟؟
یا اللہ تعالٰی بدگمانی سے بد اعمالی سےغیبت سےعافیت کے ساتھ بچا.
عکس

رکن کی نمائندہ تصویر
رضی الدین قاضی
معاون خاص
معاون خاص
مراسلات: 13369
تاریخ شمولیت:: ہفتہ مارچ 08, 2008 8:36 pm
جنس:: مرد
مکانیت: نیو ممبئی (انڈیا)

Re: محبت رسول ﷺایمان میں سے ہے !

مراسلہاز: رضی الدین قاضی » منگل فروری 16, 2010 7:27 am

جزاک اللہ

اعجازالحسینی
مدیر
مدیر
مراسلات: 10960
تاریخ شمولیت:: ہفتہ اکتوبر 17, 2009 12:17 pm
جنس:: مرد
مکانیت: اللہ کی زمین
CONTACT:

Re: محبت رسول ﷺایمان میں سے ہے !

مراسلہاز: اعجازالحسینی » منگل فروری 16, 2010 11:04 am

انصاری آفاق احمد نے لکھا ہے:اسلام علیکم
اچھی اور نفع بخش کاوش ہے.کیا یہ آپ کی ہی تالیف ہے.؟؟


وعلیکم السلام آفاق بھائی

بھیا یہ تحریر میری نہیں ہے بلکہ یہ ایک رسالہ ”حبّ الرسول صلی الله علیہ وسلم من الإیمان “ کے عنوان سے فضیلة الشیخ الدکتور نور الدین عتر کی تالیف عربی زبان میں ہے اور اسکا ترجمہ ‌‌‌‌مولانا سعید جلال پوری نے کیا ہے اور قسط وار ماہنامہ بینات میں اسے شائع کیا ہے اردونامہ کے قارئین کے لئے میں نے اسے یہاں بھی لکھ دیا ہے ۔

اصل میں میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ میں اپنی طرف سے کوئی مضمون خاص کر دین کے معاملات میں اپنی طرف سے نہ لکھوں بلکہ اکابر علماء کے مضامین یہاں لکھ دیتا ہوں اور ساتھ انکا حوالہ بھی نقل کر دیتا ہوں ۔ کیونکہ میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ میں دینی معاملات میں اپنی طرف سے کوئی تشریح کروں بلکہ اکابر علماء جو کچھ ان معاملات میں ہماری راہنمائی کرگئے ہیں یا کر رہے ہیں میرے خیال میں اگر ہم اس پر ہی عمل کر لیں تو اسی میں ہماری راہنمائی اور نجات ہے ۔
آجکل دور ہی ایسا ہے کہ ہر کوئی اپنی طرز پر قرآن پاک کی تشریح کرتا ہے اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے ایسے حالات میں مناسب نہیں سمجھتا کہ اپنی طرف سے کچھ لکھوں ۔
اصل بات تو یہ ہے کہ میں جو کچھ ہوں صرف اردو نامہ کی وجہ سے ہوں کیو نکہ میں نے نہ کبھی کسی فورم پر لکھا اور نا ہی کبھی کسی فورم کا ممبر بنا بلکہ کسی فورم پر اگر گیا ہوں تو یہ آگاہی دینے والا صرف اردو نامہ ہی ہے‌
[center]ہوا کے رخ پے چلتا ہے چراغِ آرزو اب تک
دلِ برباد میں اب بھی کسی کی یاد باقی ہے
[/center]

روابط: بلاگ|ویب سائیٹ|سکرائبڈ |ٹویٹر

اعجازالحسینی
مدیر
مدیر
مراسلات: 10960
تاریخ شمولیت:: ہفتہ اکتوبر 17, 2009 12:17 pm
جنس:: مرد
مکانیت: اللہ کی زمین
CONTACT:

Re: محبت رسول ﷺایمان میں سے ہے !

