سفر نامہ پریوں کی تلاش نویں قسط غلام وارث اقبال

اردو نثری قلم پارے اس فورم میں ڈھونڈئے
وارث اقبال
کارکن
کارکن
مراسلات: 62
تاریخ شمولیت:: بدھ مئی 30, 2012 10:36 am
جنس:: مرد

سفر نامہ پریوں کی تلاش نویں قسط غلام وارث اقبال

مراسلہاز: وارث اقبال » ہفتہ اپریل 22, 2017 1:37 pm

کلر کہار کو موروں کی وادی بھی کہا جاتا ہے۔ میں یہاں ایک مرتبہ پہلے بھی آ چکا ہوں جب موٹر وے نئی نئی بنی تھی۔ اُ س وقت میں نے جا بجا انسانوں سے مانوس مور دیکھے تھے، جو ہر جگہ اس طرح گھومتے پھررہے تھے جس طرح ہماری سڑکوں پر موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ البتہ آہو باہو کی خانقاہ پر مور کھلے عام پھرتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اگر انہیں کسی اور مقام پر لے جایا جائے تو وہ اندھے ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ تختِ بابری بھی یہاں کا مشہور مقام ہے۔ یوں کلر کہار میں میرے اور بچوں کے لئے دیکھنے کو کافی سامان موجود تھا۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ موروں کا ذکر ہو اور بچے مور دیکھنے کی ضد نہ کریں، ان کے شدید اصرار پر ہم نے گاڑی نکالی اور جا خانقاہ کے عقب میں مقام کیا، دربار میں گئے، ادھر دیکھا ادھردیکھا لیکن مور وں کے دیدار نہ ہوئے۔
مزار سے باہر ایک چھوٹا سابازار ہے چنانچہ بچے اور ان کی اماں وہاں سے شاپنگ کرنے لگے جبکہ میں ایک دکان میں چند بزرگوں کو فارغ بیٹھے اورحقہ پیتے دیکھ کر ان کی طرف چلا گیا۔ان بزرگوں نے میرا پُر جوش استقبال کیا۔ بات سے بات نکلتی گئی اور یہ ملاقات ایک گھنٹہ تک طول پکڑ گئی۔ پتہ چلا کہ اب مور بہت کم ہو گئے ہیں اور وہ صبح کے وقت اس مزار پر آتے ہیں۔
ان بزرگوں نے مجھے اس علاقہ کے بزرگوں کی کرامات کے بہت سے واقعات سنائے۔ کہا جاتا ہے، ” اس علاقہ میں میٹھے پانی کی بہت کمی تھی۔ا کا دکا جگہ پر میٹھے پانی کے چشمے تھے۔ جہاں دور دراز سے عورتیں پانی بھرنے کے لئے آتی تھیں۔ یو ں اس علاقہ کی سب سے قیمتی شے پینے کا پانی تھا۔
ایک دفعہ کاذکر ہے کہ کچھ عورتیں ایک چشمہ سے پانی بھر کر لا رہی تھیں کہ اللہ کے ایک ولی حضرت شیخ فریدالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کا وہاں سے گزر ہوا۔ انہوں نے ان عورتوں سے پینے کیلئے پانی مانگا تو عورتوں نے جواب دیا کہ بابا جی پانی توکڑوا ہے۔ تو اللہ کے اس بندے نے فرمایا، ” اچھا کڑوا ہے تو کڑوا ہی سہی “
ان عورتوں نے گھر جا کر گھڑوں میں پانی دیکھا تو وہ کڑوا نکلا۔ لوگ بھاگے اور اس چشمے پرپہنچے جہاں سے پانی بھر کر لایا جاتا تھا۔ مگر قدرت خدا کی کہ اس چشمہ کا پانی بھی کڑوا نکلا۔ کلر کہار کے تمام لوگ اس بزرگ کی تلاش میں نکلے اور انہیں پا کر ہاتھ جوڑ کر ان کی خدمت میں بیٹھ گئے۔ معافی طلب کی اور عرض کی کہ پانی کی یہ چھوٹی سی جگہ ہی ہمارا سہارا ہے اس لئے ہمیں معاف کردیجئے۔
