میری ڈائری کا اک روق

اگر آپ کسی سے گپ شپ لڑانا چاہتے ہیں تو یہاں آیئے۔ اپنے دوستوں سے ملاقات کیجئے اور ڈھیروں باتیں کیجئے
ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » پیر ستمبر 14, 2015 7:15 pm

اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
میرا نام محمد ابراہیم حسین ہے
اور یہ میری ڈائری کا اک ورق جو میں اکثر اپنی کاغذ کی ڈائری لکھتا ہوں اس میں سے کچھ پسندیدہ روق پر مشتمل ہے
جو آج سے یہاں لکھنے لگا ہوں
اس کی وجہ کوئ خاص نہیں بس اک نام کا نشان چھوڑنا چاہتا ہوں کاغذ کی ڈائری کا کیا پتہ مرنے کے بعد کیا ہوگا اللہ ہی جانے
یہاں جو کچھ لکھوں گا یہ میری ذندگی کا حال اور گزرے وقت کا پتہ بتائے گا لیکن صاف صاف لکھنے کی عادت نہیں ہے اس لیے کہانی کی شکل میں بیان کروں گا انشاءاللہ
امید کرتا ہوں کہ اچھے سے اچھا لکھ سکوں

Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » پیر ستمبر 14, 2015 7:17 pm

جب کسی شہر میں دو اجنبی ملتے ہیں تو ان کی پہلی ملاقات اک حادثہ کی طرح اثر کرتی ہے جو یہ آنے والے وقت میں دوستی کی شکل اختیار کرنے میں آسان ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ کچھ پل میں ایک دوسرے کو پرکھ لیتے ہیں اس کی وجہ انسانی تعلیم و تربیت اور اللہ تعالی کا عطا کردہ شرف ہے جو ہمیں حاصل ہے یہی وجہ ہے انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا
جہاں ہم رشتے بنانا جانتے ہیں وہیں ہم یہ رشتے نبھانے کے مقروض بھی ہو جاتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے آج کا دور گزرے وقت سے بہت الگ ہے اس کی بناوٹ ہماری خود کی ہے آج کا انساں ہر رشتے میں اپنا فائدہ تلاش کرتا ہے اگر اسکو دس فی صد بھی فائدہ حاصل ہو رہا ہے تو اس کو نبھانا یہ فرض سمجھتا ہے لیکن اگر اس میں کسی ایک طرف سے یا کسی بھی وجہ سے کمی ہو جاتی ہے خاص اس شخص سے جو فائدے مند تھا تو دوسرا اس کو خود پر بوجھ سمجھتا ہے بلکہ اس کو اسطرح اپنی ذندگی سے نکال پھنکتا ہے جیسے وہ کبھی ملے ہی نہ ہو
ایک دور جہالیت کا تھا جب تعلیم نہیں تھی انساں کے بھٹکنے پر اللہ تعالی اپنے بندوں میں پغمبر بیجھا کرتے تھے اور ہدایت دیا کرتے اور پھر محمد ﷺ کو آخری نبی بناکر بیجھا اور قرآن نازل فرمایا
اور حکم دیا کے اپنی ذندگی کو محمد ﷺ کی ذندگی کے مطابق گزارو
افسوس کے آج بھی دور جہالیت ہے کیونکہ ہم نے دنیاوی تعلیم خود تیار کر لی یہی وجہ ہے کے آج کا انساں اپنے آپ کے بنائے رستے پر مایوس کھڑا نظر آتا ہے
اللہ تعالی ہمیں قرآن پاک کی تلاوت کرنے اور اس کو سمجھنے کی توفیق دے اور اللہ تعالی ہمیں محمد ﷺ کی تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق دے اور خلوص و شفقت والا رشتہ قائم رکھنے کی توفیق دے
آمین یارب العالمین

_______________از ایم ابراہیم حسین
____________میری ڈائری کا اک ورق

Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

رکن کی نمائندہ تصویر
nizamuddin
ماہر
مراسلات: 605
تاریخ شمولیت:: جمعہ مارچ 27, 2015 5:27 pm
جنس:: مرد
مکانیت: کراچی، پاکستان
CONTACT:

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: nizamuddin » بدھ ستمبر 16, 2015 2:43 pm

بہت عمدہ شیئرنگ ہے جناب
آن لائن اردو انگلش ڈکشنری
[link]http://www.urduinc.com[/link]

ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » اتوار اکتوبر 04, 2015 8:31 pm

nizamuddin نے لکھا ہے:بہت عمدہ شیئرنگ ہے جناب

شکریہ محترم آپ کی آمد کا تہدل سے مشکور ممنون ہوں سلامت رہیں ہمیشہ آمین

Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

اریبہ راؤ
کارکن
کارکن
مراسلات: 183
تاریخ شمولیت:: منگل جون 09, 2015 3:28 am
جنس:: عورت

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: اریبہ راؤ » اتوار اکتوبر 04, 2015 11:02 pm

بہت خوب لکھا ...
شیئرنگ کے لئے شکریہ ...!!

Sent from my SM-G310HN using Tapatalk

ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » منگل اکتوبر 06, 2015 7:33 pm

آئینہ نور نے لکھا ہے:بہت خوب لکھا ...
شیئرنگ کے لئے شکریہ ...!!

Sent from my SM-G310HN using Tapatalk

آمد کا تہدل سے شکر گزار ہوں
سلامت رہیں آمین

Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » منگل اکتوبر 06, 2015 7:33 pm

میری لکھی اک تحریر ....!!!

