خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مذاہب کے بارے میں گفتگو کی جگہ
سید حماد رضا بخاری
کارکن
کارکن
مراسلات: 52
تاریخ شمولیت:: اتوار ستمبر 13, 2015 3:50 pm
جنس:: مرد
CONTACT:

خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: سید حماد رضا بخاری » منگل ستمبر 22, 2015 1:51 pm

پروفیسر اور طالب علم کے درمیان خدا کی موجودگی پر مباحثہ
فلسفے کے ایک ملحد پروفیسر نے کمرہ جماعت میں ایک طالب علم سے سوال کیا
پروفیسر: تم خدا پر ایمان رکھتے ہو؟
۔ طالب علم: بالکل جناب
پروفیسر: کیا خدا اچھا ہے؟
طالب علم: یقیناً۔
پروفیسر:کیا خدا طاقتور ہے؟
طالب علم: جی ہاں۔
پروفیسر:میرا بھائی کینسر سے مرگیا اس کے باوجود کہ وہ خدا سے اپنی صحت کی دعائیں کیاکرتا تھا۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ بیماروں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر خدا نے ایسا نہیں کیا، پھر خدا اچھا کیسے ہوسکتاہے؟
طالب علم: (خاموش رہتا ہے۔)
پروفیسر:تمہارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں، کیا ہے؟ اچھا! اپنی بات پھر سے شروع کرتے ہیں نوجوان۔ کیا خدا اچھا ہے؟
طالب علم: جی ہاں۔
پروفیسر: کیا شیطان اچھا ہے؟
طالب علم: نہیں۔
پروفیسر:شیطان کہاں سے آیا ہے؟
طالب علم: خدا کی طرف سے۔
پروفیسر: ہاں ٹھیک کہا۔ یہ بتاؤ بیٹا کہ کیا دنیا میں برائی ہے؟
طالب علم: جی ہاں۔
پروفیسر: برائی ہرجگہ موجود ہے، کیا نہیں ہے؟ اور خدا نے ہرچیز بنائی ہے، ٹھیک ہے؟
طالب علم: جی ہاں۔
پروفیسر: تو برائی کو کس نے پیدا کیا؟
طالب علم: (کوئی جواب نہیں دیتا)
پروفیسر: کیا بیماری، بداخلاقی، نفرت اور بدصورتی کا وجود ہے؟ دنیا میں یہ بھیانک چیزیں پائی جاتی ہیں؟
طالب علم: جی ہاں جناب۔
پروفیسر: تو پھر انہیں کس نے بنایا ہے؟
طالب علم: (خاموش رہتا ہے)
پروفیسر: سائنس کہتی ہے کہ ہم حواس خمسہ کے ذریعے اپنے اردگرد پائی جانے والی دنیا کو جانتے اور پہچانتے ہیں۔ تو تم مجھے بتاؤ کہ کیا تم نے کبھی خدا کو دیکھا ہے؟
طالب علم: نہیں جناب
پروفیسر: اچھا یہ بتاؤ کبھی خدا کو سنا ہے؟
طالب علم: جی نہیں
پروفیسر: کیا تم نے کبھی اپنے خدا کو محسوس کیا ہے؟چکھا ہے؟ سونگھا ہے؟ کبھی خدا کا کوئی حسیاتی احساس اس معاملے میں ہوا ہے؟
طالب علم: نہیں جناب، میں خوفزدہ ہوں، میں نے ایسا نہیں کیا۔
پروفیسر: اس کے باوجود تم خدا پر یقین رکھتے ہو؟
طالب علم: جی ہاں جناب۔
پروفیسر: تجزیاتی اورتجرباتی حساب سےتو سائنس کہتی ہے کہ تمہارا خدا موجود نہیں ہے، تم کیا کہتے ہو بیٹا؟
طالب علم: کچھ نہیں، بس میرا ایمان ہے۔
پروفیسر: ایمان! اور یہی تو مسئلہ ہے سائنس کا۔

