عہدوفا

اردو کے منتخب افسانے یہاں شیئر کریں
Nahidtahir
کارکن
کارکن
مراسلات: 9
تاریخ شمولیت:: پیر اگست 31, 2015 11:21 am
جنس:: عورت

عہدوفا

مراسلہاز: Nahidtahir » ہفتہ جولائی 29, 2017 4:16 pm

]
" عہد وفا "

ناہیدطاہر
(ریاض،سعودی عرب )

چاند اپنے پورے شباب پر تھا۔۔۔۔وہ اپنی چاندنی کے ساتھ ہمیشہ کی طرح آنکھ مچولی کھیلتا ہوا کافی سرشار نظر آرہا تھا ، کبھی بادلوں کی اوٹ چھپ جاتا تو کبھی پوری طرح سامنے آکر کھلکھلا اٹھتا۔۔۔۔۔مریم اداس کھڑی چندہ اور اسکی چاندنی کی دلچسپ شوخیوں اور آنکھ مچولی کو دیکھتی رہی۔۔تم دونوں کتنے خوش نصیب ہو، کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے۔۔۔۔صدیاں گزگئیں لیکن تم دونوں کی وفا ، بے وفا ئی میں تبدیل نہ ہوپائی۔۔۔۔۔!!!
کاش میرا محبوب بھی ایک چاند ہوتا اور میں اسکی چاندنی اور ہماری محبت صدیوں تک قائم رہتی۔۔۔۔!!!
نہیں یہ ممکن نہیں۔۔۔۔۔!!! اس سوچ کے ساتھ گرم آنسو کی دو بوندیں موتی بن کر اسکے رخسار پر ڈھلک آئے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیصل کو سعودی عرب گئے پانچ سال گزر چکے تھے وہ ہرسال صرف ایک ماہ کی چھٹی پر ہندوستان آتا ، پانچ سال کی شادی شدہ زندگی میں وہ دونوں صرف جدائی کا زہر چکھ رہےتھے۔
فیصل ہمیشہ کہتا ، ہررات تم چھت پر آجانا اور چاند پر اپنی خوبصورت آنکھیں مرکوز کئے چاند کوتکتی رہنا، میں خود بھی یہاں پردیس سے اس چاند کو دیکھا کرونگا۔۔۔۔۔۔۔اسطرح ہم دونوں کی نظریں آپس میں ٹکرا سکتی ہیں آنکھوں کی اس خوبصورت ملن سے ہم اپنے وجود کو سیراب کرلیں گے ۔
یہ چاند ہماری محبت کا گواہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
جب تک ہم جدا رہیں ، تب تک ہم یہ عہدِ وفانبھائیں گے۔...!!!
ہاں آپ دیکھنا میری یہ آنکھیں میرےمرنے کے بعد بھی کھلی رہیں گی ۔۔۔۔جو چاند کو تکتی آپکا انتظار کررہی ہوں گی۔۔۔۔۔۔۔مریم اداسی سے کہہ دی
ایسی باتیں مت کرو۔۔۔وہ بے اختیار اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔مریم نے دیکھا فیصل کی آنکھوں کے گوشے بری طرح بھیگ چکے تھے۔وہ دھیرے سے مسکرائی اور اپنی مخروطی انگلیوں سے اسکے نم گوشوں کو صاف کی ۔پھر وہ چلاگیا۔۔۔۔
ملن کا یہ انوکھا انداز دونوں نے اپنایا تھا۔۔۔۔۔ان کی محبت کے درمیان یہی عہد وپیماں تھے جنہیں وہ دونوں ہی گزشتہ پانچ سالوں سے دیوانگی کے عالم میں نبھا بھی رہے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیصل مجھے نیند نہیں آرہی ہے۔۔۔وہ چودھویں کے پرشباب چاند پر نظریں ٹکائے فون پر سسک پڑی ۔
پتہ نہیں کیوں بہت بے چینی ہورہی ہے۔ ۔۔۔۔!!!
مجھے بھی۔۔۔۔! آج تمہاری یاد بہت آرہی ہے۔۔۔۔! فیکٹری میں بہت کام تھا۔۔۔بہت تھک گیا ہوں۔۔۔۔جسم درد کررہا ہے۔۔۔لیکن کمرے کی جانب رخ کرنے کوطبیعت نہیں چاہ رہی ۔۔۔ادھر سڑک کے کنارے بیٹھا اس چاند کو تک رہا ہوں جسپر میرے چاند کی نگاہیں ٹکیں ہیں۔۔۔۔
جان! کمرے پر چلے جائیں ۔۔۔کچھ آرام کرلیجئےگا۔۔۔۔
"نہیں میں تمہیں چھوڑکرکہیں نہیں جاسکتا۔۔۔۔"
یہ کیا دیوانگی ہے۔۔۔۔۔۔۔؟!!!
دیوانگی نہیں ہم پردیسیوں کی محبت کا حسین انداز ہے۔!!!
چاند دونوں کے اس جنون پر مسکرادیا۔