بازار جاؤ گے تو زندگی کی قیمت پوچھ آنا

یہ آواز ایسے سنائی دی جیسے میرے پیچھے کسی ملک کی فوج نے داوا بول دیا ہو
میں سہم سا گیا اور روک کر مڑا اور دیکھنے لگا یہ آواز کس کی تھی کے ایک طرف سے ایک بزوگ جن کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا مجھے اپنی لاٹھی کے اشارے سے بولا رہے تھے
میں نے سائکل اسٹینڈ پر لگائی اور ان بزرگ کی طرف دو قدم بڑھ گیا
بڑے میاں آپ مجھے کچھ کہہ رہے تھے
ارے ہاں میاں تم سے کہا ہے مجھے لگا بازار جارہے ہوں
کیا تم بازار نہیں جا رہے معاف کرنا ؟
بڑے میاں میں بازار ہی جارہا ہوں بتائیں کیا منگوانا ہے آپ نے ؟
بیٹھو میں نے کہا تم سے کے اگر تم بازار جارہے ہو تو زندگی کی قیمت پوچھ کر آنا مجھے خریدنی ہے اب عمر بہت ہوگی ہے کیا پتہ کب موت ہو جائے اس لیے پہلے ہی خرید کررکھنا چاہتا ہوں
بڑے میاں
مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آ رہی آپ ایسی بات کیوں کر رہیے ہیں
کیا آپ مجھے کچھ سمجھائیں گے ؟
بڑے میاں ہنس کر بولے
میں نے کوئی اسکول نہیں بنا رکھا اگر تم کو سمجھنا ہے تو یہ میرا سامان اٹھا کر میرے گھر تک لے چلو تو میں تمہیں اس کے بدلے سمجھا دوں گا
میں نے سامان ہاتھ میں اٹھایا اور بڑے میاں کے پیچھے پیچھے چل پڑا
بڑے میاں محلے سے باہر ایک پرانے سے گھر میں داخل ہوئے اور میں اس گھر کے باہر سامان پکڑے کھڑا رہا تو کچھ دیر میں بڑے میاں ایک گلاس لیکر باہر آئے اور مجھے پانی کا گلاس دیا بیٹھنے کو کہا میں زمین پر ان کے ساتھ بیٹھ گیا
بڑے میاں کچھ دیر چپ رہے اور پھر بولے اچھا تو تم کو میری بات سمجھ نہیں آئی اور تم اس کو سمجھے کے لیے میرا بوجھ اٹھا کر میرے گھر تک لے آئے ہو کیوں کے اس بوجھ کے بدلے تم کو بات سمجھنی ہے
جی ہاں بڑے میاں مجھے آپ کی بات ایسے لگی جیسے میں نے آپ کا دل دکھایا ہو آپ نے ایسا کیوں کہا کیا آپ زندگی کو بازار میں بکتی ہوئی چیز سمجھتے ہیں ؟
بڑے میاں
بڑےآرام سے مجھے سمجھانے کے لیے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے نہیں نہیں برخوردار تم نے میرا دل نہیں دکھایا
اور نا ہی زندگی بازار میں بکتی کوئی چیز ہے میں نے ایسا اس لیے کہا کے مجھے لگا کے تم زندگی سے واقف نہیں
بڑے میاں
آپ مجھےآسان لفظوں میں بتائے آپ نے ایسا کیوں کہا
بڑے میاں بولے
اچھا بیٹا تو سنو میں تمہارے ابا حضور محمد حمید کا دوست ہوں شاید تم نے پہچانا نہیں
پہچانتے بھی تو کیسے جو شخص اپنے باپ کو بول سکتا ہے وہ اس کے دوست کو کیا پہچانے گا
آج تمہارے باپ کو مرے دس سال ہوگے اور تم اب آئے ہو
میں نے بڑے میاں کی بات کو کاٹ کر بولا جی میری مجبوری تھی میں جس کمپنی میں کام کرتا تھا وہاں مجھے سے بہت بڑا نقصان ہوگیا تھا جس کی وجہ سے میں اس ملک اور کمپنی کو چھوڑ کر نہیں آسکتا تھا اب سب قرض اتر گیا تو واپس آگیا ہوں
ہاں
اپنے باپ کا کمایا ہوا نام اور پیسہ کھانے چلے آئے ہو
بڑے میاں نے طنز کرتے ہوے بولا !
بڑے میاں میرے باپ کا کمایا ہوا پیسہ میرا ہی تو ہے اور اس پر میرا ہی حق ہے اگر میں اسے استعمال نہیں کروں گا تو کیا محلے والے کریں گے میں نے سخت لہجے میں کہا تو
بڑے میاں نے کہا بیٹھو میں تمہارے لیے کچھ لے کر آتا ہوں
بڑے میاں گھر میں گئے اور کچھ دیر بعد ایک لفافہ لیکر آئے اور مجھے دے کر بولے اس کو جب پڑھنا ہوں تو اکیلے بیٹھ کر پڑھنا اور اگر کچھ سمجھ نہیں آئے تو کل میرے پاس چلے آنا
میں نے وہ لفافہ پکڑا اور بڑے میاں سے اجاذت لے کر بازار سے ضرورت کی چیزیں خرید کر گھر لوٹ آیا
اب رات ہونے کا انتظار کرنے لگا کیوں کے گھر میں محلے والوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا اور میں اس لفافے کو سکون سے پڑھنا چاہتا تھا
یوں اللہ اللہ کرتے دن گزر گیا اور رات ہونے لگی تو میں نے جلدی سے کھانا کھایا اور لفافہ ہاتھ میں لیکر اوپر والی منزل کے کمرے کی طرف چل دیا دل میں عجیب سا خوف اور انتظار تھا
اب کمرے میں بیٹھ کر لفافہ کھولا اور پڑھنے لگا
یہ خط میرے مرحوم والد صاحب کے ہاتھ کا لکھا تھا دیکھ کر ایک بار تو آنکھیں نم ہوگئی تھی یہ خط کچھ اسطرح لکھا گیا تھا
اسلام علیکم
بیٹا عامر
امید کرتا ہوں تم ہی یہ خط پڑھ رہیے ہوگے
اور خریت سے ہوگے اللہ تمہیں ہمیشہ خوش و خرم رکھے اور زندگی کے امتحانوں میں ثابت قدم رکھے آمیں
بیٹا عامر
تم جب پردیس گئے تھے اس وقت گھر کے حالات اچھے تھے
میں اور تمہاری والدہ پنشن کے پیسوں سے اچھا گزر بسر کر رہے تھے جبھی تم کو کبھی کوئی خط یہ ٹیلی فون نہیں کیا
لیکن جب تمہاری والدہ بیمار ہوئی اس وقت میں نے اپنے ریٹائرمنٹ کے کچھ روپے جو چھپا رکھے تھے ان سے علاج کروایا پر وہ روپے جلدی ختم ہوگے اور مجھے علاج کے لیے ایک دو دوستوں سے قرض لینا پڑا اور ہوا یہ کہ ڈاکٹر کی لاکھ کوشش کے بعد بھی تمہاری والدہ صحت یاب نا ہوسکی اور اللہ کے حکم سے انتقال کر گی