مراسلہاز: اعجازالحسینی » منگل فروری 16, 2010 11:10 am

اسی لئے اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہ أمَّہَاتُھُمْ ﴾ ( الاحزاب:۶)
ترجمہ : ’نبی سے لگاوٴ ہے ایمان والوں کو زیادہ اپنی جان سے اور اس کی عورتیں ان کی مائیں ہیں۔“
اور ارشاد ہے :

قُلْ اِنْ کَانَ آبَائُکُم وَ اَبْنَاءُ کُمْ وَاخْوَانُکُمْ وَازْوَاجُکمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَ اَمْوَالُ نافْتَرَفْتُمُوْھَا وَتِجَارَةُ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَھَا اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِنَ اللهِ وَرَسُوْلِہ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللهُ بِاَمْرِہ وَاللهُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ۔“ (التوبة:۲۴)
ترجمہ:”تو کہہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سود اگر ی جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور حویلیاں جن کو پسند کرتے ہو ،تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور لڑنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم اور اللہ راستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو۔“
اس آیت کریمہ نے محبت کی تمام اقسام کو جمع کردیا ہے اور یہ فرض قراردیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت ہر چیز پر غالب ہونی چاہیے ، بلکہ مجموعی طور پر ان تمام چیزوں کی محبتوں پر بھی الله اور اس کے رسول کی محبت غالب ہونی چاہیے ۔
اسی مضمون کو ثابت کرنے کے لئے صحیح تر احادیث وارد ہوئی ہیں ، جیسا کہ صحیحین میں حضرت انَس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

” لایؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین“․
ترجمہ :”تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد ، اس کی اولاد اورتمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں “۔
یہ حدیث ہر قسم کی محبت کو شامل ہے، جس میں آپ کی اپنے نفس سے محبت بھی ہے ۔
امام بخاری اور دوسرے حضرات نے حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”والذی نفسی بیدہ لایؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیہ من والدہ وولدہ “
ترجمہ :”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہوں “۔
یہاں والد اور اولاد کو ذکر فرمایا، کیوں کہ یہ دونوں دوسروں کے مقابلے میں انسان کو زیادہ محبوب ہوتے ہیں ، اور ان دونوں کی وجہ سے انسان اس دنیا میں جیتااور محنت کرتا ہے، اس لئے دوسری اقسامِ محبت کو چھوڑ کر صرف ان پر اکتفا فرمایا۔ لہذا یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مومن پر فرض ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو ہرقسم کی محبت ، اور ہر محبو ب چیزکی محبت ، حتی کے اپنے نفس کی محبت پر بھی مقدم رکھے۔محبت کی بہت سی اقسام ہیں، جن میں سے چند مشہور درج ذیل ہیں :
۱۔شفقت و رحمت کی محبت ۔اور یہ باپ کی اپنے بیٹے سے محبت ہے ۔
۲۔ تعظیم اور بزرگی کی محبت۔ اور یہ بیٹے کی اپنے باپ سے اور شاگرد کی اپنے استاذ سے محبت ہے ۔
۳۔ نفس کی محبت۔اور یہ مرد کی اپنی بیوی سے محبت ہے ۔
۴۔ خیر خواہی اور انسانیت کی محبت ۔ اوریہ سب انسانوں کی آپس کی محبت ہے۔
۵۔ انانیت کی محبت ۔ اوریہ انسان کی اپنی نفس سے محبت ہے اور یہ ان محبتوں میں سب سے زیادہ مضبوط محبت ہے ، اور یہ ایسی محبت ہے جس کو ازل سے نفس کی سرشت میں رکھا گیا ہے، جیسا کہ دوسری محبتیں اس کی سرشت میں رکھی گئی ہیں ۔