لکھنے والے لکھتے ہیں کہ اس بزرگ نے جواب دیا،
” کڑوا تو ہوچکا اب ہم اسے میٹھا نہیں کرسکتے لیکن ایک وقت یہاں سے عارفین کا سلطان رحمتہ اللہ علیہ گزرے گا ان سے عرض کرنا کڑوی چیزوں کو میٹھا اور ناکارہ کو کارآمد بنانا اسی کی صفت ہے۔“
کچھ سالوں بعد وہاں سے سلطان باہو کاگذر ہوا۔ چنانچہ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ پیش کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک پتھر اُٹھا کر پہاڑی کے دامن میں زور سے مارا تو وہاں سے پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا یہ چشمہ قیامت تک جاری رہے گا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا جاری کردہ یہی چشمہ کلر کہار کے لوگوں کیلئے زندگی کا سبب ہے اور یہی اکیلا چشمہ پانی کی تمام ضروریات پورا کرتا ہے۔“
ان بزرگوں نے یہاں پھیلے ہوئے کتنے ہی چشموں اور جھیلوں کا بھی بتایا جن تک پہنچنے کے لئے مزید ایک زندگی درکار ہے۔ ایک بزرگ نے بتایا کہ ہمارے بزرگ بتاتے ہیں کہ کسی زمانے میں یہاں سمندر ہوا کرتا تھا۔ میری جوانی کے زمانے میں یہاں اکثر انگریز آیا کرتے تھے اور سمندری مچھلیاں تلاش کرتے تھے۔
اُن بزرگوں میں سے ایک بزرگ نے اپنی چادر درست کرتے ہوئے بتایا،
”جب ان صاحبِ مزار بزرگانِ دین کا عرس آتا ہے تو لوگ یہاں رات کو دکانیں کھلی چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔ مجال ہے جو کسی دکان کو کوئی نقصان پہنچتا۔ اچھے وقتوں کی باتیں تھیں جی، نہ کوئی چوری چکاری نہ دہشت گردی۔ میں نے کئی انگریزوں کو گائیڈ کیا تھا وہ یہاں سے فوسلز تلاش کرتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے یہاں جرمنی کی ایک ٹیم آئی تھی اوراسے سمندری مچھلی ملی تھی۔“
میں نے پوچھا، ” اچھا بابا جی پریاں کہاں آتی ہیں۔“
”کبھی آتی تھیں۔۔۔ اب کہاں۔“
ایک بزرگ نے جواب دیا تو ان کی بات کاٹ کر دوسرے بزرگ نے حیران کن بات کردی۔
”جنوں کی تو حکومتیں ہیں نااور ان میں لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔“
ایک بزرگ نے بات بڑھاتے ہوئے کہا،
”بیابان ہے جن چڑیلیں تو عام ہیں۔ دیکھنے والے دیکھتے بھی ہیں اور باتیں بھی کرتے ہیں۔“
میں نے پوچھا،
” کوئی خطرہ تو نہیں۔“
ان میں سے ایک نے فوراًجواب دیا،
”نہ نہ کوئی خطرہ نہیں، کچھ بھی نظر آئے تو درود شریف پڑھ لینا ۔۔۔جو بھی ہو گا بھاگ جائے گا۔“
ان بزرگوں سے علاقہ اورلوگوں کے بارے میں بہت سی معلومات ملیں۔ جب میں اُٹھنے لگا تو ان میں سے ایک نے کہا،
”بیٹا دن کے وقت ہی سفر کرنا کوئی پتہ نہیں ہوتا اب ہزاروں کتے بلے نہ جانے کہاں سے آکر یہاں چھپے ہوئے ہیں۔“
ایک نے نصیحت کی، ”یادہے درود کا ورد بس سب خیر ہے۔“