اور اب میری بھی طبیت خراب رہتی ہے نجانے کونسی آخری سانس ہوگی

بیٹا یہ خط لکھنے کی وجہ یہ تھی کے تم کو بتاسکوں کے میں نے کن لوگوں کا قرض دینا ہے ان کو اگر لوٹا سکوں تو ٹھیک نہیں تو ایک بار ان سے ملنا ضرور
لیاقت صاحب اور امجد شاہ صاحب سے پچاس پچاس ہزار لیے تھے
جو لوٹا نہ سکا بیٹا اور میرے ایک دوست صداقت حسین جو ہمارے ساتھ والے گاؤں میں رہتے ہیں انھوں نے اپنا مکان بیچ کر میرا اور تمہاری والدہ کا علاج کروایا اور ہمیں سمبھالا ان کے ساتھ ہوسکے تو اچھا برتاؤں کرنا ایک بات اور وہ یہ کے صداقت صاحب کی کوئی اولاد نہیں ہے اور ان کی بیوی بھی فوت ہوچکی ہے تو بیٹا اگر تم میری خدمت کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں کرسکے تو میں تمہیں یہ موقع ایک بار پھر دیتا ہوں تم صداقت صاحب کی خدمت کرو اور ان کی دیکھ بھال کرو اگر تم ایسا کرتے ہو تو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ جو تم نے جانے انجانے میں ہم سے لاپروائی اور ہمیں لاوارث چھوڑ دیا تھا وہ سب معاف کر دوں گا
بس بیٹا میری بات یہاں تک ہی تھی .

خط ہاتھ میں لیا اور بھاگتا ہوا نیچے آیا اور چاچا صداقت کے گھر کی طرف دوڑ پڑا
تھوڑی دور ہی گیا تھا تو مجھے چاچا صداقت آتے نظر آئے میں اور تیز ہوگیا اور جب صداقت چاچا نے مجھے آتا دیکھا تو وہ مجھے دور سے ہی پکارنے لگے آہستہ آہستہ عامر بیٹا گر نا جانا میں نے چاچا صداقت کو گلے لگایا اور چیخ چیخ کر رونے لگا چاچا صداقت مجھے حوصلہ دیتے رہے لیکن میرے سے برداشت نہیں ہورہا تھا تو چاچا صداقت نے مجھے چومتے ہوے کہا کیا ہوا ہے تم نے لفافہ کھولا ؟

میں نے کمر جھوکا کر چاچا صداقت کو اٹھایا اور گھر لے آیا اور آ کر اپنے بیوی بچوں کو کہا یہ میرا ابا حضور ہیں یہ آج سے ہمارے ساتھ رہیں گے
بیوی کے چہرے پر پڑے شکن سے محسوس ہورہا تھا کے وہ خوش نہیں اس سے پہلے وہ کچھ بولتی میں نےاس سے سخت لہجے میں کہا میری بات تمہاری سمجھ میں آئی یہ نہیں
میرے کمرے میں ان کے لیے بستر لگاو جلدی سے چاچا صداقت بہت کچھ کہتے رہیں لیکن میں نے ایک نہ سنی اور ان کو اپنے ساتھ کمرے میں لے گیا

اور صبح ساری بات بتائی تو صداقت چاچا نے کہا

بیٹا زندگی اگر بازار سے ملتی تو تمہارے ابا حضور تمہاری اماں کو کبھی مرنے نہیں دیتے
کیوں کے وہ انکی زندگی کی ہمسفر ساتھی تھی جس نے ہر اچھا برا وقت ان کے ساتھ دیکھا تھا
زندگی اپنے ارد گرد موجود رشتوں کا نام ہے جو ہمیں نیک نیت سے نبھا کر گزارنی ہے
اور اسطرح عامر کو زندگی گزارنے اور اس کو سنوارنے کا ایک موقع ملا جو اس نے عبادت سمجھ کر قبول کر لی ۔

از ایم ابراہیم حسین
میری ڈائری کا ایک ورق

Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

اریبہ راؤ
کارکن
کارکن
مراسلات: 183
تاریخ شمولیت:: منگل جون 09, 2015 3:28 am
جنس:: عورت

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: اریبہ راؤ » منگل اکتوبر 06, 2015 9:58 pm

ماشاء ﷲ ...!!