غور و فکر کا مرحلہ
اللہ تعالی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ مومن کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت تمام اقسام محبت سے زیادہ ہونی چاہیے اور محبت کے تمام مراتب سے اعلی وارفع ہونی چاہیے ، اور اس کے معلوم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انسان اپنی تمام محبوبات اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں غور و فکر کرے اورسوچے تو یقینا اس کی عقل یہ فیصلہ کرے گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ،انانیت کی سرشت پر غالب ہے ، اور اس انانیت کا نام و نشان ختم کردیتی ہے ، اے مسلمان عقلمند! آپ کے لئے سیدنا عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کی سیر ت میں بہترین نمونہ ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک دن ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ،حضرت عمر نے عرض کی : یارسول اللہ ! بے شک آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، سوائے میرے نفس کے !
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسانہیں ، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہٴ قدرت میں میر ی جان ہے ، جب تک میں آپ کے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ،حضرت عمررضی اللہ عنہ نے عرض کیا: بے شک اب تو آپ مجھے میرے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں! اب تمہار ا ایمان مکمل ہوگیا، اے عمر۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا پہلا جواب اس فطرت کے مطابق تھا جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے ،پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(لا ) یعنی تیر اایمان کامل نہیں ہوگا (قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میر ی جان ہے جب تک کہ میں آپ کے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوں) توحضرت عمررضی اللہ عنہ نے جب غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ان کے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں ، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس نفس کو دنیا اور آخرت کی ہلاکتوں سے بچانے والے ہیں،حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس بات کی خبردی جس تک وہ غور و فکر سے پہنچے ، اور خبر بھی قسم کے ساتھ دی کہ: فإنہ الآن والله ۔لأنت أحبّ إلیّ من نفسی) بے شک اب تو بخدا !آپ مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں تو اس کے جواب میں حضرت عمر کو عظیم تسلی بخش جواب ملا (الآن یاعمر) یعنی اے عمر !اب آپ کو صحیح معرفت حاصل ہوئی اور آپ اس حقیقت تک پہنچ گئے، جس تک پہنچناضروری ہے ۔
تو بھائی! اگر آپ بھی اپنے اندر اس محبت میں غور و فکر کریں گے تو آپ بھی اسی نتیجہ پرپہنچیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی محبت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں، کیوں کہ جب آپ اس بات میں غور و فکر کریں گے کہ آپ کے نفس کی بقا ء، خوشی اور دائمی نعمتوں کا ذریعہ صرف اورصرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور یہ وہ منفعت ہے جو ہرقسم کی نعمتوں سے اعلی وارفع ہے ،جن سے آپ منتفع ہوسکتے ہیں، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ آ پ کے ساتھ محبت دوسری محبتوں سے زیادہ ہو، اور (ہر انسان کواپنے ) نفس سے جو اس کے دونوں پہلووٴں کے درمیان ہے ، اس لئے کہ وہ نفع اور خیر جو محبت پر ابھارتے ہیں وہ آ پ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دوسرں کے مقابلہ میں بلکہ اپنے نفس سے زیادہ حاصل ہیں اور جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمالات و فضائل میں سب مخلوق سے افضل اور اعلی ہیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام کمالات،برکات اور فضائل کے جامع ہیں ۔
[center]ہوا کے رخ پے چلتا ہے چراغِ آرزو اب تک
دلِ برباد میں اب بھی کسی کی یاد باقی ہے
[/center]

روابط: بلاگ|ویب سائیٹ|سکرائبڈ |ٹویٹر

اعجازالحسینی
مدیر
مدیر
مراسلات: 10960
تاریخ شمولیت:: ہفتہ اکتوبر 17, 2009 12:17 pm
جنس:: مرد
مکانیت: اللہ کی زمین
CONTACT:

Re: محبت رسول ﷺایمان میں سے ہے !