مریم آج تنخواہ ملی ہے۔بارہ سو ریال۔۔۔۔۔جسمیں کینٹین کےسوریال کٹ گئے۔۔۔۔ایک دوست سے گزشتہ ماہ دو سو ریال قرض لیا تھا وہ بھی ادا کیا۔۔۔۔۔اسطرح 900ریال ہاتھ میں ہیں۔۔۔۔جو اماں کی دوائی ،گھر کا خرچ اور چھوٹے بھائی کی اسکول فیس وغیرہ اخراجات کے لئے کافی ہیں۔۔۔۔تم بھی اماں سے ایک ہزار روپیئے مانگ لینا۔۔۔۔۔۔
گزشتہ پانچ سالوں سے زیست کا سفر بس اسی حساب کتاب کے اطراف چکر کاٹتا رہ گیا۔۔۔مریم دکھ سے آہ بھری۔
جانو سب ٹھیک ہوجائےگا ۔۔۔۔۔۔فیصل چاند کو نہارنے لگا۔
مجھے پیسہ نہیں چاہئے ۔۔۔۔بس آپکا سا تھ چاہتی ہوں۔وہ دکھ بھرے انداز میں کہی۔
زندگی میں ریال بہت اہم ہیں
اسکے بغیر زندگی کی رفتار رک جائےگی ۔۔۔۔۔۔!!! فیصل مٹھی میں تھمے کرارے ریال سختی سے بھینچتاہوا کہا
جواب میں وہ سسکیاں لینے لگی۔
ارےےے دیکھو تمہارے ان آنسوؤں سے چاند پگھل جائےگا۔۔۔۔۔وہ اسکو ہنسانا چاہا ۔۔۔۔لیکن وہ اور تیز رونے لگی توبڑی بے بسی سے چاند کو دیکھتا ہواکھڑا ہوا
مریم۔۔۔۔مریم۔ ۔۔۔۔۔۔جان پلیز اس طرح مت رونا۔۔۔میں برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔۔وہ بےچین ہوتا کہا اور بے خودی کے عالم میں آگے بڑھتا چلاگیا۔۔۔۔دور سے آتی تیز رفتار گاڑی کے بریک زور دار آواز سے چَرچَرائے۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔دوسرے ہی پل اسکے جسم کو ہوا میں اڑا لے گئے۔۔۔۔۔۔۔ فیصل کے منہ سے کربناک چیخ بلند ہوئی۔۔۔۔موبائیل دور جاگرا۔۔۔۔ہاتھ میں تھمے ریال فضا میں لہرائے ۔۔۔۔۔۔
فیصل۔۔۔۔فیصل کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔مریم پوری قوت سے چیخنے لگی۔۔۔۔
وہ دکھ سے کراہ اٹھا آنکھیں بند ہورہی تھیں۔۔۔۔چاند سیاہ بادلوں میں چپ گیا۔۔۔۔۔چند ساعتیں گزرگئیں تو اسکو اپنے اطراف آوازیں سنائی دی ۔سانسیں چل رہی ہیں۔۔۔۔!!!!
اچانک چاند سیاہ بادلوں سے نکل آیا۔اسکی متحرک آنکھیں ایک لمحہ کو جی اٹھیں اورچہرے پر ایک خوبصورت مسکان سی چھاگئی۔۔۔۔اس نے زیر لب الوداع کہا اور کلمہ پڑھا۔۔۔اسکی روح پرواز کرگئی لیکن چاند کو تکتی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