Sent from my SM-G310HN using Tapatalk

رکن کی نمائندہ تصویر
چاند بابو
منتظم اعلٰی
منتظم اعلٰی
مراسلات: 21829
تاریخ شمولیت:: پیر فروری 25, 2008 3:46 pm
جنس:: مرد
مکانیت: بوریوالا
CONTACT:

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: چاند بابو » بدھ اکتوبر 07, 2015 7:25 pm

بہت خوب بہت ہی متاثر کرنے والی تحریر ہے جزاک اللہ.
قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو
میں اپنے حصے کے سُکھ جس کے نام کر ڈالوں
کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو

ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » پیر اکتوبر 12, 2015 12:46 am

آئینہ نور نے لکھا ہے:ماشاء ﷲ ...!!

Sent from my SM-G310HN using Tapatalk

جزاک اللہ خیر
آمد کا شکریہ
سلامت رہیں ہمیشہ آمین


Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » پیر اکتوبر 12, 2015 12:47 am

چاند بابو نے لکھا ہے:بہت خوب بہت ہی متاثر کرنے والی تحریر ہے جزاک اللہ.

جزاک اللہ خیر کثیرا
شکریہ پیارے بھائی
سلامت رہیں ہمیشہ آمین

Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » پیر اکتوبر 12, 2015 12:54 am

