انوکھی ایجاد (مکمل کہانی)

بچوں کے لئے ہمہ قسم تحریریں اور بہت کچھ
رکن کی نمائندہ تصویر
Ali mujtaba
کارکن
کارکن
مراسلات: 102
تاریخ شمولیت:: پیر اپریل 03, 2017 3:49 pm
جنس:: مرد

انوکھی ایجاد (مکمل کہانی)

مراسلہاز: Ali mujtaba » اتوار جون 04, 2017 11:50 pm

انوکھی ایجاد قسط نمبر 1
رائٹر :علی مجتبیٰ
پروفیسر عامر آج اپنی لیب میں کوئی تجربہ کررہے تھے کہ اچانک پروفیسر عامر خوشی کے عالم میں کہا یس۔پروفیسر عامر کے شاگرد حسن جو پروفیسر عامر کی لیب میں تھا نے کہا کہ استاد کیا ہوا ہے ۔پروفیسر عامر نے کہا میں نے ایک ایسی ایجاد بنائی ہے جس کی مدد سے ہم سیکنڈوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکتے ہیں۔حسن نے کہا ایجاد کا نام کیا ہے۔پروفیسر عامر نے ایک گھڑی اٹھائی اور کہا یہ جو تم یہ گھڑی دیکھ رہے ہو نا اس گھڑی کی مدد سے ہم سیکنڈوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکتے ہیں۔اس ایجاد کا میں نے نام رکھا ہے تیزاگھڑی۔حسن نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم۔ایک جگہ سے دوسری جگہ کچھ ہی سیکنڈوں میں جاسکتے ہیں۔پروفیسر عامر نے اپنے ہاتھ میں تیزا گھڑی پہنی اور اس گھڑی میں موجود نیلے رنگ کا بٹن دبایا اور کہا عمران سبزی منڈی۔یہ کہہ کر وہ عمران سبزی منڈی پہنچ گئے۔پھر پروفیسر عامر نے گھڑی کے نیلے رنگ کا بٹن دبایا اور کہا عامر لیب۔جب انہوں نے یہ کہا تو وہ اچانک اپنے لیب میں پہنچ گئے۔پروفیسر عامر نے حسن سے کہا اب آیا یقین۔حسن نے حیرانی کے عالم میں کہا ہاں آگیا یقین
(جاری ہے)

رکن کی نمائندہ تصویر
Ali mujtaba
کارکن
کارکن
مراسلات: 102
تاریخ شمولیت:: پیر اپریل 03, 2017 3:49 pm
جنس:: مرد

انوکھی ایجاد دوسری قسط

مراسلہاز: Ali mujtaba » بدھ جون 07, 2017 6:14 pm

انوکھی ایجاد قسط نمبر 2
رائٹر علی مجتبیٰ
پروفیسر عامر نے حسن سے کہا حسن بہت رات ہوگئی ہے اپنے گھر جاؤ۔حسن نے کہا ٹھیک ہے۔اگلے دن پروفیسر عامر جب اپنی لیب میں پہنچے تو وہاں پر تیزا گھڑی نہیں تھی۔اصل میں پروفیسر عامر غلطی سے تیرا گھڑی کو اپنی لیب میں ہی چھوڑ گئے تھے۔پروفیسر عامر پریشان ہوگئے کہ اب کیا ہوگا۔پروفیسر عامر نے انسپکٹر حیدر کو کال کی۔ اور بتایا کہ میری ایجاد تیزا گھڑی چوری ہوگئی ہے۔اور اس گھڑی کے بارے میں بتایا کہ اس گھڑی سے کیا کیا ہوسکتا ہے۔انسپکٹر حیدر اور پروفیسر عامر آپس میں دوست تھے۔انسپکٹر حیدر نے کہا یہ تو بہت برا ہوا۔میں تفسیس کے لیے آپ کے گھر آرہا ہوں ۔انسپکٹر حیدر جب پروفیسر عامر کے گھر میں داخل ہوئے۔تو پروفیسر عامر نے کہا آپ بیھٹیں۔انسپکٹر حیدر نے کہا شکریہ۔انسپکٹر حیدر نے پروفیسر عامر سے کہا کہ آپ کی اس گھڑی کے بارے میں کس کس کو پتا ہے۔پروفیسر عامر نے کہا اس گھڑی کے بارے میں تو صرف حسن کو ہی پتا ہے۔لیکن حسن تو کافی سلجھا ہوا لڑکا ہے وہ ایسا کام نہیں کرسکتا۔انسپکٹر حیدر نے کہا ہاں حسن کو تو میں جانتا ہوں۔وہ تو اچھا لڑکا ہے۔اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔پروفیسر عامر نے جب دروازہ کھولا تو دروازے پر حسن تھا۔حسن پروفیسر عامر کے گھر کے اندر داخل ہوا اور کہا پروفیسر آج آپ لیب میں نہیں آئے۔پروفیسر عامر نے کہا بیٹا میری تیزا گھڑی چوری ہوگئی ہے۔حسن نے کہا او ہو۔یہ تو بہت برا ہوا۔حسن نے کہا ٹھیک ہے میں اپنے گھر جارہا ہوں۔پروفیسر عامر نے کہا ٹھیک ہے۔
(جاری ہے)