یہاں طالب علم پروفیسر پرالفاظ کا حملہ کرتا ہے

طالب علم : پروفیسر! کیا حرارت نام کی کوئی جیز ہوتی ہے؟
پروفیسر:ہاں
طالب علم:اور کیا ٹھنڈک جیسی کوئی چیز بھی ہوتی ہے؟
پروفیسر: ہاں
طالب علم: نہیں، ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔
(لیکچر ہال میں اس مرحلہ پرگہری خاموشی چھاجاتی ہے۔)
طالب علم: جناب آپ کے پاس حرارت ہوسکتی ہے، زیادہ حرارت بھی حتیٰ کہ بہت زیادہ حرارت بھی، کم حرارت بھی یا حرارت نہیں بھی ہوسکتی لیکن ٹھنڈک نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہم صفر سے نیچے منفی 458 ڈگری تک بھی جاسکتے ہیں جہاں حرارت کا وجود نہیں ہوتا لیکن ہم اس سے آگے نہیں جا سکتے۔ وہاں بھی ٹھنڈک نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ دراصل ٹھنڈک ایک لفظ ہے جو ہم حرارت کی غیر موجودگی کو بیان کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ہم ٹھنڈک کو ماپ نہیں سکتے۔ حرارت توانائی ہے جبکہ ٹھنڈک حرارت کا متضاد نہیں ہے محض اس کی غیرموجودگی کا نام ہے۔
(لیکچر ہال میں گہرا سکوت چھا جاتا ہے)
طالب علم:پروفیسر اندھیرے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا اندھیرا نام کی کوئی چیز ہوتی ہے؟
پروفیسر: ہاں! رات کیا ہے؟ اندھیرا ہی تو ہے۔
طالب علم: آپ پھر غلطی پر ہیں جناب۔ اندھیرا کسی چیز کی غیر موجودگی ہے، آپ کے پاس کم روشنی ہوسکتی ہے، عام روشنی ہوسکتی ہے، تیز روشنی ہوسکتی ہے، بہت تیز روشنی ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر جب آپ کے پاس متواتر روشنی نہیں ہوتی تو آپ اُسے اندھیرا کہتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ حقیقت میں اندھیرا ہوتا ہی نہیں ہے اور اگر ہوتا تو آپ اندھیرے کو مزید گہرا کرنے کے قابل ہوتے۔کیا ایسا نہیں ہے؟
پروفیسر: تو تم ثابت کیا کرنا چاہتے ہو نوجوان؟

طالب علم: جناب میرا مطلب ہے کہ آپ کے فلسفیانہ خیال کی بنیاد غلط ہے۔
پروفیسر: غلط ہے؟ کیا تم اس کی وضاحت کرسکتے ہو؟
طالب علم: جناب آپ کی فلسفے کی بنیاد ڈوئلٹی یعنی’’ دو‘‘ پر ہے، آپ کہتے ہیں کہ زندگی ہے تو موت ہے، ایک اچھا خدا ور ایک برا خدا(معاذ اللہ)، آپ خدا کے تصور کو محدود کررہے ہیں جیسے ایک ایسی چیز جس کی ہم پیمائش کرسکتے ہوں۔ جناب سائنس تو محض ایک خیال کی وضاحت نہیں کرسکتی۔ یہ بجلی اور مقناطیسیت کو استعمال کرتی ہے جو نظر نہیں آتے حتیٰ کہ آج تک اُن میں سے کسی ایک کو پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکی۔ موت کو زندگی کا متضاد تصور کرنا حقیقت کے برعکس ہے۔ موت زندگی کا متضاد نہیں ہے، بلکہ محض زندگی کی عدم موجودگی کا نام ہے۔ پرفسیر! اب آپ مجھے یہ بتایے کہ کیا آپ اپنے شاگردوں کو یہ پڑھاتے ہیںکہ وہ بندرسے ترقی کرتے ہوئے بنے ہیں؟
پروفیسر: اگر تم قدرتی ارتقائی عمل (نیچرل ایولیوٹری پراسس) کی بات کررہے ہو تو ہاں، بے شک میں پڑھاتا ہوں۔
طالب علم: کیا آپ نے کبھی وہ ارتقائی عمل اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے؟
(پروفیسر سر ہلا کر مسکراتا ہے اور محسوس کرنا شروع کرتا ہے کہ بحث کدھر جارہی ہے)
طالب علم:اُس ارتقائی عمل کو کسی نے اب تک دیکھا ہے نہ ثابت کیا ہے پھر بھی آپ وہی پڑھاتے ہیں، کیا آپ ایک سائس دان کی بجائے مبلغ نہیں ہے جناب؟
(لیکچر ہال میں اک شور سا بلند ہوتا ہے)
طالب علم: (سب کو مخاطب کرتے ہوئے) کیا آپ میں سے کسی نے کبھی پروفیسر صاحب کا دماغ دیکھا ہے؟
(قہقہے)