میں ذندہ ہوں مرا تو نہیں

سال بھر سے میرے حالات بہت ہی خراب تھے
ہر دن کوئی نہ کوئی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کے میرے ساتھ ایسا کیوں ہوں رہا ہے بڑی بار خود کو پرکھا پر کوئی مثبت پہلوں سامنے نہیں آیا
گھر میں ہر وقت کسی نہ کسی بات پر ناچاکی ہو جاتی لہجے میں مستقل سختی کا رہنا چھوٹے بڑے کی تمیز بھی ختم ہوتی جارہی تھی میں اس پر ہر وقت پریشان رہنے لگا کاروبار بھی دن بہ دن نقصان کی طرف بڑتا ہوا نظر آ رہا تھا
ایک دن گودام جا رہا تھا کہ رستے میں دل بدل گیا اور وہی سے موٹر سائکل موڑ کر اپنے بچپن کے دوست کو ملنے نکل پڑا اور دل میں یہ سوچ رہا تھا کے پتہ نہیں اس کا حال کیسا ہوگا ایک شہر میں رہتے ہوئے بھی کبھی حال تک نہیں لیا اور ابا جان کے انتقال ہونے پر بھی آیا اور چھوٹی بہن کی شادی پر بھی لیکن میں کبھی اس کے گھر تک نہیں گیا یہاں تک کے کبھی فون پر بھی بات نہیں کی آج اچانک اس طرح جانا ٹھیک ہے کہ نہیں
یہ سوچتا سوچتا میں اس کے گھر کے باہر تک پہنچ گیا تھا
پھر خیال آیا کہ پہلی بار اس کے گھر جارہا ہوں رستے سے کچھ اس کے بچوں کے لیے ہی لے لیتا
ابھی موٹر سائکل پر بیٹھے سوچ ہی رہا تھا کے اچانک تین چار بچوں نے آ گھیرہ چاچو جی چاچو جی اندر آئے نا پکار رہے تھے
میری سوچ کا دائرہ ٹوٹا اور میں نے ان سے انکے ابو کا پوچھا
بیٹا تمہارے ابو کہا ہیں
ان میں جو بڑا لڑکا میرے دوست کا بیٹا اسمعیل بولا چاچو ابو وہ سامنے کھڑکی میں کھڑے ہیں وہ ابھی ناشتے کے لیے بیٹھے تھے تو انھوں نے کہا کے اپنے چاچو کو اندر لے آو جلدی سے چلے ابو آپ کا انتظار کر رہے ہیں دسترخاں پر چلے....
میں بن کچھ بولے ان بچوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوگیا میرا دوست خدا بخش دسترخان پر بیٹھے ہوے بولا امجد بھائی یہی آ جاو ناشتہ کرتے کرتے بات کرتے ہیں آج ہماری گلی کا رستہ کیسے بھول کر پکڑ لیا
میں نجانے کیوں شرمندہ سا تھا
میں کہا نہیں یار خدا بخش تُو ناشتہ کر میں یہی بیٹھتا ہوں پھر گپ شپ کرتے ہیں تو ناشہ کر لے
میرے لب ابھی خاموش نہیں ہوئے تھے کے خدابخش اٹھا اور مجھے ہاتھ سے پکڑ کر دستر خاں پر لے گیا اس کے سامنے کچھ ذیادہ کھانے کو نہیں پڑا تھا پر اس کو شاید اس کی کوئی پروا بھی نہیں تھی
میں اس کے ساتھ بیٹھا ایک کپ میں چائے ڈالی اور ایک پراٹھا اس نے میرے آگے کر دیا اس پر تھوڑا سا اچار بھی تھا
میں نے ایسا ناشتہ ایک عرصہ پہلے اس کے اسکول ٹفن سے کھایا تھا اور آج اس کے ساتھ اس کے گھر میں کھا رہا تھا
ناشتہ کرنے کے بعد اس نے مجھے ساتھ لیا اور چھ چار کے چھوٹے سے کمرے میں لے کر داخل ہوگیا دیکھ کر معلوم ہورہا تھا کے جیسے اس کے سب بچے اسی کمرے میں سوتے ہیں ایک کونے میں بہت سارے بستر اور ایک طرف اسکول بیگ پڑے تھے میں خاموش اس کے ساتھ بیٹھا اس کے گھر کو غور سے دیکھ رہا تھا
کہ اچانک خدابخش کے ابا حضور اور اس کی اماں کمرے میں آئی اور مجھے پنجابی انداذ میں پیار کیا اور دعایں دینے لگی خدا بخش کے ابا حضور تو آج بھی جوانی کی طرح نظر آ رہے تھا مجھے سینے سے لگایا اور دبادا دیا اور ہنس کر بولے ( بڑا ہی ماڑا ہوگیا وا کھنا پینا نی وا کی ) بہت کمزور ہوگئے ہو کھاتے پیتے نہیں ہو کیا ؟
میں نے کہا نہیں چاچا جی ایسی بات نہیں زمیداریاں بہت ہیں بس ان میں کچھ سوچ بچار اور پھر آپ کو تو پتہ ہی ہے ابا جی کے جانے کے بعد مجھے ہی سب کو یکھنا پڑتا ہے
خدابخش میری باتوں سے محسوس کر چکا تھا کے میں کسی وجہ سے پریشان ہوں
اس نے مجھے وہی چھوڑا اور خود کام پر جانے کی تیاری کرنے لگا
اور کچھ ہی دیر میں آیا اور بولا امجد بھائی چلے
خدابخش کے ابا حضور بولے خدا بخش کوئی کام ہے نہیں تو آج چھٹی کر لیتے ہمیں بھی کچھ دیر امجد سے کوئی بات کرنے کا موقع مل جاتا
میں کچھ بولتا کہ خدابخش بولا ابا جی امجد بھائی اور میں نے ایک کام سے جانا ہے اسی لیے آئے ہیں شام کو لے آؤں گا پھر آپ خوب باتیں کر لینا
خدابخش کے ابا حضور ہنسے کر بولے ٹھیک ہے بھئی تمہارا دوست ہے تو تمہاری مرضی چلے گی اچھا شام کو گھر ضرور لانا ایسا نہ ہو باہر سے ہی اس کو بھیج دو ٹھیک ہے امجد بیٹا ہم انتظار کرئے گے رات کا کھانا ہمارے ساتھ ہی کھانا
میں جلدی سے بولا جی چاچا جی ضرور انشاءاللہ رات کا کھانا آپ کے ساتھ ہی کھاؤں گا
ہم نے اجاذت لی اور گھر سے باہر نکل آئے خدا بخش میرے ہی موٹر سائکل پر بیٹھا اور چابی مانگ کر چلانے لگا
مجھے کوئی خبر نہیں تھی کہ یہ مجھے کہا لے کر جا رہا ہے میں بس خاموش اس کے پیچھے بیٹھا رہا اور آدھے گھنٹے بعد یہ مجھے سمندر کے کنارے لے آیا اور مجھے اترنے کو کہا میں نے اتر کر پوچھا خدابخش تونے کام پر نہیں جانا کیا ؟
بخدابخش میری طرف دیکھ کر بولا میرے بھائی موسم دیکھ کتنا پیارا ہے اور میں تو کل سے ہی دو دن کی چھٹی پر ہوں بچوں کی چھوٹیاں ہیں ان کو باہر کہیں گھومنے لےکر جانے کا ارادہ تھا پڑھ پڑھ کر بور ہوگئے ہیں بچے اور بہت بار ضد کر چکے تھے
کوئی بات نہیں آج ہم گھوم پھر لے کل ان کو لے آؤں گا تم چھوڑو سب کو اور بیٹھو
اب کوئی کام کی بات کر لے
ہاں
کام کی بات کونسی میں نے حیرت سے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا
بخدا بخش عمر میں مجھ سے چھوٹا تھا لیکن با شعور اور سمجھدار مجھے کہیں ذیادہ اس نے کہا
امجد بھائی میرا بچپن آپ کے ساتھ گزرا ہے اور میں آپ کو بہت اچھے سے جانتا ہوں بتاوں کیا پریشانی ہے اور تم نے ایسی حالت کیوں بنا رکھی ہے میں اس کی بات سمجھ گیا کے اس نے میرا چہرہ پڑھ لیا ہے
تو میں نے اس کو سارے سال بھر کا قصہ سنا دیا اور وہ بہت ہی آرام سے سنتا رہا
پھر مجھے ساتھ لیا اور سمندر کنارے کھڑے بھوٹے والے سے دو بھوٹے لیے اور کھاتے کھاتے واپس اپنی جگہ آ کر بیٹھ گئے
اور مجھے سمجھانے لگا
امجد بھائی آپ ماشاءاللہ سے مجھے سے بڑے ہیں مجھے سے بہتر سوچ سمجھ رکھتے ہیں
لیکن میں آپکا بچپن کا دوست ہوں اور آپ کو ہمیشہ بڑا بھائی مانا ہے اس لیے مشورہ دینا میرا حق بنتا ہے
درصل آپ اس وجہ سے پریشان ہیں کے انکل کے گزر جانے کے بعد سب زمیداریاں آپ پر آگی اور ماشاءاللہ سے سب کو بہت اچھے سے ساتھ لے کر چل رہے ہیں لیکن آپ ان کو اپنے اوپر بوجھ سمجھ بیٹھے ہیں کے ان کی ہر خوشی کو تو پورا کر رہیے ہیں پر ان کی خوشی سمجھ کر
حالانکہ ایسا ہے نہیں
وہ اس لیے خود کو اس میں شامل نہیں کرتے آپ ان سب کو ایسے خوش رکھتے ہیں جیسے کہ
اسکول میں ٹیچر بچوں کو پڑھ تو رہی ہو لیکن سمجھا نہیں رہی ہوں
آپ جب تک ان کو اپنے وجود کا حصہ نہیں بنائے گئے جب تک وہ خوشی جو آپ ان کو دے رہیں ہو وہ ایسی ہی جیسا میں نے پہلے کہا کے ٹیچر پڑھیں پر سمجھائے نہیں اگر آپ اپنی خوشی اور سکون کو تلاش کرنا چاہتے ہوں تو ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں شامل ہوا کریں اور اپنے مال کا ایک حصہ اپنے آس پاس میں موجود غریب لوگوں میں تقسیم کیاکریں اور ہوسکے تو ان کے ساتھ مل کر کچھ وقت گزارا کریں پھر دیکھنا کہ آپ کی سب پریشانیاں کیسے ختم ہوتی ہیں
کیا آپ نے کبھی اپنے پڑوس میں رہنے والے شخص کا حال پوچھا ہے کہ وہ کتنے دن سے فاقہ کشی کر رہا ہے یہ پھر عید پر اس کے بچے جو کپڑے پہنتے ہیں وہ کہا سے لیتا ہے یقینً نہیں پوچھا ہوگا
امجد بھائی آج آپ پریشان ہو تو اپنے گھر میں ہی اجنبی سا محسوس کر رہیے ہیں
اگر دیکھا جائے تو آپ اپنے گھر کے ساتھ ساتھ اپنے محلے گلی کے لوگوں کے لیے بھی ایک اجنبی ہو جو ہر روز صبح گلی سے گزر کر کہیں چلا جاتا ہے اور رات کو اس گلی سے گزر کر ایک مکان میں جا بیٹھتا ہے
حالانکہ کے ہمیں جو رستہ ہمارے دین اسلام نے بتاتا ہے وہ ایک بھی ہم ٹھیک سے پورا نہیں کرتے تو ہم کیسے سکون پا سکتے ہیں
خدا بخش کی باتوں کی آواز ایسے میرے کانوں میں پڑ رہی تھی جیسے کہ پیدا ہوئے بچے کے کان میں اذان سنائی جا رہی ہو میں ایک دم چونک کر بولا بس کرو خدابخش میں ابھی ذندہ ہوں اور اپنے حقوق کو پورا کر سکتا ہوں مجھے صرف افسوس ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے خود غرض ہوگیا تھا
یہ کہتے ہی خدابخش نے میرے آنسوں صاف کرتے ہوئے اپنے سینے سے لگایا اور ہم میرے گھر کے لیے چل پڑے

