سفر نامہ ’’ پریوں کی تلاش ‘‘ گیارہویں قسط غلام وارث اقبال

اردو نثری قلم پارے اس فورم میں ڈھونڈئے
وارث اقبال
کارکن
کارکن
مراسلات: 62
تاریخ شمولیت:: بدھ مئی 30, 2012 10:36 am
جنس:: مرد

سفر نامہ ’’ پریوں کی تلاش ‘‘ گیارہویں قسط غلام وارث اقبال

مراسلہاز: وارث اقبال » منگل مئی 09, 2017 9:53 pm

جھیل کھبیکی پر تقریبا دو گھنٹے گزارنے کے بعد ہم اپنی اگلی منزل کی طرف چل پڑے۔ یہ تھی ’کنٹھئی گارڈن۔‘
یہ باغ انگریزوں نے بنا یاتھا۔ جس میں ہمارے جیسوں کے لئے بہت کچھ باعث کشش تھا۔ جھیل کے پیچھے ایک چھوٹاسا قصبہ ہے کھبیکی جس کے اندر سے گلی نما ایک چھوٹی سی سڑک گذرتی ہے جو آگے جا کر پہاڑوں کے ایک وسیع و عریض سلسلہ میں داخل ہو جاتی ہے۔ اسی سڑک پر چلتے ہوئے ہمیں اس باغ تک پہنچنا تھا۔ ہمارے ارد گرد خشک اور سبز ملی جلی جھاڑیا ں، کہیں کہیں سبز درخت اور پہاڑوں کا ایک نہ سمجھ آنے والاسلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ اس سڑک پر قدم رکھتے ہی تنہائی کااحساس ہونے لگا جوں جوں ہم آگے بڑھ رہے تھے اس احساس میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔تاہم آگے جا کرجھیل کھبیکی کے ایک خوبصورت منظر نے ہمارے اس احساس کو کچھ دیر کے لئے کم کردیا۔ ہمارے بائیں جانب جھیل کھبیکی ایک پیالہ کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ سرسبز پہاڑوں کے درمیان میں اس جھیل کا منظر دیکھنے کے لائق تھا۔ نیلے پانی میں سر سبز پہاڑوں کا عکس سحر طاری کر رہا تھا۔ مجھے تو یوں لگ رہا تھا جیسے ارد گرد کے سارے پہاڑ اس حسینہ کے درِ نیاز پر جھکے ہوئے تھے۔ نیچے پیالہ نما جھیل کو دیکھ کر ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم پہاڑوں کے اندر چلتے ہوئے کتنا اوپر آ چکے تھے۔ ہم گاڑی سے باہر نکلے اور حسبِ ضرورت تصاویر بنانا شروع کر دیں۔ میرا بیٹا شاہزیب جسے ہیرو بننے کا بہت شوق ہے وہ اپنے سیل فون سے سیلفیاں بنانے میں مصروف ہو گیا۔
جب ہم یہاں پہنچے تھے تو آسمان پر بادل تھے لیکن کچھ ہی دیر میں مطلع یوں صاف ہوا کہ جیسے کبھی بادل تھے ہی نہیں۔ سورج نے اپنا مکھڑا دکھاتے ہی آگ کے کرتب شروع کر دئیے۔ یعنی اپنے انداز میں ہمیں یہاں سے جانے کا حکم صادرکر دیا گیا۔ ہماری کیا مجال تھی جو حکم عدولی کرتے فورا ً گاڑی میں بیٹھے اور چل پڑے۔ گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا تھا اور ہم سب کی زبان سے کچھ وقفوں کے بعد ایک ہی جملہ نکل رہا تھایا اللہ بارش برسا دے لیکن ہمارے سارے جملے اس طلسمی جگہ پرہی کہیں ماحول میں گم ہو کر رہ گئے تھے۔ گرمی تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ بقول آتش
نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتش
برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے
ہمارے قہقہے، شوخیاں، مستیاں، فطرت کی خوبصورتی کی پذیرائی اور خیالات کی گہرائی بس یہاں تک ہی تھی کیونکہ یہاں سے آگے وحشت، خوف اور ڈر کا سفر شروع ہو رہا تھا۔ ایک تو سڑک چھوٹی، اوپر سے ٹوٹی پھوٹی۔ ہر پانچ چھ منٹ بعد ایک بھیانک کھڈا ہماری گاڑی کی پسلیاں ہلانے کے لئے تیار کھڑا ہوتا۔