رکن کی نمائندہ تصویر
Ali mujtaba
کارکن
کارکن
مراسلات: 102
تاریخ شمولیت:: پیر اپریل 03, 2017 3:49 pm
جنس:: مرد

انوکھی ایجاد قسط نمبر 3

مراسلہاز: Ali mujtaba » جمعہ جون 16, 2017 10:13 pm

انوکھی ایجاد قسط نمبر 3
رائٹر علی مجتبیٰ
اچانک انسپکٹر حیدر کو ایک کال آئی۔انسپکٹر حیدر نے فون کو اٹھایا۔اور فون میں کسی سے باتیں کیں۔پھر کال معطل کی۔اور پریشانی کے عالم میں اپنے سر کو پکڑ لیا۔پروفیسر عامر نے کہا کیا ہوا ہے۔انسپکٹر حیدر نے کہا کہ عمران بینک لیمیٹد میں چوری ہوئی ہے۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ چور نا ہی دروازے سے آیا ہے اور نا ہی دروازے سے باہر نکلا ہے۔پروفیسر عامر نے کہا اس کا مطلب ہے کہ اس چور کے پاس تیزا گھڑی ہے۔انسپکٹر حیدر نے کہا ہاں مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے
(جاری ہے)

رکن کی نمائندہ تصویر
Ali mujtaba
کارکن
کارکن
مراسلات: 102
تاریخ شمولیت:: پیر اپریل 03, 2017 3:49 pm
جنس:: مرد

انوکھی ایجاد قسط نمبر 4

مراسلہاز: Ali mujtaba » جمعہ جون 16, 2017 10:16 pm

انوکھی ایجاد قسط نمبر 4
رائٹر علی مجتبیٰ
انسپکٹر حیدر جب پریشانی کے عالم میں اپنے گھر میں داخل ہوئے تو سلمان کو انسپکٹر حیدر کو پریشان دیکھ کر پتا چل گیا کہ کوئی بات ہے۔سلمان نے انسپکٹر حیدر کو سلام کیا اور کہا چچا آپ پریشان کیوں ہو۔انسپکٹر حیدر نے سلام کا جواب دیا اور کہا بیٹا ایک کیس کے حوالے سے پریشان ہوں ۔سلمان نے سوچا یہ اچھا موقع ہے جاسوسی کرنے کا۔سلمان نے کہا چچا کون سا کیس کیسا کیس۔یعنی کس حوالے سے کیس ہے آپ کا یہ ننھا جاسوس حاضر ہے۔انسپکٹر حیدر مسکرائے۔انسپکٹر حیدر نے کہا بیٹا آپ کو تو جاسوسی کا بہت شوق ہے۔آپ کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔کمرے میں چلو بتاتا ہوں۔سلمان نے کہا ٹھیک ہے۔سلمان اور انسپکٹر حیدر کمرے میں داخل ہوئے۔انسپکٹر حیدر اور سلمان بیٹھے۔سلمان نے کہا اب تو بتائیں کہ کون سا کیس ہے۔انسپکٹر حیدر نے کہا کہ پروفیسر عامر نے ایک ایجاد بنائی جس کی مدد سے ہم سیکنڈوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں۔وہ ایجاد چوری ہوگئی ہے ۔اور جس نے بھی یہ ایجاد چوری کی ہے وہ ایک چور ہے اور اسی نے آج عمران بینک لمیٹڈ میں چوری کی ہے۔سلمان نے کہا چچا آپ کو کیسا پتا چلا کہ جس چور نے وہ ایجاد چوری کی ہے اسی نے عمران بینک لٹیمیڈ میں چوری کی ہے۔انسپکٹر حیدر نے کہا کہ چور سکینڈوں میں وہاں داخل ہوا اور سیکنڈوں میں وہاں سے چلا گیا۔سلمان نے کہا پھر تو عمران بینک لمیٹڈ کا سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرنی پڑے گی۔شاید کچھ ثبوت مل جائیں۔انسپکٹر حیدر نے کہا ہاں اچھا پلان ہے۔
(جاری ہے)

رکن کی نمائندہ تصویر
Ali mujtaba
کارکن
کارکن
مراسلات: 102
تاریخ شمولیت:: پیر اپریل 03, 2017 3:49 pm
جنس:: مرد

انوکھی ایجاد (مکمل کہانی)