درصل آج صرف ہمیں خود کی فکر نے پریشان کر رکھا ہے ہم دوسروں کے بارے میں اس وقت سوچتے ہیں جس وقت ان سے ہمیں کوئی نفع حاصل کرنا ہوتا ہے
اگر کسی کو ہماری مدد کی ضرورت آن پڑے تو ہم خود غرض بن بیٹھتے ہیں
جس کی وجہ سے ہماری پریشانیاں ہمارے قد سے اونچی دیوار بن بیٹھی ہیں ہمیں اپنے دکھ کا تو پتہ چلتا ہے پر افسوس کے دوسروں کا ہمیں کوئی احساس نہیں

از ایم ابراہیم حسین
میری ڈائری کا ایک ورق

Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » منگل اکتوبر 20, 2015 10:03 pm

وقت تیرے ہاتھ جو
_________________ڈگڈگی آئی ہے
تو فکر نہ کر
___________بجائے جا نچائے جا
عادت کر لیتا ہوں
______________اب سے
سہنا ¡¡¡¡¡¡
تو بن کے مداری
__________تماشہ لگائے جا....
میں خود کو
__________اشارہ تیرا بنا لوں گا
تو لاٹھی کی زبان
_____________مجھے پڑھائے جا

زندگی کا کیا ہے اس کو تو گز ہی جانا ہے
زندگی ...!!!
ہمیں بعض اوقات ایسے دوراہے پہ لا کر کهڑا کر دیتی ہے کہ جہاں لیے جانے والے کس بھی فصلے میں ہماری خوشی اور رضامندی شامل تو نہیں ہوتی پر یہ فصلے تو ہمارے لیے پہلے سے ہی ہوچکے ہوتے ہیں
ہمیں تو صرف اس وقت اپنے آپ کو ثابت قدم رکھنا ہوتا ہے اور صرف اللہ پر توکل اور اللہ کی رضا میں خود کی بھلائی تلاش کرنی ہوتی ہے
زندگی کا ہر فیصلہ اس یقین اور اعتماد کے ساتھ کریں کہ اللہ آپ کے ساتهہ ہے اور اپنے حصے کی محنت کریں باقی نتیجہ اللہ پہ چهوڑ دیں

صبر کا دامن ایسا تھام لے جیسے کے چُھٹا تو موت ہو جائے گی

دن سات محرم الحرم کا سورج ڈوبہ ایسا کہ
اندھیر کر گیا میری ذندگی میں

از ایم ابراہیم حسین
#میری ڈائری کا اک ورقعکس

Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

اریبہ راؤ
کارکن
کارکن
مراسلات: 183
تاریخ شمولیت:: منگل جون 09, 2015 3:28 am
جنس:: عورت

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: اریبہ راؤ » ہفتہ اکتوبر 24, 2015 4:36 pm

مجھے اپنی ڈائری کا ایک ورق یہاں شیئر کرنے کی اجازت ھے ....؟

Sent from my SM-G310HN using Tapatalk

ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » منگل نومبر 10, 2015 9:53 am

آئینہ نور نے لکھا ہے:مجھے اپنی ڈائری کا ایک ورق یہاں شیئر کرنے کی اجازت ھے ....؟

Sent from my SM-G310HN using Tapatalk

محترمہ آئینہ نور جی کیوں نہیں مجھے دلی خوشی محسوس ہوگی اگر آپ یہاں کچھ پوسٹ کریں گی
اللہ آپ کو خوش و سلامت رکھے آمین

Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » منگل نومبر 10, 2015 9:54 am