مراسلہاز: اعجازالحسینی » بدھ فروری 17, 2010 12:08 pm

یہ وہ حقائق ہیں جو نفس کی گہرائیوں میں قرار پکڑے ہوئے اور عقل کے ادارک میں جاگزین ہیں ،اس لیے کہ ہر مسلمان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت ہے، کیوں کہ اسلام دل میں اس محبت کے بغیرداخل ہوہی نہیں سکتا ، البتہ عام لوگوں کے اندر ان احسانات میں غوروفکر نہ کرنے اور ان میں غفلت برتنے کی وجہ سے کافی تفاوت پایا جاتا ہے ،اسی لئے دعوت الی اللہ کے جواعلی طریقے ہیں ان میں ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل وکمالات کو بیان کیا جائے ، اور کثرت سے بیان کیا جائے ،تاکہ خود آپ کو اس سے فائدہ ہو اور آپ کے علاوہ باقی ایمان والوں کو بھی اس سے فائدہ ہو، اور غیر مسلموں کے لئے تالیف قلب اور دین حق سے قربت کا ذریعہ بنے ،اور اس کے ذریعہ آپ ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے پھلوں میں سے ایک عظیم پھل حاصل کرلیں گے، جس کے بارے میں صحیح اور قطعی الثبوت احادیث وارد ہوئی ہیں ، جن میں کوئی شک وشبہ نہیں ۔
امام بخاری او ر امام مسلم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”ثلاث من کن فیہ وجد حلاوة الإیمان : أن یکون الله ورسولہ احبّ إلیہ مماسواھما، وأن یحبّ المرء لایحبّہ الا الله ، وأن یکرہ أن یعود فی الکفرکمایکرہ أن یقذف فی النار“
ترجمہ :”تین صفات ایسی ہیں جس شخص میں وہ پائی جائیں گی ،اس نے ایما ن کا مزہ چکھ لیا ،۱:․․․ ایک یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اسے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں۔۲:․․․ اگر کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لئے کرے۔۳:․․․کفر کی طرف لوٹنے کو اس طرح ناپسند کرے جیسے اپنے آپ کو آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے “۔
اور امام مسلم نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا :

”ذاق طعم الإیمان من رضی باللّٰہ ربّا، وبالاسلام دینا ، وبمحمد رسولاً“
ترجمہ :۔”اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوگیا“ ۔

محبت کیسے ثابت ہوگی ؟
میرے مسلمان بھائی! جاننا چاہیے کہ محبت دعویٰ اور آرزؤں کانام نہیں، بلکہ محبت کو بتلانے والی چیز اللہ اور اس کے رسول کے اوامر کو بجالانے اور ان کی منہیات سے بچنا ہے ،اس اعتبار سے محبت کبھی فرض ہوتی ہے اور کبھی سنت ہوتی ہے ۔

محبت فرض
یہ وہ محبت ہے جو نفس کو فرائض کے بجالانے اور گناہوں سے بچنے پر آمادہ کرے ، اور اللہ نے جو کچھ اس کے لئے مقدّر کیا ہے، یہ محبت اس پرراضی ہونے پر آمادہ کرے ۔ پس جو شخص کسی معصیت میں مبتلا ہے یااس نے کسی فرض کو چھوڑ دیا یاکسی حرام فعل کا ارتکاب کیا تو اس کا سبب اس محبت میں کوتاہی ہوتا ہے کہ اس نے اس محبت پر نفس کی خواہشات کو مقدم کیا ، اور یہ -العیاذ باللہ -غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے ۔

محبت سنت
وہ یہ ہے کہ انسان نفلی عبادات کی پابندی کرے اور مشتبہ امور سے بچتا رہے ۔
اس بحث کاخلاصہ یہ ہے کہ وہ مومن جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے، اس کے پاس شریعت کے جو بھی اوامر اور منہیات پہنچے ہیں وہ مشکاةِ نبوت سے ہی پہنچے ہیں اور وہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتا ہے ، آپ کی شریعت سے راضی اور انتہائی خوش ہوتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اپناتا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلے فرمائے ہیں ان سے اپنے نفس میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتا ، جس شخص نے ان امور پر اپنے نفس سے جہاد کیا ،اس نے ایمان کی حلاوت حاصل کرلی ۔
امام بخاری  نے اپنی کتاب میں حضرت ابوہریرة رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