یہ عابد کی مہارت اور چستی تھی کہ ہم سڑک کے ہر وار سے بچے ہوئے تھے ورنہ گاڑی تو کیا ہماری اپنی پسلیوں کے سب تار کھُل جاتے۔ اوپر سے بیابان اور دشت کی ویرانی۔ مجھے تو وہ سبھی کہانیاں یاد آرہی تھیں جن میں ایک شہزادہ یالکڑ ہارے کا بیٹا اپنے بادشاہ کی بیٹی کو کسی جن یادیوکی قید سے چھڑوانے کے لئے نکلا اور جب وہ دیو کی سلطنت میں پہنچا تو اْسے ایسا ہی ماحول ملا۔
اس سڑک کے کنارے کہیں کہیں کسی بڑے درخت سے ملا قات ہو جاتی ورنہ ہر طرف گھنی جھاڑیوں کا ہی راج تھا، جنہیں نہ درخت کہا جا سکتا تھانہ جھاڑیاں۔ یہ جھاڑیاں سبز تو تھیں لیکن شاداب نہیں۔ ان کی کیفیت اْ س دوشیزہ کی تھی جو اپنے محبوب کی قربانی دے کر اپنے ماں باپ کی پسند کی شادی کر کے سسرال آئی ہو۔ ولیمہ کی صبح جب اس کے چہرے پر ٹپکتی نحوست کو دیکھ کر سکھیاں پوچھیں، ”رت جگی ہو کیا؟“ تووہ جواب دے،
”نہیں میری طبیعت ٹھیک نہیں۔“ پھر آہستہ آہستہ وقت کی کرختگی اور نحوست اُس کے گالوں کا رنگ تک چوس لے۔ یہاں کے درختوں کا حال بھی کچھ اس دلہا جیسا ہی تھا۔ جوچہرے پر حسرتوں کا غازہ اور آنکھوں میں تاریک مسقبل کا سرمہ سجائے ہر کسی سے یوں مل رہا ہو جیسے ہارا ہوا سپہ سالار اپنے فوجیوں سے ملتا ہے۔
ان جھاڑیوں کی شاخیں اس طرح پھیلی ہوئی تھیں کہ بس ابھی کسی کو نگل لیں گی۔ ان کا حوصلہ اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انہوں نے سڑک کو اس طرح نگل رکھا تھاجس طرح کسی سانپ نے کسی چوہے کو۔ اور سانپ کے منہ میں چوہے کی صرف دْم دکھائی دے رہی ہو۔
کچھ ہی دور ایک موڑ سے تھوڑا ساآگے کچھ خوبصورت جھاڑیوں نے سڑک کو اپنے آنچل میں چھپا رکھا تھا اور اس آنچل کے اندر اپنی ساری محبتیں سڑک پر نچھاور کر دی تھیں۔ میں پہاڑوں کو دیکھ دیکھ کر ہی راستے کا تعین کر رہا تھا۔ لگتا تھا یہاں نہ تو کوئی رہتا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی یہاں آیا تھااوریہ سڑک ہمیں دنیا کے اْس کنارے پر لے جارہی تھی جہاں سے آگے دنیا نام کا کچھ وجود نہیں ہوگا۔
یہاں پہنچ کرمجھے میر تقی میر اور غالب سب کی وحشت یاد آگئی اور میں حیران بھی ہو رہا تھاکہ غالب نے یہ کیوں کہاحالانکہ وہ کبھی یہاں آیاہی نہیں۔
ہر قدم دوریٔ منزل ہے نمایاں مجھ سے
میری رفتار سے بھاگے ہے، بیاباں مجھ سے
بیکسی ہائے شبِ ہجر کی وحشت، ہے ہے!
سایہ خْورشیدِ قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے
نگہِ گرم سے ایک آگ ٹپکتی ہے، اسد!
ہے چراغاں، خس و خاشاکِ گْلستاں مجھ سے
(اسداللہ غالب)
خدا خدا کرکے دورو اونٹ سواروں نے تنہائی کی وحشت کایہ سلسلہ ختم کیاجو اپنے صحت مند اونٹوں کے ساتھ پیدل چلے آ رہے تھے۔ ایک اونٹ پر سوکھی لکڑیاں لدی ہوئی تھیں اوردوسرے پر پانی کے گھڑے۔
ایک موڑ مڑتے ہی سڑک نے مزید چڑھائی شروع کی تو سرسبز جھاڑیوں نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ ہمیں بھی ان کا اس طرح نکل آنا اچھا لگا،منظر بھی اچھا تھا اور ماحول بھی۔ لیکن نا جانے کیوں اندر خوف کا شہر آن بسا تھا۔ اس لئے اْن کی پیش کش کو ٹھکرا کر ہم آگے بڑھتے رہے۔
اب کوئی بات نئی بات نہیں میرے لیے