طالب علم: کیا کبھی کسی نے پروفیسرصاحب کے دماغ کوسُنا ہے، محسوس کیا ہے، چھوا ہے یا سونگھا ہے؟ پس، مقررہ معینہ قوانین اور اصول وضوابط کی بنا کر سائنس کہتی ہے جناب کہ آپ کے پاس دماغ ہے ہی نہیں۔ گستاخی معاف جناب، پھر ہم آپ کے لیکچرز پر کیسے بھروسہ کرسکتے ہیں؟
(کمرہ میں گہری خاموشی چھاجاتی ہے اور پروفیسر گہری نظروں سے طالب علم کے چہرے کو دیکھتا ہے)
پروفیسر: میرا خیال ہے کہ تم یہ سب ایمان کے تناظر میں دیکھ رہے ہو۔
طالب علم: جناب۔ بالکل ایسا ہی ہے۔ انسان اور خدا کے درمیان تعلق یہی ایمان ہے اور اسی کا نام زندگی ہے۔
(اس طالب علم کو دنیا البرٹ آئن سٹائن کے نام سے جانتی ہے۔)

رکن کی نمائندہ تصویر
چاند بابو
منتظم اعلٰی
منتظم اعلٰی
مراسلات: 21833
تاریخ شمولیت:: پیر فروری 25, 2008 3:46 pm
جنس:: مرد
مکانیت: بوریوالا
CONTACT:

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: چاند بابو » بدھ ستمبر 23, 2015 8:47 pm

بہت خوبصورت شئیرنگ کا شکریہ محترم.
قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو
میں اپنے حصے کے سُکھ جس کے نام کر ڈالوں
کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو

سید حماد رضا بخاری
کارکن
کارکن
مراسلات: 52
تاریخ شمولیت:: اتوار ستمبر 13, 2015 3:50 pm
جنس:: مرد
CONTACT:

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: سید حماد رضا بخاری » جمعرات ستمبر 24, 2015 4:40 pm

بہت شکریہ محترم چاند بابو صاحب، سلامت رہیے.

رکن کی نمائندہ تصویر
علی خان
منتظم اعلٰی
منتظم اعلٰی
مراسلات: 2559
تاریخ شمولیت:: جمعہ اگست 07, 2009 2:13 pm
جنس:: مرد

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: علی خان » جمعہ ستمبر 25, 2015 8:30 am

میں نے انہی الفاظ کی ایک ویڈیو عرصہ پہلے دیکھی تھی، اور آج وہ تمام الفاظ ٹیکسٹ فارمیٹ میں مل گئے. بہت بہت شکریہ جناب
میں آج زد میں ہوں خوش گماں نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں .

سید حماد رضا بخاری
کارکن
کارکن
مراسلات: 52
تاریخ شمولیت:: اتوار ستمبر 13, 2015 3:50 pm
جنس:: مرد
CONTACT:

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: سید حماد رضا بخاری » اتوار ستمبر 27, 2015 9:25 pm

پسندیدگی گا شکریہ جناب علی خان صاحب، بہت عرصہ سے سوچ رہا تھا کہ اسے اردو میں ترجمہ کروں، پھر اردو نامہ کے باذوق لوگوں کے لئے کوشش کر ہی ڈالی.

رکن کی نمائندہ تصویر
محمد نور
کارکن
کارکن
مراسلات: 16
تاریخ شمولیت:: بدھ جنوری 19, 2011 9:17 pm
جنس:: مرد

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: محمد نور » ہفتہ اکتوبر 03, 2015 12:21 pm

a.a
ما شا ء اللہ آپ نے بہت خوبصورت انداز میں اس مکالمے کو تحریر کیا ہے . میں نے اسکی ویڈیو دیکھی تھی . بس اس چیز کو کنفرم کرنا ہے کہ کیا واقعی یہ البرٹ آئن سٹائن تھا ؟؟؟ v;g
عکس

سید حماد رضا بخاری
کارکن
کارکن
مراسلات: 52
تاریخ شمولیت:: اتوار ستمبر 13, 2015 3:50 pm
جنس:: مرد
CONTACT:

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: سید حماد رضا بخاری » ہفتہ اکتوبر 03, 2015 3:52 pm

جناب محمد نور صاحب، السلام وعلیکم. مندرجہ بالا مکالمے کو پسند کرنے کا شکریہ، میری معلومات کے مطابق وہ واقعی البرٹ آئن سٹائن تھا. اُس کا تعلق ایک یہودی خاندان سے تھا اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ یہودی خدا پر ایمان رکھتے ہیں. آئن سٹائن کو مذہب سے کافی دلچسی تھی اور اس نے اس بارے میں لکھا بھی بہت ہے.