اس کی ہر بات کو مان کر چلنا میرے لیے اسقدر مشکل تھا جیسے دو کشتیوں میں سوار ہو جانا۔ ۔ !!!
میں اس کو پہلے دن سے ہی یہ سمجھتا آ رہا تھا کے میرے سامنے ایک ایسا سفر ہے جس کو چاہ کر بھی چھوڑ نہیں سکتا ایسا ہی سمجھو کہ یہ میرے جینے کا سبب ہے . . .
پر اس کو میری یہ بات شاید سمجھ میں نہیں آتی تھی وہ اس کو میرے دل میں کسی اور کی محبت سمجھ کر شک کرتی اور میں ہر بار اس کو اپنے ہونے کا پتہ دیتا پر اس کے جانے کہا سے دل دماغ میں یہ شک بیٹھ گیا تھا کہ میں کسی اور کو چاہتا ہوں . . .
یہ بات گاؤں میں میرے ہی بڑے بُھڑوں نے مشہور کر رکھی تھی پر اس کی وجہ کچھ اور تھی جو میں کو اس طرح سمجھا چکا تھا جیسے طوطے کو کلمہ پڑھیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔
آخر اس کو میری ہر بات ایک فیصلہ کی تلوار لگنے لگی اور اس نے مجھے ہمسفر دوست کم دشمن کا بیٹا ذیادہ سمجھا شروع کر دیا اور ہر دل کی بات دوسروں سے کرنے لگی اور اُن سے کیے مشوروں پر عمل کرنا ٹھیک سمجھا نادان دشمن اور دوست کی پہچان ناکر سکی ۔ ۔ ۔
میری محبت چاہت کو صرف ایک سمجھوتہ سمجھ کر نبھانے لگی ۔ ۔ ۔
پر ایسے زندگی نہیں گزاری جاتی اس کے اس عمل سے مجھے بہت دکھ ہوتا پر میں ہر بار نادن سمجھ کر اس کو معاف کرتا آیا اور یہی میری محبت کی قبر بن کر رہ گی . . .
اور ہم ایک فصلے پر آ کھڑے ہوے . . .
اب صرف افسوس کیا جاسکتا ہے کیوں کے کیے فیصلے ہمارے تو تھے ہی نہیں یہ فیصلے تو ہمارے بیچ کروائے گے تھے

اور ہم دونوں ہی ناکام داستان بن کر رہ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ !!!!!

محبت ہی تھی یا کوئی
موسم اجڑا ہوا

خوش مزاج تھا یا رنگین تھا
موسم اجڑا ہوا

بات کسی کی اور
چل میرے گھر آئی

خوش تھا اس کے ساتھ بس
یونہی اجڑا ہوا

اب سنائے جاتے ہیں ہم
قصوں کی صورت

ایک وقت کا اک شہر تھا
بس اجڑا ہوا

دیکھ اب شہر کے شرارتی بچے
پتھر دے مارتے ہیں

کبھی دیکھ کہتے ہیں لوگ
وہ ہے ابراہیم اجڑا ہوا

میری ایک تحریر _میرج حال سے اقتباس

از قلم _ ایم ابراہیم حسین

میری ڈائری کا اک ورق



Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » منگل نومبر 10, 2015 9:58 am

میرے شوق کا ایک خوبصورت سا وہ دوست بہت ہی پیار تھا . . . !!!
میں اکثر اس کو دل کی ہر وہ بات سنایا کرتا تھا جو شاید کبھی کسی نے میرے بارے میں نہیں سنی تھی ۔ ۔ ۔
میں اس کو ہاتھ پر بیٹھا کر دانا کھلاتا اور .....
دیر بہت دیر تک اس کے ساتھ بیٹھے دل کی باتیں کرتا رہتا تھا ......
یہ نادان دانا کھاتا رہتا اور میری داستان سنتا رہتا کبھی ہاں ہاں کرتا تو کبھی انکار کر دیتا
میں پیار سے اس کی چونچ کو چوم لیتا تو وہ مستی میں کبھی تو کاٹ لیتا تو کبھی میرے ہاتھ پر ناچ کرنے لگتا .....
مجھے یہ تو معلوم نہیں کے وہ میرا ہم درد تھا یہ میرے ہاتھ پر بیٹھ کر دانا کھانے کا شوقین تھا .....
پر ایک بات تو اس کی سب سے الگ تھی ۔ ۔ ۔
جب بھی مجھے دنیا کی رونق نے افسردہ کیا یہ بہت بہت دیر تک میرے غم کو مرہم کرتا اور میں وہ سب باتیں کر جاتا جو کبھی کبھی تو خود سے بھی چھپا لیا کرتا تھا پر اس کے سامنے سب بیان ہو جاتی .......
آج بھی دل بہت اداس ہے پر کیا کیا جائے ......
میں نے تو اس ہم درد کو بھی نارض کر دیا ہے ......
اب تو بس یونہی خود سے بات کر کر کے دل بہلایا کرتا ہوں .......
تم نارض تو ہو پر مجھے یاد ہو بہت یاد ہو
تم نارض تو ہو پر مجھے یاد ہو بہت یاد ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

میری ڈائری کا اک ورق

از ایم ابراہیم حسین
۔


Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » منگل نومبر 10, 2015 10:00 am

میں ایک بار پھر اس کو منانے کو آیا تھا پر اس کے سرد لہجے نے مجھے کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دیا ۔۔۔۔۔۔ .!!
میں نے لوٹ جانا ہی بہتر سمجھا ...!!!
اور کرتا بھی تو کیا اس طرح تو طوفان کے گز جانے کے بعد بھی نہیں ہوتا ایک بار تلاش کرنے کی کوشش تو ضرور کی جاتی ہے
پر شاید اس کو میری ضرورت نہیں تھی اب ...!!!
میں بھی اب اور چل نہیں سکتا تھا تو ڈگمگاتے ہوے قدم مڑ کر اس کی چور نظروں کو اک نظر دیکھتے ہوے بولا ...!!!
زندگی بہت کچھ سکھاتی ہے اور اس کے ہر دُور میں کہیں نا کہیں اک ایسا شخص ضرور ہوتا ہے جو اس کا ہاتھ تھام کر اس کو پار لگتا ہے ۔ ۔ ۔ !