اب کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی مجھ کو
خواہش ِ وصل کہاں، عشق کہاں، باتیں کہاں
سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ہوتی مجھ کو
اب سلگتا نہیں یادوں میں وہ مٹی کا دیا
تم سے ملنے کی بھی حسرت نہیں ہوتی مجھ کو...
(سعدیہ خان)
خوبصورت جھاڑیوں کاجھنڈ پیچھے رہ گیا تھا، اب پھر ایک چھوٹا سا دشت نما میدان تھاجس میں سے ہم گذر رہے تھے۔ اچانک میرے بیٹے نے میری توجہ ایک چھوٹے سے ٹیلے پر کھڑی دو موٹر سائیکلوں کی طرف دلائی۔ اس بیابان میں موٹر سائیکلوں کا بغیر اپنے سواروں کے ہونا، ہمارے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا کر رہاتھا۔ یوں ہمارے دلوں میں خوف کی ایک اور تہہ بیٹھ گئی۔
منزل کافی دور تھی اس لئے میں نے عابد سے کہا، ” ذرا جلدی، اب کہیں نہیں رکنا۔“ لیکن ایک عمارت کے کھنڈرات نما آثار نے ہمیں رکنے پر مجبور کر دیا۔
تاریخی اعتبار سے یہ علاقہ بہت زرخیز ہے اس پورے علاقہ میں آثارِ قدیمہ کا کافی بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ عمارت اتنی اہم نہ تھی۔ پھر بھی ہم تصاویر اتارتے رہے۔ لیکن اندر اتناخوف تھا کہ وہاں کسی کو بھی اپنی مرضی کی فوٹو گرافی کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ ہر طرف ہو کا عالم۔ سورج عروج پر اورجائے امان صرف گاڑی تھی۔ مجھ سمیت ہر کوئی خوف کاشکارتھا لیکن کوئی اظہار نہیں کر رہا تھا۔ اتفاق کی بات تھی کہ گاڑی کی ٹیپ چل رہی تھی اور اس پر حبیب ولی محمد کا فن اپنے جوہر دکھارہاتھا۔بچے اگر اپنے ہوش و حواس میں ہوتے تو کبھی بھی یہ موسیقی برداشت نہ کرتے۔ ویسے اس خوف کی فضا میں میں بھی اس مو سیقی سے کوئی خاص لطف اندوزنہیں ہو رہاتھا۔
خوف کہنے کو تین حروف پر مشتمل ایک لفظ ہے لیکن اپنے اثرات کے لحاظ سے بڑی مکروہ چیز ہے۔ اگر ہم اس کی تعریف کو دیکھیں تو بہت سادہ سی ہے،
”کسی بیرونی خطرے کے نتیجے میں اندر اٹھنے والاایک جذبہ۔“
خوف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے جسم اور زندگی کی بجائے اپنے دماغ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ایک طرح سے ہم اپنے دماغ میں رہ رہے ہوتے ہیں جس نے ہمیں قیدی بنا کر رکھا ہوتا ہے وہ واہموں اور خدشات کا ایک ایسا جن ہمارے سامنے کھڑا کر دیتا ہے جس کا وجود ہی نہیں ہوتا۔ اگر ہم ایسی چیز سے ڈرتے ہیں جس کا وجود ہی نہیں تو اسے ہماری حماقت ہی کہا جائے گا۔ اور واقعی ہم احمق بن جاتے ہیں اور مختلف فوبیاز کا شکار ہو جاتے ہیں۔جس طرح حکومت صوبے بناتی ہے اور ان میں اپنے ناظم یا ذمہ دار بنادیتی ہے اسی طرح خوف بھی فوبیاکی حکومت کو جنم دیتا۔
ہاتھوں میں لگنے والے جراثیم سے شروع ہونے والا خوف اتنابڑھتا ہے کہ ہم اپنے اردگرد ایک حصار قائم کر لیتے ہیں۔ جتناخوف گہرا ہوتا جاتاہے یہ حصار اتناہی بڑا، گہرا اورمضبوط ہوتا جاتاہے۔ دیوارجتنی مضبوط ہو تی جاتی ہے ہماری شخصیت اتنی ہی کمزور ہوتی جاتی ہے۔ پھر ہم جراثیم سے لے کر رنگوں تک کے فوبیاز کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس سے چھٹکارہ پانے کا طریقہ کیا ہے۔ کسی نے بڑاخوبصورت طریقہ سمجھایاہے۔ کہ جب خوف میرے نزدیک آتا ہے تو میں کہتا ہو ں میرے اوپر سے گذر جا اور وہ گذر جاتا ہے۔ جب وہ گذر جاتا ہے تو میں اس کے راستہ پر اس کی تلاش میں نکلتا ہوں مگرخوف مجھے کہیں نہیں ملتا بلکہ میں ہر جگہ خود ہی کو پاتا ہوں۔ کسی نے کیاخوب حقیقت بیان کی ہے،