میں یہ سوچ لے کر وہاں سے نکلا کہ آج کے انسان کو کسی جن یا چڑیل سے کوئی خطرہ نہیں۔ خطرہ ہے تو اپنے ہم جنس انسان سے۔ ان بزرگوں کی باتوں میں بہت مزا تھا، پیار تھا اورشفقت۔ کوئی مزدور تھاکوئی دکان دار، پتہ نہیں ان میں سے کسی نے کبھی اسکول بھی دیکھاتھا کہ نہیں، لیکن کردار و عمل، مشاہدہ و تجربہ، دانائی اور حکمت میں بڑی بڑی ڈگریوں والے ان کی خاک کو بھی نہیں چھو سکتے۔ ہر ایک اپنے اندر ایک ایسا خزانہ تھا جو لٹنے کے لئے تو تیار بیٹھاتھا۔ لیکن افسوس لوٹنے والے خال خال۔
ان میں سے کئی تو اس وقت کی باتیں بھی بتا رہے تھے جب یہاں گاڑی نام کی شے بڑی سڑک پر ہی دکھائی دیتی تھی۔ خاص بات یہ کہ وہ اپنے علاقہ کے چپہ چپہ سے واقف تھے۔ ان کے اندر یادوں، تجربوں اور دکھوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ان میں سے اکثریت کا سب سے بڑا دکھ ان کی اپنی اولادیں تھیں۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ اُن کے اپنے تھے۔ کچھ تو اپنی جوانی اور اچھے دور کو یاد کر کے آبدیدہ ہو گئے تھے۔
یاد ماضی میں جو آنکھوں کو سزا دی جائے
اس سے بہتر ہے کہ ہر بات بھلا دی جائے
جس سے تھوڑی سی بھی امید زیادہ ہو کبھی
ایسی ہر شمع سر شام بجھا دی جائے
میں نے اپنوں کے رویوں سے یہ محسوس کیا
دل کے آنگن میں بھی دیوار اٹھا دی جائے
میں نے یاروں کے بچھڑنے سے یہ سیکھا محسن
اپنے دشمن کو بھی جینے کی دعا دی جائے
(محسن نقوی)
آج لکھتے ہوئے بھی وہ بزرگ مجھے یاد آرہے ہیں۔ وہ حقہ، وہ چادریں وہ باتیں۔۔۔ ایسی باتیں کہ جی چاہتا تھا کہ سنتے ہی جائیں۔۔۔۔۔۔ شاید کبھی حاصل سفر ان بزرگوں سے ملاقات بھی ہو۔

بدبو دار جن اور لکشمی کا ناشتہ

شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی
درد جو دل میں ہے چمکے تو سہی
ہم وہیں پر بسا لیں خود کو
وہ کبھی راہ میں روکے تو سہی
اُس کے قدموں میں بچھا دوں آنکھیں
میری بستی سے وہ گزرے تو سہی
(محسن نقوی)