”إن الله تعالٰی قال : من عادیٰ لی ولیّاً فقد آذنتہ بالحرب، وما تقرّب إلیّ عبدی بشئ أحب إلیّ ممّا افترضت علیہ ، ولا یزال عبدی یتقرّب إلیّ بالنوافل حتی أحبّہ …“ الحدیث ․
ترجمہ:۔”اللہ تعالی نے فرمایا : جس نے میرے دوست سے دشمنی کی تو میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے ، اور میرا بندئہ مومن میرا تقرب (اعمال میں سے) کسی ایسے عمل کے ذریعے حاصل نہیں کرتا جو میرے نزدیک ان اعمال میں سے زیادہ مقبول ہو جو میں نے اس پر فرض کیے ہیں اور میرا وہ بندہ جسے ادائیگی فرائض کے ذریعے میرا تقرب حاصل ہے ہمیشہ نوافل کے ذریعے( یعنی ان طاعات وعبادات کے ذریعے جو فرائض کے علاوہ ہیں) میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا دوست بنالیتا ہوں“۔
پس اس حدیث نے محبت الٰہی کے اسباب کو دو امور میں بند کردیا، ایک وہ جو فرائض کے اہتمام سے حاصل ہوتی ہے اور دوسری وہ جو کثرت نوافل سے۔
بے شک اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا کثرت نوافل میں مشغول رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔ جب بندہ اشتغال نوافل سے اللہ کا محبوب بن جاتا ہے تو اس اشتغال نوافل کی برکت سے اسے ایک اور محبت یا محبوبیت حاصل ہو جاتی ہے، جو پہلی محبت یا محبوبیت سے بڑھ کرہوتی ہے۔ پس یہ تیسری محبت یا محبوبیت اس کثرت نوافل سے حاصل ہونے والی محبت سے بڑھ کر ہوتی ہے اور یہ بندے کے دل کو محبت الٰہی میں اس قدر مشغول ومستغرق کردیتی ہے کہ وہ ذات الٰہی اور ان کے ذکر وعبادت کے علاوہ ہر قسم کی فکر وسوچ اور افکار واوہام سے بے نیاز ہوجاتا ہے اور اس پر اس کی روح مکمل طور پر غالب آجاتی ہے، چنانچہ اس وقت اس کے ہاں محبوب کے ذکر، محبت اور اس جیسی دوسری چیزوں کے علاوہ کسی شئ کی کوئی اہمیت نہیں رہتی، بلکہ اس کے دل کی باگ ڈور ذکر الٰہی اور محبت خداوندی وغیرہ کے ہاتھ میں آجاتی ہے۔ نیز اس کی روح اس کی جسمانی خواہشات پر اور ذکر اس کی روح پر غالب آجاتا ہے یعنی اس وقت ذکر وعبادت اس کے دل کی آواز ورورح کی غذا بن جاتی ہے اور ملائکہ کی طرح اس کے اعمال واذکار اس کے سانسوں کے ساتھ چلنے لگتے ہیں۔
تو حاصل کلام یہ ہے کہ مؤمن کے دل کے لئے ایک عمدہ اور باسعادت زندگی کا حصول اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے بغیر ممکن نہیں اور حقیقی زندگی تو مُحبّین کی زندگی ہے جن کی آنکھیں اپنے حبیب سے ٹھنڈی ہیں ،ان کے نفوس کو محبوب کی وجہ سے سکون مل چکا ہے، اس کی وجہ سے ان کے دل مطمئن ہوچکے ہیں ،اس کے قرب سے وہ مانوس ہوچکے ہیں اور اس کی محبت سے مزے لے رہے ہیں ۔

محبت کی علامات اور محبت میں تاثیر پیدا کرنے والے امور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی محبت وہ قیمتی جوہر ہے جو دل میں ایک عظیم نور سے چمکتا ہے ، اور اس کے لئے ضروری ہے کہ اس سے ایسی نورانی شعائیں نکلیں جو اس محبت کو بتائیں اور جیسے یہ شعائیں اس کے آثارمیں سے ہیں، اسی طرح اپنے اندر تاثیر بھی رکھتی ہیں جس سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس میں ترقی ہوتی ہے، یہاں تک کہ محبت کرنے والا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں محبوبیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے ۔ معاملہ صرف یہی نہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کریں بلکہ اصل معاملہ نجاح وفلا ح اور عظیم کامیابی کا یہ ہے کہ آ پ سے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم محبت کریں ۔ اے اللہ ہمیں بھی ان میں سے بنا دیجئے ۔


ماہنامہ بینات
[center]ہوا کے رخ پے چلتا ہے چراغِ آرزو اب تک
دلِ برباد میں اب بھی کسی کی یاد باقی ہے
[/center]

روابط: بلاگ|ویب سائیٹ|سکرائبڈ |ٹویٹر

اعجازالحسینی
مدیر
مدیر
مراسلات: 10960
تاریخ شمولیت:: ہفتہ اکتوبر 17, 2009 12:17 pm
جنس:: مرد
مکانیت: اللہ کی زمین
CONTACT:

Re: محبت رسول ﷺایمان میں سے ہے !