رکن کی نمائندہ تصویر
محمد شعیب
منتظم اعلٰی
منتظم اعلٰی
مراسلات: 6495
تاریخ شمولیت:: جمعرات جولائی 15, 2010 7:11 pm
جنس:: مرد
مکانیت: پاکستان
CONTACT:

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: محمد شعیب » ہفتہ اکتوبر 03, 2015 8:15 pm

مکالمے کے آخر میں لکھا ہے کہ یہ طالب علم آئن سٹائن تھا
کیا اس کا ریفرنس مل سکتا ہے؟
یہ مکالمہ الزامی دلائل کی بنیاد پر تھا۔ الزامی دلائل کے لحاظ سے اچھا مکالمہ ہے۔ جزاک اللہ

Sent from my SM-J110F using Tapatalk

سید حماد رضا بخاری
کارکن
کارکن
مراسلات: 52
تاریخ شمولیت:: اتوار ستمبر 13, 2015 3:50 pm
جنس:: مرد
CONTACT:

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: سید حماد رضا بخاری » پیر اکتوبر 05, 2015 10:03 am

حوالہ جات:
1:
http://www.nairaland.com/259804/convers ... or-student
:2
http://www.snopes.com/religion/einstein.asp
3:
http://www.religioustolerance.org/culeins.htm
4:
http://www.truthorfiction.com/einstein-god/
5:
https://answers.yahoo.com/question/inde ... 036AAxT4jo

جناب محمد شعیب صاحب، اُمید ہے مندرجہ بالا حوالہ جات کافی ہوں گے. والسلام و علیکم ورحمۃ اللہ.............

عبیداللہ عبید
ماہر
مراسلات: 512
تاریخ شمولیت:: پیر دسمبر 29, 2008 6:26 pm
جنس:: مرد
مکانیت: Pakistan

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: عبیداللہ عبید » پیر اکتوبر 05, 2015 1:39 pm

سید حماد رضا بخاری نے لکھا ہے:جناب محمد نور صاحب، السلام وعلیکم. مندرجہ بالا مکالمے کو پسند کرنے کا شکریہ، میری معلومات کے مطابق وہ واقعی البرٹ آئن سٹائن تھا. اُس کا تعلق ایک یہودی خاندان سے تھا اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ یہودی خدا پر ایمان رکھتے ہیں. آئن سٹائن کو مذہب سے کافی دلچسی تھی اور اس نے اس بارے میں لکھا بھی بہت ہے.



Professor : You are a Christian, aren’t you, son ?
Student : Yes, sir.
Professor: So, you believe in GOD ?
Student : Absolutely, sir.
Professor : Is GOD good ?
Student : Sure.
Professor: Is GOD all powerful ?
Student : Yes.
Professor: My brother died of cancer even though he prayed to GOD...

مکالمہ تمثیلی اور حقائق سے قریب ہے اورمیرے اندازے کے مطابق آئن سٹائن کو نسبت محل نظر معلوم ہوتی ہے.

سید حماد رضا بخاری
کارکن
کارکن
مراسلات: 52
تاریخ شمولیت:: اتوار ستمبر 13, 2015 3:50 pm
جنس:: مرد
CONTACT:

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: سید حماد رضا بخاری » پیر اکتوبر 05, 2015 2:10 pm

جناب عبید اللہ عبیدصاحب، اس بات کی خوشی ہے کہ آپ نے مباحثے کا نہایت باریکی سے مطالعہ کیا. آئن سٹائن کی سوانح حیات (بحوالہ وکی پیڈیا) میں یہی بیان کیا جاتا ہے ہے کہ اُس کا تعلق ایک یہودی گھرانے سے تھا:
Early childhood[edit]
Einstein was raised by secular Jewish parents
https://en.wikipedia.org/wiki/Religious ... t_Einstein
جو مباحثہ انگریزی زبان میں نیٹ پر دستیاب ہے اور جسے میں نے ترجمہ کیا ہے اُس میں اگرچہ یہ لکھا ہوا تھا کہ وہ ایک عیسائی تھا.(جیسا کہ آپ نے اوپر حوالہ دیا ہے)، مگر میں نے ترجمہ کرتے ہوئے جان بوجھ کر اسے نظر انداز کردیاتھا اور اس کی وجہ یہی تضاد تھا جو وکی پیڈیا اور دیگر مواد میں آپ نے بھی ملاحظہ کیا.
والسلام و علیکم
Last edited by سید حماد رضا بخاری on منگل اکتوبر 06, 2015 9:35 am, edited 1 time in total.