مراسلہاز: Ali mujtaba » جمعہ جون 16, 2017 10:30 pm

انوکھی ایجاد قسط نمبر 5
رائٹر علی مجتبیٰ
انسپکٹر حیدر اور سلمان جب عمران بینک لمیٹڈ میں داخل ہوئے۔عمران بینک لمیٹڈ کا مالک انسپکٹر حیدر کے دوست تھے۔انسپکٹر حیدر اور سلمان نے جب عمران بینک لمیٹڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی۔تو انہوں نے دیکھا کہ۔ایک چور سیکنڈوں میں بینک میں داخل ہوا اور سیکنڈوں میں وہاں سے بھاگ گیا۔لیکن اس نے اپنے چہرے پر نقاب پہنا ہوا تھا۔انسپکٹر حیدر نے کہا چور کی تو شکل ہی ظاہر نہیں ہورہی ہے۔سلمان نے کہا ہاں لیکن اس کے بائیں ہاتھ کی پانچویں انگلی کٹی ہوئی ہے۔اور اس نے ایک عجیب سی شکل کی گھڑی بھی پہنی ہوئی ہے۔جو شاید تیزا گھڑی ہے۔چنانچہ آگر اس چور کو پکڑ لیا تو ایک تیر سے دو نشانے ہوجائیں گے۔انسپکٹر حیدر نے سلمان کی عقل کو داد دی اور کہا بہت خوب آپ تو بہت ذہین ہیں۔سلمان نے کہا تعریف کرنے پر شکریہ ۔لیکن اس چور کو پکڑ کیسے پائیں گے۔انسپکٹر حیدر نے کہا آگر ہم پروفیسر عامر کی لیب کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کریں تو شاید پتا چل جائے۔سلمان نے کہا ہاں اچھا ہے
انوکھی ایجاد قسط نمبر 6
رائٹر علی مجتبیٰ
انسپکٹر حیدر اور سلمان پروفیسر عامر کے پاس گئے ۔انسپکٹر حیدر نے پروفیسر عامر سے کہا کہ ہمیں چور کو پکڑنے کیلئے آپ کی لیب کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرنی ہے۔پروفیسر عامر نے کہا ٹھیک ہے۔وہ ایک لیپ ٹاپ لائے۔جس کی مدد سے پروفیسر عامر کی لایب کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی جاسکتی تھی۔جب انہوں نے سی سی ٹی وی چوٹیج چیک کی تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص آیا لیکن اس کا چہرہ دھندلا تھا۔اس شخص نے تیزا گھڑی کو اٹھایا اور بھاگ گیا۔انسپکٹر حیدر نے کہا او ہو۔اس کا چہرہ تو دھندلا ہے۔کیسے پتا چلے گا کہ کون ہے۔پروفیسر عامر نے کہا پریشان نا ہوں میں ایک ایسی ایجاد پر آج کل۔کام کررہا ہوں جس کو آگر ہم لیپ ٹاپ پر لگائیں گے تو سی سی ٹی وی فوٹیج بالکل صاف صاف نظر آئی گی۔انسپکٹر حیدر نے کہا کب تک بن جائے گی یہ ایجاد۔پروفیسر عامر نے کہا کل تک بن جائے گی۔کل رات کو میرے گھر آنا۔ایجاد دے دو گا۔انسپکٹر حیدر اور سلمان جب اگلے دن پروفیسر عامر کے گھر کے دروازے میں پہنچے اور گھنٹی بجائی۔لیکن دس منٹ تک کوئی دروازہ کھولنے نہیں آیا۔انسپکٹر حیدر نے کہا کچھ تو گر بڑ ہے۔سلمان نے کہا ہاں مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے۔انسپکٹر حیدر نے کہا ہاں اب تو دروازہ توڑنا ہی پڑے گا۔انسپکٹر حیدر نے جب دروازہ توڑا اور اندر داخل ہوئے تو حیران ہوئے بغیر نا رہ سکے
(جاری ہے)
Last edited by Ali mujtaba on جمعرات جون 22, 2017 7:03 pm, edited 2 times in total.