میرا وہ " ہاتھ ' ساتھی ' دوست تم تھے .........

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ * ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ * ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہم کر منت ہزار اُسے منایا کرتے

وہ پل بھر میں روٹھ جایا کرتے

ستم کی انتہا تو ہوتی ہوگی شاید

ہمدم میرے عجب قہر ڈھایا کرتے

میں ذمانے بھر سے لڑتا رہا ہوں

وہ تو " بس " کھڑے مسکریا کرتے

بخش دو ہمیں محبت خطا ہی سہی

ہم ہر خطا تھے معاف کیا کرتے

خاطر اُسکے خدائی چھوڑ دی ابراہیم

ہم ہار کر بھی اُسے جیتایا کرتے



میری ڈائری کا اک ورق

از _ ایم ابراہیم حسین

میری لکھی اک تحریر " میرج حال " سے اقتباس


Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

ایم ابراہیم حسین
کارکن
کارکن
مراسلات: 166
تاریخ شمولیت:: جمعہ اکتوبر 31, 2014 7:08 pm
جنس:: مرد

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: ایم ابراہیم حسین » جمعہ نومبر 13, 2015 8:00 pm

میں کسی خیال میں گم پڑھ رہا ہوں ۔ ۔ !!
______________اک کتاب نام ہے اس کا....!
___ * _ ذندگی _ * ___
لکھائی بہت ہی خوبصورت اور دلکش ہے کہ بن پڑھے مست دیکھتا ہوں ہر اک شخص کو اور تو اور ایسے دیوانے ہوئے بیٹھے ہیں کہ ہر ناممکن کو ممکن بنا رہے ہیں مجھے اس کتاب کے کچھ پڑھے ہوے لوگ نظر آتے ہیں پر وہ بھی کمال کے انسان ہیں کچھ بتانا ہی نہیں چاہتے کیونکہ ان کو بھی یہی ڈر ہے کے ان کی مستی نا چھن جائے کہیں ....
بڑے فنکار ہیں یہ لوگ کوئی پاگل بن کر گھوم رہا ہے تو کوئی سر زمین پر رکھے اس کے نیچے کچھ تلاش کر رہا ہے کوئی جنگل میں جا چھپا ہے تو کوئی غار میں جا بیٹھا ہے.....
مجھے آج اس کو اک نظر پڑھنے کو دل نے اسقدر مجبور کر دیا کہ میں بھی اس کی مستی کا خلاصہ کرنے بیٹھ گیا۔ ۔ ۔
میں نے کتاب کا نام پڑھا تو مجھے ایسا لگا کے جیسے اس سے بہتر کوئی اور چیز ہے ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو وہ اس کے بعد ہی ہوگی ....
دل میں لالچ کی اک لہر جاگ اٹھی اور میں نے سوچا کیوں نا ایک قدم بڑا کر اس کے بعد کا منظر دیکھا جائے یہ پڑھا جائے .....
ایک بہت ہی لمبی چھلانگ لگائی اور اس کتاب کے آخری سے پہلے ورقے پہ جاکر رک گیا
اور .....!!
دیکھتا کیا ہوں سنہرے رنگ کا ورق ہے اور اس پر لکھائی جیسے چاند کی روشنی سے قند کی گئی ہے ....
ظاہر ہے اگر ذندگی اسقدر قیمتی چیز ہے تو لکھائی بھی ایسی ہونی چاہئے تھی ....
____ " اس پر کچھ اس طرح لکھا ہوا تھا کہ " ___
ذندگی۔ ۔ ۔
اے ذندگی ....!!!
بس کر اب رُک جا بہت ہوئی تیری یہ موج , مستی , ہنسنا , رونا , خوشی , غم اور پتہ نہیں تُو نے کیا کیا کر دیکھایا اب میرا وقت ہے اور میں اس وقت کو اپنے انداذ میں گزاروں گی کیونکہ جب تیرا وقت تھا تو تُو نے اپنی مرضی کی اور میں خاموش تماشہ دیکھ رہی تھی اب تیری باری ہے

چل کر لے اک بار یاد اگر کچھ ہے باقی کیونکہ میرا وقت تیری اس تھوڑی سی محلت سے کہیں ذیادہ ہے

سن کچھ ایسا کر جس سے تجھے میرے پر کوئی غم نا ہو

کر یاد ذندگی سے پہلے موت کو اپنی
ہر خوشی سے پہلے شکر کیا کر
یہ دنیاِ فانی کی رونق نا دے گی ساتھ تیرا قبر میں رکھ کر مٹی میں مٹی ڈال دے گی
الٰہی گناہ گار ہیں موت کا وقت ہم پر آسان فرما
آمین یارب العالمین
۔
میری ڈائری کا اک ورق

از ایم ابراہیم حسین


Sent from my LenovoA3300-HV using Tapatalk

رکن کی نمائندہ تصویر
میاں محمد اشفاق
منتظم سوشل میڈیا
منتظم سوشل میڈیا
مراسلات: 6100
تاریخ شمولیت:: جمعرات فروری 09, 2012 6:26 pm
جنس:: مرد
مکانیت: السعودیہ عربیہ
CONTACT:

Re: میری ڈائری کا اک روق

مراسلہاز: میاں محمد اشفاق » پیر نومبر 16, 2015 9:19 pm

آمین ثم آمین.
شئیر کرنے کا بہت بہت شکریہ محترم
[center]ممکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرزِمنافقت
اے دنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں
[/center]
سوشل میڈیا واچ ~ اردو بکس ڈاونلوڈ


واپسی بجانب

کون متصل ھے

فورم پر موجود اراکین: 1 اور 0 مہمانان