ہم نے رات کاکھانا کھایا اور یہ طے کر کے کہ صبح جلدی اُٹھنا ہے اور جھیل پر پرندوں، مزار اور تختِ بابری کی پیدل سیر کرنی ہے اپنے اپنے بستروں میں چلے گئے۔ ابھی ہم بستروں میں گھسے ہی تھے کہ بارش کی آوازیں سنائی دیں، ہم سب حیران تھے کہ اچانک بارش کس طرح۔ لاہورئیے ہوں اور بارش کااستقبال نہ کریں، بستر چھوڑ باہر بھاگے اور بارش کا لطف اٹھانے لگے۔ بارش بھی تھی کہ گھر سے ہمیں محضوظ کرنے کافیصلہ کر کے آئی تھے۔ ایک اور شرمیلی سی فیملی بھی اپنے چار ہم رکابوں کے ساتھ میدان میں کود چکی تھی۔بارش کا پانی اتنا ٹھنڈا تھا کہ ہم پانچ منٹ سے زیادہ اس کاساتھ نہ دے سکے۔ بارش کے ساتھ ٹھنڈی ہوا نے موسم یکسر بدل کر رکھ دیا ہم گرم علاقوں کے رہنے والوں کے لئے تو یہ رات موسمِ سرما کی رات بن گئی۔ بارش کو چھوڑا اور اپنے کمرے کی طرف بھاگے۔ کمرے میں پہنچتے ہی ہم نے ہوٹل انتظامیہ سے کمبل کا تقاضا کر دیا۔ ہوٹل والے بھی ہم جیسوں سے بخوبی واقف تھے انہوں نے بھی بارش کے آتے ہی کمبل نما ساری چیزیں نکال کر جھاڑ پونچھ لی تھیں۔ جونہی ہم نے تقاضا کیا فوراً گرمی کے مارے میلے کچیلے کمبل جھاڑ جھوڑ کر ہمیں تھما دئیے۔ ہم نے بھی ناک بوں چڑھا کر اور سانسوں پر قفل لگا کر ناصرف وہ کمبل لے لئے بلکہ اوڑھ بھی لئے۔
مجھے نہیں پتہ کہ بچے کب سوئے۔ میں تو اس بدبودار کمبل کو کسی بدبودار جن کی بستی سمجھ کر اس سے آزادی پانے کی کوشش کرتا رہا، کبھی بازوؤں میں منہ گھسیڑتا، کبھی ٹانگوں کو سکیڑتا، کبھی کوئی سورۃ پڑھتا اور کبھی کوئی بھولا شعر یاد کرنے کی کوشش کرتا۔ لیکن جونہی نیند کی پری میرے قریب آنے لگتی کہیں سے بدبو کا ایک خوف ناک بھبھوکا آجاتا اور اُس بے چاری کوبھگا دیتا۔ اس سب کے باوجود مجھے نیند کی وادی میں مکمل طور پر گم ہونے میں کوئی زیادہ وقت نہ لگا۔
رات کے درمیانے پہر کے آخری حصہ میں آنکھ کھلی توکمرے کو اونچے نیچے، سخت نرم اور ہر سوز وساز کے حامل خراٹوں کی لپیٹ میں پایا۔ لگ رہا تھا ہر کوئی نیا راگ الاپنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں میں بھی راگ درباری کی زد میں آگیااور پھر نہیں پتہ رات کا آخری پہر کیسے بیتا۔