مراسلہاز: اعجازالحسینی » ہفتہ فروری 27, 2010 10:41 am

(۳)


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع
اتباع، محبت کی سب سے بڑی علامت اور محبت کی ترقی میں قوی تاثیر رکھتی ہے ، اتباع کا محبت کی علامت ہونا تو عیاں اورظاہر ہے، کیوں کہ محبت کرنے والاہمیشہ اپنے محبوب کی موافقت کرتاہے، وگرنہ وہ اپنے دعوی محبت میں جھوٹا ثابت ہوگا ، اور اتباع :محبت میں مؤثر ہے تو اس لئے کہ مومن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات کے جمال اور کمال کو عملی طور پر محسوس کرتا ہے اورتجربہ سے اس میں ایک ذوق پیدا ہوجاتا ہے ،اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اضافہ ،اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے قرب اورمحبوبیت حاصل ہوتی ہے ۔
اللہ کے ساتھ سچی محبت کے دعویٰ کو پرکھنے کے لئے اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کو معیار بنایا ہے۔ ارشاد باری ہے :

﴿ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ ﴾ (آل عمران :۳۱)
ترجمہ :۔”آپ ان سے کہہ دیں !اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرا اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا“ ۔

۲: قرآن کریم سے محبت
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کاکلام ہے ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت اسی سے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے ذریعے مخلوق کو حق کی راہ بتائی ہے اور اس کے بتائے ہوئے اخلاق کو پوراپورا اپنایا ہے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق میں سب سے اعلیٰ اخلاق پر فائز ہوگئے ۔جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

﴿وَاِنّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ﴾ ( القلم :۴)
ترجمہ :” بے شک آپ اخلاق کے عظیم مقام پر ہیں“۔
اب آپ قرآن کریم کے ساتھ اپنے دل کی محبت کا امتحان لیجئے ، اور اس کے سننے سے جو آپ کو لذت حاصل ہوتی ہے ،اس کا امتحان لیجئے ، کہ کیا قرآن کریم سننے کی لذت گانے باجے سننے کی لذت سے زیادہ ہے ؟اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو آپ سمجھ لیجیے کہ آپ قرآن کریم کی محبت میں سچے ہیں ، کیوں کہ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص کسی سے محبت کرتا ہے، اس کے نزدیک تو اس کی باتیں، اس کا کلام ،سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے ،اور ایسی محبت قرآن کریم سے کیوں نہ ہو ، جب کہ وہ اپنے الفاظ اور معانی کے اعتبار سے تمام آسمانی کتب پر فائق وبرترہے ، اور جس کے الفاظ اپنی گیرائی اور گہرائی کے اعتبار سے حق کی تجلیات پر مشتمل ہیں،جس کے بیان کے جمال اور نظم کے کمال نے انسانوں اور جنوں کو اس کی مثل لانے سے عاجز کردیا ہے اور اللہ تعالی نے اسے روح سے تعبیر فرمایاہے ، ارشاد بار ی ہے :

﴿وَکَذٰلِکَ أوْحَیْنَا إلَیْکَ رُوْحاً مِّنْ أمْرِنَا﴾ ( الزخرف ، آیة:۵۲)
ترجمہ :۔”اور اسی طرح بھیجا ہم نے تیری طرف ایک فرشتہ اپنے حکم سے۔“
جس طرح روح اجساموں کے لئے حیات اور زندگی کا سبب ہے ، اسی طرح قرآن کریم تمام ارواحوں کی روح کی حیات اور زندگی کا سبب ہے ، لہذا ایک مُحب اپنے محبو ب کے کلام سے کیسے سیر ہوسکتا ہے جب کہ وہ محبوب ہی اس کا مطلوب ومقصود ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کیاخوب فرمایا : ”اگر ہمارے دل پاک وصاف ہوتے تو ہم اللہ تعالی کے کلام سے کبھی سیر نہ ہوتے ۔“