ختم شد

رکن کی نمائندہ تصویر
چاند بابو
منتظم اعلٰی
منتظم اعلٰی
مراسلات: 21829
تاریخ شمولیت:: پیر فروری 25, 2008 3:46 pm
جنس:: مرد
مکانیت: بوریوالا
CONTACT:

Re: عہدوفا

مراسلہاز: چاند بابو » ہفتہ جولائی 29, 2017 5:41 pm

بہت خوب بہت ہی بہترین افسانہ ہے۔
مجھے پیسہ نہیں چاہئے ۔۔۔۔بس آپکا سا تھ چاہتی ہوں۔وہ دکھ بھرے انداز میں کہی۔
بالکل جیون ساتھی کو پیسے سے زیادہ اپنے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔

بہت بہت شکریہ۔
قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو
میں اپنے حصے کے سُکھ جس کے نام کر ڈالوں
کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو

Nahidtahir
کارکن
کارکن
مراسلات: 9
تاریخ شمولیت:: پیر اگست 31, 2015 11:21 am
جنس:: عورت

Re: عہدوفا

مراسلہاز: Nahidtahir » اتوار جولائی 30, 2017 4:39 pm

اس حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں
شاید یہ افسانہ ، افسانہ کالم میں پوسٹ کرنا چاہئیے

رکن کی نمائندہ تصویر
چاند بابو
منتظم اعلٰی
منتظم اعلٰی
مراسلات: 21829
تاریخ شمولیت:: پیر فروری 25, 2008 3:46 pm
جنس:: مرد
مکانیت: بوریوالا
CONTACT:

Re: عہدوفا

مراسلہاز: چاند بابو » اتوار جولائی 30, 2017 11:10 pm

لیجئے جناب آپ کی پوسٹ کو اردو افسانہ کے دھاگے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو
میں اپنے حصے کے سُکھ جس کے نام کر ڈالوں
کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو

Nahidtahir
کارکن
کارکن
مراسلات: 9
تاریخ شمولیت:: پیر اگست 31, 2015 11:21 am
جنس:: عورت

Re: عہدوفا

مراسلہاز: Nahidtahir » پیر جولائی 31, 2017 5:46 pm

بہت بہت شکریہ جناب !

Nahidtahir
کارکن
کارکن
مراسلات: 9
تاریخ شمولیت:: پیر اگست 31, 2015 11:21 am
جنس:: عورت

Re: عہدوفا

مراسلہاز: Nahidtahir » اتوار ستمبر 24, 2017 8:54 pm

السلام و علیکم
ایڈمن اردونامہ فورم میرا یہ افسانہ" از ناہید اختر " لکھا گیابرائےمہربانی ناہید طاہر لکھیں۔

رکن کی نمائندہ تصویر
محمد شعیب
منتظم اعلٰی
منتظم اعلٰی
مراسلات: 6489
تاریخ شمولیت:: جمعرات جولائی 15, 2010 7:11 pm
جنس:: مرد
مکانیت: پاکستان
CONTACT:

Re: عہدوفا

مراسلہاز: محمد شعیب » پیر ستمبر 25, 2017 9:28 pm

ماجد بھائی نے تصحیح کر دی ہے

رکن کی نمائندہ تصویر
چاند بابو
منتظم اعلٰی
منتظم اعلٰی
مراسلات: 21829
تاریخ شمولیت:: پیر فروری 25, 2008 3:46 pm
جنس:: مرد
مکانیت: بوریوالا
CONTACT:

Re: عہدوفا

مراسلہاز: چاند بابو » منگل ستمبر 26, 2017 10:14 pm

Nahidtahir نے لکھا ہے:السلام و علیکم
ایڈمن اردونامہ فورم میرا یہ افسانہ" از ناہید اختر " لکھا گیابرائےمہربانی ناہید طاہر لکھیں۔


معافی چاہتا ہوں یہ میری غلطی تھی جسے اب درست کر دیا ہے۔
توجہ دلانے کا شکریہ۔
قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو
میں اپنے حصے کے سُکھ جس کے نام کر ڈالوں
کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو


واپسی بجانب

کون متصل ھے

فورم پر موجود اراکین: 1 اور 0 مہمانان