جھلسی ہوئی اک درد کی ماری ہوئی دنیا
اک ظلم کے آسیب سے ہاری ہوئی دنیا
قدرت نے سجایاہے اسے لالہ و گل سے
کیاہم نے دیا جب سے ہماری ہوئی دنیا
(صبیحہ صبا)
صبح میں کیا اٹھا پورا کنبہ اُٹھاہو اپایا،واش روم کی درگت کی باری آگئی۔بچوں کی ماں نے تو صبح صبح باہر نہ جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔لیکن ہم تین باپ بیٹا،جھیل، تختِ بابری اور بزرگوں کا مزار دیکھنے کے وعدہ پر قائم تھے۔
میں نے اٹھتے ہی عابد کو فون کر دیاتھا چنانچہ وہ بھی تیاری کے مراحل میں تھے۔ جائے غسل، عرفِ عام میں واش روم ہم سے نا واقف تھا اورہم اس سے۔ اس لئے کہیں ٹوتھ پیسٹ گری، کہیں مٹی بھرے پاؤں جمے، کہیں بنیانوں کا تبادلہ ہوااورکہیں موزوں نے اپنی نئی جوڑیاں بنا لیں۔ مختصر یہ کہ ہم تیار ہو کر کمرے سے باہر ٹیرس پر آئے اور ٹیرس سے براستہ سیڑھیاں نیچے بھاگے۔ باہر مرکزی ٹیرس پر پہنچے تو عابد نے مسکر اکر ہمارا استقبال کیا۔ ان کے ہمراہ تھی انتہائی خوشگوار اور ٹھنڈی ہوا۔ جسے یقینا نسیمِ بادِ بہاری تو نہیں کہا جا سکتا تھا لیکن ہمشیر ہ ٔ نسیم بادِ بہاری تو ضرور کہا جاسکتا تھا۔ آسمان پر بادل ابھی تک قابض تھے۔ رات کی نیند نے ہماری رگوں میں نیا لہودوڑا دیا تھا اور ہم یو ں بھاگے پھرتے تھے جیسے مہاجر پرندے کسی محفوظ دیس میں آ گئے ہوں۔
ہم ٹیرس پر کھڑے تھے کہ ہوا میں شدید خنکی اور بارش کی آمد کا احساس ہوتے ہی ذہن جیکٹس کی طرف چلا گیا۔ لیکن کون حوصلہ کرے کہ اوپر جائے اور بیگوں میں سے جیکٹس نکالے اور واپس آئے۔ میں کبھی اپنے چھوٹے بیٹے کو کہتا، یا ر تم جاؤ، کبھی بڑے کو۔ لیکن دونوں نے نافرمانی کا عزم ِ صمیم کر رکھا تھا۔ عابد کو ہم باپ بیٹا کی چوں چوں کی بھنک پڑی تو بولا، ”بھائی جان! کچھ شاپر گاڑی کی ڈگی میں ابھی تک رکھے ہیں، باجی نے کہا تھاکمرے میں ان کی ضرورت نہیں چیک کر لیں کہیں اُن میں جیکٹس نہ ہوں۔“ ”واہ جی واہ۔“سب گاڑی کی طرف دوڑے۔گاڑی پر پہنچ کر جب شاپر کھلے تو ٹوپیاں، سکارف اور جیکٹس سب موجود تھے۔میرے بچوں نے ہر وہ شے نکال لی جو شدید برفانی موسم میں استعمال ہوتی ہے۔ زین نے تو یہ کہہ کر حد کر دی،
”پاپا میں نے گلوز بھی لے لئے ہیں، ہو سکتا ہے کہ اوپر برف باری ہو رہی ہو۔“
میں نے جواب دیا،
”ہاں ہم نانگا پربت سر کرنے جا رہے نا۔۔۔۔ لے لو جو دل کرتا ہے۔۔۔ ظاہر ہے جوجو گھر سے اٹھالائے ہو اُسے استعمال تو کرنا ہے۔“