”جہاں خوف ہوتاہے وہاں خوشیاں نہیں ہوتیں۔“
خوف کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ہم ساری عمر یہی سوچنے میں گزار دیتے ہیں کہ دوسرے ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے۔ ہم یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ ہم دوسروں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔
جوں جوں ہم آگے بڑھ رہے تھے، ماحول میں ویرانی اور وحشت بھی بڑھتی جارہی تھی۔ سڑک کی بدحالی اور شکستگی اس وحشت میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔ عابد سڑک کامقابلہ تو کر رہا تھالیکن ناخوشگواریت اور بے زاری اْس کی اداؤں سے عیاں تھی۔ ظاہر ہے اس شکستہ سڑک پراچھلتی ہوئی گاڑی کے کرب کو وہی محسوس کر سکتا تھا۔
” بھائی بڑا اجاڑ ہے۔ جی۔یہاں حکومت کیوں نہیں ہے۔“
”ہے یار سب کچھ ہے حکومت بھی ایم پی اے بھی۔۔ مگر ویسے ہی جیسے باقی جگہوں پر ہیں۔“
” پاپا پیچھے ایک جگہ ایم پی اے کا بورڈ بھی لگا ہو اتھا کو ئی لیڈی ایم پی اے ہیں۔“
شاہزیب نے اپنی معلومات فراہم کیں۔ شاہزیب علم کا اظہار کرے اور زین جواب نہ دے۔
” پاپا اس بورڈ پر یہ بھی لکھا تھا کہ اْس ایم پی ا ے نے اپنے فنڈز سے یہ روڈ بنوائی تھی۔“
” یہ روڈ اگر اْس نے بنوائی ہے تو اْس سے ضرور ملناچاہئیے۔“
اس وقت عابد کی زبان نے اْ س کا سرگودھا کے ساتھ تعلق بڑے واضح انداز میں ادا کیاتھا۔ کچھ ہی دور گئے تھے کہ ہمیں ایک کچی سی بستی دکھائی دی۔ یہ بھی بڑے جابرلوگ ہیں، جہاں کوئی نہیں ہو گا وہا ں افغانی ضرور ہوں گے۔ ہم افغانیوں کی ایک چھوٹی سی بستی کے قریب سے گذر رہے تھے۔ پیلی مٹی سے بنے ہوئے گھر، اونٹ، بڑی بڑی فراکیں پہنے ہوئے مرد و خواتین کو دیکھ کر وحشت کے سائے کچھ کم ہوئے۔ اور ہم کچھ نارمل ہو گئے۔ اس بیابان میں ان لوگوں کا ہونا بھی کسی رحمت سے کم نہیں، یہ لوگ بڑے جفاکش ہیں۔ اس چلچلاتی دھوپ میں بھی اپنے کاموں میں مگن تھے۔
” یہ گھر جی بڑے زبردست ہیں ان کے اندر گرمی کااحساس تک نہیں ہوتا۔۔۔“
عابد نے ایک گھر کے قریب سے گزرتے ہوئے کہا۔
”آپ کو کیسے پتہ؟“
زین نے پوچھا تو عابد نے جواب دیا۔
” اس طرح کے کچھ پٹھان سرگودھا میں ہمارے گاؤں کے قریب رہتے ہیں۔“
صُبح کے درِیچے میں جھانک اے شبِ ہِجراں
کر دِیا تجھے ثابت، بے ثبات پِھر میں نے
(قتیل ؔ شفائی)
اب ہم پہاڑوں کے درمیان میں تھے۔ یہ علاقہ بہت ہی عجیب ہے، انڈیانا جونز کی فلموں کی کوئی سائیٹ یا کو بوائز کادیس۔

علی عامر
معاون خاص
معاون خاص
مراسلات: 5390
تاریخ شمولیت:: جمعہ مارچ 12, 2010 11:09 am
جنس:: مرد
مکانیت: الشعيبہ - المملكةالعربيةالسعوديه
CONTACT:

Re: سفر نامہ ’’ پریوں کی تلاش ‘‘ گیارہویں قسط غلام وارث اقبال

مراسلہاز: علی عامر » اتوار مئی 14, 2017 1:13 pm

بہت خوب تحریر فرمایا ہے ۔۔۔ شکریہ


واپسی بجانب

کون متصل ھے

فورم پر موجود اراکین: 3 اور 0 مہمانان