عبیداللہ عبید
ماہر
مراسلات: 512
تاریخ شمولیت:: پیر دسمبر 29, 2008 6:26 pm
جنس:: مرد
مکانیت: Pakistan

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: عبیداللہ عبید » پیر اکتوبر 05, 2015 10:08 pm

ویسے حماد رضا بخاری صاحب! لگتا ہے آپ کو بھی میری طرح جدید علمِ کلام کا چسکا لگاہے ، کیا میرا اندازہ درست ہے ؟

سید حماد رضا بخاری
کارکن
کارکن
مراسلات: 52
تاریخ شمولیت:: اتوار ستمبر 13, 2015 3:50 pm
جنس:: مرد
CONTACT:

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: سید حماد رضا بخاری » منگل اکتوبر 06, 2015 9:35 am

جناب عبید اللہ عبید صاحب، علم تو مومن کی میراث ہے.

عبیداللہ عبید
ماہر
مراسلات: 512
تاریخ شمولیت:: پیر دسمبر 29, 2008 6:26 pm
جنس:: مرد
مکانیت: Pakistan

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: عبیداللہ عبید » منگل اکتوبر 06, 2015 4:15 pm

سید حماد رضا بخاری نے لکھا ہے:جناب عبید اللہ عبید صاحب، علم تو مومن کی میراث ہے.


لحکمۃ ضالۃ المومن فانی وجدھا فھو احق بھا

شاہ صاحب!

اثبات ِ وجودِ باری تعالیٰ کے متعلق جدید کتابوں میں سے کون کون سی کتابیں آپ کو دستیاب ہوئی ہیں؟

عبیداللہ عبید
ماہر
مراسلات: 512
تاریخ شمولیت:: پیر دسمبر 29, 2008 6:26 pm
جنس:: مرد
مکانیت: Pakistan

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: عبیداللہ عبید » منگل اکتوبر 06, 2015 4:30 pm

یہ سوال میں نے اس لیے پوچھا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ اس موضوع پر مواد یکجا نشر کیا جائے اور اس میں موافق اور مخالف دونوں قسم کا مواد ہو.

کیونکہ غیر مسلم تو درکنار اپنے مسلمان بھائیوں کی اکثریت لاعلمی اور ناقص مطالعہ کی وجہ بنیادی اسلامی عقائد :

توحید

رسالت ، وحی

بعث بعد الموت یا عقیدہ آخرت


کے بارے میں تذبذب کے شکار ہیں.


نوٹ:.


ماموں (چاند بابو) کی اجازت بھی اس میں ضروری ہے اور یہ حساس اور نازک مسئلہ بھی ہے .

کیونکہ اس سےمیری طرح ناقص علم رکھنے والے دیگر کم علم افراد ایسے مواد کی تدوین کرنے والوں کے بارے میں غلط فہمی کے شکار بھی ہوسکتے ہیں.

رکن کی نمائندہ تصویر
چاند بابو
منتظم اعلٰی
منتظم اعلٰی
مراسلات: 21833
تاریخ شمولیت:: پیر فروری 25, 2008 3:46 pm
جنس:: مرد
مکانیت: بوریوالا
CONTACT:

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: چاند بابو » بدھ اکتوبر 07, 2015 7:19 pm

میری طرف سے اس قسم کے علمی موضوع کو شروع کرنے کی بالکل اجازت ہے.
مگر دھیان یہ رہے کہ یہ موضوع صرف موازنے کے لئے استعمال ہو اس میں مکالمہ کی بالکل اجازت نہیں دی جائے گی.
یعنی کوئی دو پارٹیز اس موضوع میں خدا کے ہونے یا نا ہونے یا پھر خدا کی وحدانیت یا غیرواحدانیت پر بحث نہیں کر سکیں گی.
البتہ مختلف موضوعات پر موجود کتب و رسائل جن میں بنیادی اسلامی عقائد کی نفی کی گئی ہے اگر ان کی مخالفت میں کوئی صاحب اپنی رائے دینا چاہے تو اسے اجازت ہو گی.
ویسے یہ ایک انتہائی حساس موضوع ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ مخالفت میں دلائل دینے والے ہمیں انسانی عقلی بنیادوں پر دلائل دیتے ہیں.
اور اکثر اوقات ان کے دلائل عقلی بنیادوں پر اتنے وزنی ہوتے ہیں کہ اچھا خاصا ہوش و حواس رکھنے والا اور ایمان والا آدمی بھی ڈگمگانے لگتا ہے.