جیکٹس پہن کرہم سیڑھیوں پر جانے کی بجائے ایک پکڈنڈی کا سہارا لیتے ہوئے نیچے سڑک کی طرف اس طرح بھاگے جیسے جنگ میں فوجی اسلحہ سے لیس ہو کر دشمن پر چڑھائی کرتے ہیں۔ بس کوئی دوچار چھلانگوں کے بعد ہم سڑک پر تھے۔ جھیل کے اندر کناروں پر ہر طرف سرکنڈوں کا راج تھا، جو اس جھیل کی خوبصورتی کو شدت سے متاثر کر رہا تھا۔ لیکن چونکہ یہ پرندوں کا مسکن ہے اس لئے جھیل کے کناروں کو ان بدنما سرکنڈوں سے پاک نہیں کیا جاسکتا۔خاص طور پر موسمِ سرما میں آنے والے مہاجر پرندے یہاں رکتے ہیں۔ اور شاید کچھ بچے بھی دیتے ہوں گے اورواپس چلے جاتے ہوں گے اور کچھ بیچارے ایسے بھی ہوں گےجو خود تو نہ جا سکتے ہوں گے تاہم ان کے بچے اپنے وطن کی طرف ہجرت کرتے ہوں گے۔
ہم نے جھیل کے اندر جانے والے راستے پر اندر جانے کے لئے لکڑی کی پُل نما راہداری پر قدم رکھا ہی تھا کہ آسمان پرندوں سے بھر گیاجن کی آوازیں آپس میں اس طرح گڈ مڈ تھیں جیسے بیسیوں راگ۔ تھوڑی ہی دیر میں بات سمجھ آئی کہ ان پرندوں میں زیادہ تر کوے تھے جنہوں نے سرِ شام ہی ان سرکنڈوں اور ان کے ارد گرد مقامات پر قبضہ کر لیا تھا۔ جونہی جھیل کے مقامی آبی پرندے اپنی پناہ گاہوں سے باہر آئے تو یہ ان کے بچوں اور انڈوں کا ناشتہ فرمانے کے لئے فوج در فوج نکل آئے۔ یہ پرندے چونکہ کئی انواع واقسام کے تھے اس لئے ناشتہ کے لئے یہ کووں کا محبوب مقام بن گیا ۔ گویا لاہور کا لکشمی بازار۔
یہاں سرکنڈوں سے پرندوں کے باہر آنے کا منظر بھی دیدنی تھا۔ یہ آبی پرندے اپنے حصار سے باہر اُڑکر نہیں آرہے تھے بلکہ ایک خاص ترکیب بنا کر تیرتے ہوئے سرکنڈوں کے اندر سے برآمد ہو رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر مجھے انگریزی فلمیں یاد آ گئیں جن میں قلعہ بند فوج قلعہ کا دروازہ کھول کر اسی طرح باہر آتی ہیں۔ سب سے آگے ایک یا دو پرندے تھے ان کے پیچھے پہلے والوں سے ذرا سی بڑی قظار اور اس قطار کے پیچھے اس سے بڑی قطار۔ اس طرح کئی قطاروں میں یہ ایک تکون کی شکل بناتے ہوئے کسی بحری بیڑے کی طرح باہر نکل رہے تھے۔ خاص بات یہ تھی کہ ان کے تیرنے کی رفتاراورطریقہ ایک جیسا تھا۔ ان پرندوں کے تیرنے سے جو لہریں بن رہی تھیں اُن کی ہیت، ترکیب، ترتیب اور خوبصورتی پرگھنٹوں بات کی جاسکتی ہے۔ کالے پانی میں کالے پرندوں اور پانی کی سلیٹی رنگ کی لہریں۔ خاص بات یہ تھی کہ جو ترکیب ایک گروپ میں دکھائی دے رہی تھی باقیوں کی بھی وہی تھی۔
ویسے تو اس جھیل پر کئی اقسام کے پرندے آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اس وقت اپنے مسکنوں سے باہر آنے والے پرندوں میں سے اکثریت کا تعلق مرغابی کی مختلف اقسام سے تھا۔