۳: آپ اکی سنت سے محبت ، اور آپ کی حدیث پڑھنا
محبت کالازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ محب اپنے محبوب کے ساتھ ہر چیز میں موافقت اور اتفاق کرے۔ لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کی سنت اور طریقہ کی اتباع کی جائے اور جو شخص خود اس سنت کو معلوم کرنے پر قادرنہیں ،اسے چاہیے کہ جو اس کا عالم ہے اس سے پوچھے، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کا حال ہے ، جو ایسے محبوب کا کلام ہے جو افضل البشر ہے ، اور وہ سب سے بہتر کلام ہے جوکسی انسان کی زبان سے نکلا ہے ، یہ کلام معنی کے اعتبار سے خوبصورت اور الفاظ کے اعتبار سے نہایت عمدہ ہے ،، اگر آپ اس درجہ تک نہیں پہنچ سکے تو آپ اسے غور سے سنیں اور ایسی مجلس میں جائیں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پڑھی جاتی ہو ، اب آپ خود فیصلہ کریں کہ حدیث کی ان مجالس اور ان حلقوں سے آپ کی کیا نسبت ہے ؟

۴:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیر ت اور شمائل سے محبت
یہ محبت کا طبعی تقاضا ہے کہ محب اپنے محبوب کو پہچانے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیر ت اور شمائل ہی آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی پہچان کرائیں گے ۔ علیہ افضل الصلاة واتمّ التسلیم ۔ اور آپ کی سیرت اور شمائل کے اعتبار سے جتنا آپ کے علم میں اضافہ ہوگا اتناہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی محبت میں اضافہ ہوگا ، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کے علم کے بعدآپ کی معرفت میں اضافہ ہوگا ۔اور پھر آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کمال حاصل ہوگا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت شریفہ آپ کے دل پر چھا جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت شریفہ کو آپ کے لئے استاذ معلم ، شیخ اور مُقتدیٰ بنادیں گے، جیسا کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی اپنا رسول اوراپنا ہادی بنایا ہے ۔
اس سے معلو م ہوا کہ ایک مومن محب کے لئے ضروری ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیر ت ، آپ کے ابتدائی حالات ، آپ پر وحی کے نزول کی کیفیت کا علم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ، اخلاق ، حرکات و سکنات ، آپ کے جاگنے اورسونے ، اپنے رب کی عبادت کرنے ، گھروالوں کے ساتھ حسن معاشرت ، صحابہ کرام کے ساتھ آپ کا کریمانہ معاملہ اور اس طرح کے دوسرے امور کو پہچانے اور ان کا علم حاصل کرے، اور ایسا ہوجائے گویا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے صحابہ میں سے ایک ہے ۔

۵: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ خیر کثرت سے کرنا
اورجب بھی آپ کا ذکر آئے آپ کی تعظیم کرنا
بعض بزرگوں کا قول ہے کہ ” محبت نام ہے محبوب کو ہر وقت یا دکرنے کا “ اور تمام عقلا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جوشخص کسی سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کا ذکر بار بار کرتا ہے ۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے ساتھ آپ کی تعظیم میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ” سیدنا“ استعمال کیا جائے ، اور آپ کے نام کے ذکر کرنے یا سننے کے وقت خشوع و خضوع کااظہار کیا جائے ، اور یہ بہت سے صحابہ کرام اور ان کے بعد آنے والے حضرات سے ثابت ہے ۔
بطور مثال :حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ایک دن فرمایا :”قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم : تو تھرتھرانے لگے اور ان کے کپڑے بھی ہلنے لگے۔
یہ کیفیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی وجہ سے طاری ہوئی، عنقریب صلح حدیبیہ کی حدیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اورتعظیم کا بیان آنے والا ہے ۔

۶:آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کا انتہائی شوق
ہر مُحبّ اپنے محبوب سے ملنے کا مشتاق ہوتا ہے ، تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرنے والے کا کیا حال ہوگا ! وہ چاہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوخواب میں دیکھے اور آخرت میں آپ کی ذات سے ملاقات ہو ، اسی لئے لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ” محبت تو محبوب کے اشتیاق کانام ہے :“
اس سلسلہ میں ایک مشہور واقعہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہے کہ جب ان کو موت کا استحضار ہوا تو ان کی بیوی کی زبان سے پریشانی کی حالت میں یہ الفاظ نکلے ”واہ حَرَباہ“ہائے میرا گھر ویران ہوگیا ، تو اس کے جواب میں حضرت بلال رضی اللہ نے فرمایا :