رکن کی نمائندہ تصویر
Ali mujtaba
کارکن
کارکن
مراسلات: 102
تاریخ شمولیت:: پیر اپریل 03, 2017 3:49 pm
جنس:: مرد

انوکھی ایجاد آخری قسط

مراسلہاز: Ali mujtaba » ہفتہ جون 17, 2017 1:07 pm

انوکھی ایجاد آخری قسط
- رائٹر علی مجتبیٰ
- انھوں نے پروفیسر عامر کے گھر میں پروفیسر عامر کی لاش دیکھی۔انسپکٹر حیدر اپنے دوست کی لاش کو دیکھ پر پریشان ہوگئے۔ نیچے گرتے گرتے بچے۔سلمان نے کہا چچا پریشان نا ہوں۔لیکن کیسے پتا چلے گا کہ ان کو قتل کس نے کیا ہے۔انسپکٹر حیدر نے کہا پروفیسر عامر نے مجھے ایک گیجٹ دیا تھا۔اس گیجٹ کی مدد سے ہم قاتل کو پکڑ لیں گے۔سلمان نے۔کہا وہ کیسے ۔انسپکٹر حیدر نے کہا جب ہم پروفیسر عامر کی لاش کے فنگر پرنٹس چیک کرکے فنگر پرنٹس کو اس گیجٹ میں ڈالیں گے تو جس بھی شخص نے انہیں قتل کیا ہے اس کی تصویر آجائے گی اس گیجٹ میں۔جب انسپکٹر حیدر نے پروفیسر عامر کی لاش کی۔فنگر پرنٹس چیک کیں اور فنگر پرنٹس کو گیجٹ میں ڈالا تو جس شخص کی تصویر آئی اس شخص کی تصویر دیکھ کر وہ دونوں حیران ہوگئے۔انسپکٹر حیدر نے کہا عمران بینک لمیٹڈ چلو۔جب انسپکٹر حیدر اور سلمان گاڑی میں بیٹھے۔تو سلمان نے کہا مجھے لگتا ہے کہ چور اور قاتل ایک ہی ہیں کیونکہ اس چور کو پتا چل گیا ہوگا کہ پروفیسر عامر ایک ایجاد بنا رہے ہیں جس کی مدد سے ہم چور کو پکڑ سکتے ہیں اس لیے اس چور نے پروفیسر عامر کو مار دیا ہوگا۔انسپکٹر حیدر نے کہا ہاں مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔انسپکٹر حیدر اور سلمان جب عمران بینک لمیٹڈ میں داخل ہوئے اور اس بینک کے مالک کے روم میں داخل ہوئے تو انسپکٹر حیدر نے عمران بینک لمیٹڈ کے مالک کو کہا تم ہی۔ہو نا جس نے تیزا گھڑی چوری کی تھی اور پروفیسر عامر کو مارا۔مالک نے کہا ہاں۔انسپکٹر حیدر نے کہا تم نے ایسا کیوں کیا۔مالک نے کہا تمہیں تو پتا ہی ہوگا کہ حسن میرا بھیجتا ہے۔جب اس نے مجھے بتایا کہ پروفیسر عامر نے ایک ایجاد بنائی ہے۔جس کی مدد سے ہم سیکنڈوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکتے ہیں تو میں نے سوچا کہ ایجاد میرے پاس بھی ہونی چاہیے۔میں نے پروفیسر عامر سے کہا کہ مجھے یہ ایجاد دے دو لیکن پروفیسر عامر نے کہا میں تمہیں یہ ایجاد نہیں دوں گا۔بلکہ پولیس کو دوں گا۔میں نے پروفیسر عامر سے کہا کہ میں تمہیں دس ہزار ڈالر دے دوں گا لیکن وہ نا مانا۔تو میں نے یہ ایجاد چوری کرلی اور اگلے دن۔اپنے بینک میں چوری کرنے کا ڈرامہ کیا۔تاکہ کسی کو پتا نا چلے کہ میں نے ہی ایجاد چوری کی ہے۔لیکن جب پروفیسر عامر نے تمہیں کہا تھا کہ میں ایک ایسی ایجاد بناؤں گا جس کی مدد سے سی سی ٹی وی فوٹیج صاف ستھری نظر آئے گی۔اس وقت میں پروفیسر عامر کے گھر کے دروازے پر تھا۔میں نے جب یہ بات سنی تو میں نے سوچا کہ اب تو پروفیسر عامر کو مارنا ہی پڑے گا اور جب سلمان اور انسپکٹر حیدر پروفیسر عامر کے گھر سے باہر نکلے اس وقت میں ایک درخت کی پیچھے چھپ گیا۔جب تم دونوں اپنی گاڑی میں بیٹھے میں پروفیسر عامر کے گھر میں داخل ہوا اور پروفیسر عامر کو قتل کر دیا۔انسپکٹر حیدر نے کہا تم میرے دوست تھے لیکن اب جو تم نے حرکت کی ہے اس حرکت کے بعد تم۔میرے دوست نہیں مجرم بن گئے ہو مجرم ۔تم نے ایک قتل بھی کیا ہے اس لیے تمہیں پھانسی ہوگی پھانسی
- ختم شد
- نوٹ یہ ناولٹ آپ کو کیسا لگا کیا ان کرداروں پر اور ناولٹ لکھیں جائیں


واپسی بجانب

کون متصل ھے

فورم پر موجود اراکین: 0 اور 0 مہمانان