ہم نے جھیل کے اندر جانے والی راہداری کے بالکل آخری کونے پر کئی سفید بگلے بھی دیکھے جن میں سے ایک بالکل مختلف تھا۔ اُسے دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آیاکہ شاید یہ جھیل اُن مہاجر پرندوں کا جائے مسکن بھی بنتی ہوگی جو اپنے قافلوں سے پیچھے رہ جاتے ہوں گے۔ اُسی طرح جس طرح اس جگہ آنے والے لشکروں کے کئی قافلے واپس نہیں گئے اور انہوں نے اس ملک کو ہی اپنا وطن بنا لیا۔ اسی طرح بہت سے مہاجر پرندے بھی شاید اسی دیس کو اپنا وطن بنا لیتے ہوں گے۔ میری یہ سوچ درست تھی کہ غلط اس کا فیصلہ تو پرندوں پر تحقیق کرنے والا ہی کر سکتا ہے۔
جھیل کی راہداری سرکنڈوں کے اندر سے گذرتی ہے۔ ان سر کنڈوں میں سے کئی قسم کے پرندوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ اچانک میری نظر ایک سلیٹی رنگ کی ایک شے پر پڑی جو حرکت بھی کر رہی تھی۔ میں دبے پاؤں اُس کی طرف بڑھااور بچوں کو بھی منع کر دیاکہ وہ میرے پیچھے نہ آئیں۔ جب میں قریب پہنچا تو دیکھ کر حیران رہ گیاکہ وہ پلاسٹک کی ایک بوتل تھی۔
میرے تو رگ وپے میں ایک آگ سی لگ گئی، فقط پلاسٹک کی ایک بوتل، پینے والے نے یہ بوتل جھیل کے پانی میں گھما کر پھینکی ہوگی اور پھر اس کے ارد گرد بنتی بگڑتی لہروں اور دائروں سے لطف بھی اٹھایا ہوگا۔ لیکن اس وقت پتہ نہیں کتنے پرندے ڈر کر اپنے اپنے ٹھکانوں میں چھپ گئے ہو ں گے۔ فقط ایک بوتل پلاسٹک کی۔ پتہ نہیں کتنے معصوم پرندوں نے اس میں اپنی چونچیں ماری ہوں گی اورزخم کھائے ہوں گے۔
کہنے کو فقط ایک بوتل۔ ہم کیا ہیں، کس سیارے کی مخلوق ہیں۔ ہم ایک بوتل کو فقط ایک بوتل کیوں سمجھتے ہیں۔ ہماری سوچ اُس سے آگے کیوں نہیں بڑھتی۔ جب میں نے پہلی مرتبہ یہ جھیل دیکھی تھی تو سبزے سے لدی نیلے پانی سے بھری ایک خوبصورت جھیل تھی۔ جس کی خوبصورتی ایسی کہ انسان دیکھتا ہی چلا جائے۔ لیکن آج کہنے کو یہ ایک جھیل ہے لیکن درحقیقت کوڑے سے بھرا ایک جوہڑ جس کی طرف دیکھتے ہی اُبکائی آتی ہے۔ نا جانے ہم اپنے ماحول کو اُس کی اصل حالت میں موجود رکھنے کی استطاعت کیوں نہیں رکھتے۔ نا جانے ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ یہ اللہ کی طرف سے عطاکردہ انعامات ہیں جن کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔ نا جانے بوتلوں، سگریٹ کے ٹکڑوں، اور شاپنگ بیگز پر ہمار ا اختیار کیوں نہیں۔ ہماری اپنی روحوں کو تو زنگ لگ چکا ہے فطرت کو کیوں گندھلا رہے ہیں۔ جب بابر کا لشکر یہاں رکا ہو گا تو اُس نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ اس جھیل کا کل کتنا بھیانک ہے۔ اور اس جھیل کو بنانے والا فنکار کیاسوچتا ہو گا کہ یہ انسان کتنا ظالم ہے جو اپنے مالک کی بنائی ہوئی خوبصورت تصویروں کو سنبھال کر نہیں رکھ سکتا۔ میں خود کسی زمانے میں تصویریں بنایاکرتا تھا۔ اگر میری کوئی تصویر کسی وجہ سے خراب ہو جاتی تو میں کئی کئی دن سو نہیں سکتا تھا کہ نئی تصویر میں پتہ نہیں مجھ سے وہ اسٹروک لگے گا یا نہیں۔ وہ رنگ بنے گا یانہیں۔ میرا پاک رحیم یہ سب کچھ کیسے برداشت کرتا ہو گا۔ ہم اس رب سے اپنے تعلق اور محبت کا رونا تو بہت روتے ہیں۔ لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ محبت میں وفا بھی ہوتی ہے۔ محبت میں بندگی بھی ہوتی ہے اور محبت میں محبوب کے سامنے تسلیم و رضابھی ہوتی ہے۔ رسول سے محبت کا تقاضا ہے کہ جب وہ کہے رحم تو رحم کیاجائے، جب وہ پودوں کی حفاظت کا حکم دے تو حفاظت کی جائے۔ پتہ نہیں ہم کسے اطاعتِ رسول و خدا کہتے ہیں۔ ہم اپنا اندر تو نفرتوں، کدورتوں، بغض اور عناد سے میلا کر بیٹھے ہیں۔ خدا کی اس زمین اور اس پر بسنے والی اُ س کی مخلوق کو کیوں چین سے نہیں رہنے دیتے۔ ہم نے اپنا آپ تو پلیدی کی آگ سے جھلسا دیا ہے زمین کے ماتھے کاحسن کیوں چھین رہے ہیں۔ ایک پنجابی شاعر نے کیا خوب کہا ہے،

جس دل اندر عشق نہ رچیاکتے اُس تھیں چنگے
خاوند دے در راکھی کردے صابربھکے ننگے

واپسی بجانب

کون متصل ھے

فورم پر موجود اراکین: 1 اور 0 مہمانان