” واطَربا، غداً ألقی الأحبة، محمداً و صحبہ“․
ترجمہ :”او میری خوشی ! کل میں اپنے محبوبوں سے ملوں گا ، حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے “۔

۷:آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود وسلام پڑھنا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود و سلام پڑھنا، یہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کثرت سے یاد کرنے ،آپ کی تعظیم کرنے اور آپ سے ملنے کا شوق رکھنے کا لازمی نتیجہ ہے اور اس سلسلہ میں ہمارے لئے اللہ تعالی کا یہ فرمان ہی کافی ہے :

﴿اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلَائِکَتَہ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِمُوْا تَسْلِیْمًا﴾ (سورة الأحزب:۵۶ )
ترجمہ:۔” الله اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں رسول پر ، اے ایمان والو! رحمت بھیجو اس پر اور سلام بھیجو سلام کہہ کر۔“
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:

” من صلّٰی علیّ صلاةً واحدةً صلَّی الله علیہ بہا عشراً“
(اخرجہ مسلم واصحاب السنن․)
ترجمہ :”جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا ،اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں “۔
اور آپ صلی اللہ علیہ کا یہ ارشاد کہ جبریل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا :

”ألاأبشّرک ۔ إن الله عزوجل یقول: من صلیّٰ علیک صلّیتُ علیہ ، ومن سلّم علیک سلّمتُ علیہ“ (رواہ أحمد وحاکم وصححہ ووافقہ الذھبی․)
ترجمہ :” کیا میں آپ کو خوش خبری نہ سناوٴں… اللہ عز وجل فرماتے ہیں، جس نے آپ پر درود پڑھا، میں اس پر رحمت نازل کروں گا، اور جس نے آپ پر سلام بھیجا میں اس پر سلامتی نازل کروں گا۔“
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے :

”إن أولی الناس بی یوم القیامة أکثرھم علیّ صلاةً ‘ ( صححہ ابن حبان)
ترجمہ :”قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہو گا جو مجھ پر زیادہ درود پڑھے گا۔“
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبین کے لئے خصوصاً یہ حدیث قابل ذکر ہے ، جسے حضرت انس رضی اللہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

”من صلّٰی علی بلغتنی صلاتُہ ، و صلّیتُ علیہ ، و کُتِبَ لہ سوی ذلک عشرُ حَسناتٍ“(طبرانی فی الاوسط باسناد لا باس بہ و لہ شواھد بإسناد حسن عن ابن مسعود)
ترجمہ :”جس نے مجھ پر درور پڑھا ، اس کا درود مجھ تک پہنچتا ہے اور میں اس کے لئے دعائے رحمت کرتا ہوں اور اس کے لئے دس مزید نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔“
آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر درود و سلام بھیجنا گویا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بمنزل مناجات کے ہے،کہ جب آپ یہ کہتے ہیں:”اللّٰھم صَلِّ علی سیدنا محمد و سلم“
ترجمہ:” اے اللہ! رحمت اور سلامتی نازل فرما، ہمارے سردار حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر۔“
آپ صلی اللہ علیہ و سلم جواب میں فرماتے ہیں:”صلی الله علیک یا فلان “
ترجمہ :”اللہ تعالی تجھ پر اپنی رحمت فرمائے ، اے فلانے “۔
اے اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قلب مبارک کو ہمارے اوپر پھیر دے ، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہماری جانب سے وہ بہترین بدلہ دے جو آپ نے کسی نبی کو ا س کی امت کی طرف سے دیا ہے ۔
[center]ہوا کے رخ پے چلتا ہے چراغِ آرزو اب تک
دلِ برباد میں اب بھی کسی کی یاد باقی ہے
[/center]

روابط: بلاگ|ویب سائیٹ|سکرائبڈ |ٹویٹر


واپسی بجانب

کون متصل ھے

فورم پر موجود اراکین: 0 اور 0 مہمانان