الحمداللہ اللہ پاک کی ذات پر اس کے تمام فرامین پر میں عقلی، عملی اور کلی طور پر ایمان رکھتا ہوں مگر یہ بات میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ میرے جیسے بندے کو وہ دہریئے لوگ اپنے پانچ فقروں میں ہی سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور قدم خدانخواستہ ڈگمگانے کا خدشہ شروع ہو جاتا ہے.
میں ذاتی تجربہ بتا رہا ہوں کہ فیس بک پر کچھ ایسے ہی صفحات کی میں نے رکنیت حاصل کر رکھی تھی تاکہ ان لوگوں کی باتوں کا اندازہ لگا سکوں.
مگر ان کی چند باتیں ایسی پڑھنے کو ملیں جن کا جواب میں اپنی کم علمی کی بناء پر تلاش نہیں کر پایا اور ایک وقت ایسا آیا کہ میں ہر وقت پریشان رہنے لگا کہ آخر معاملہ کیا ہے مگر صد شکر کہ اللہ پاک نے اپنی رحمت خداوندی سے مجھے اس دلدل میں گرنے سے بچایا، سب سے پہلے تو میں نے اپنے طور پر ان تمام صفحات کی رکنیت معطل کی اور اس کے بعد آہستہ آہستہ میں نے ان تمام باتوں کی بابت کرید شروع کی تو الحمداللہ میرا دماغ بالکل صاف ہو گیا.

کہنے کا مقصد یہ تھا کہ موضوع جیسا بھی بنائیں کھلی آزادی ہے مگر اس میں کوئی گمراہ کن مواد نا رکھیں اور اگر موضوع کی روانی کے لئے ایسا مواد رکھنا ضروری ہو تو اس مواد کے بالکل ساتھ اسی پوسٹ میں اس مواد کے رد کے سلسلے میں‌جامع عقلی و دینی دلائل کے ساتھ مفصل نوٹ بھی ضرور دیجئے گا تاکہ کل کلاں میرے جیسا کوئی کمزور اسے پڑھ کر گمراہی کا شکار ہی نا ہو جائے.

امید ہے کہ موضوع شروع کرنے سے پہلے میری درخواست کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور بھرپور طریقے سے میرے اٹھائے ہوئے نقاط پر عمل کیا جائے گا.
قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو
میں اپنے حصے کے سُکھ جس کے نام کر ڈالوں
کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو

عبیداللہ عبید
ماہر
مراسلات: 512
تاریخ شمولیت:: پیر دسمبر 29, 2008 6:26 pm
جنس:: مرد
مکانیت: Pakistan

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: عبیداللہ عبید » جمعرات اکتوبر 08, 2015 1:41 am

چاند بابو نے لکھا ہے:میری طرف سے اس قسم کے علمی موضوع کو شروع کرنے کی بالکل اجازت ہے.
مگر دھیان یہ رہے کہ یہ موضوع صرف موازنے کے لئے استعمال ہو اس میں مکالمہ کی بالکل اجازت نہیں دی جائے گی.
یعنی کوئی دو پارٹیز اس موضوع میں خدا کے ہونے یا نا ہونے یا پھر خدا کی وحدانیت یا غیرواحدانیت پر بحث نہیں کر سکیں گی.
البتہ مختلف موضوعات پر موجود کتب و رسائل جن میں بنیادی اسلامی عقائد کی نفی کی گئی ہے اگر ان کی مخالفت میں کوئی صاحب اپنی رائے دینا چاہے تو اسے اجازت ہو گی.
ویسے یہ ایک انتہائی حساس موضوع ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ مخالفت میں دلائل دینے والے ہمیں انسانی عقلی بنیادوں پر دلائل دیتے ہیں.
اور اکثر اوقات ان کے دلائل عقلی بنیادوں پر اتنے وزنی ہوتے ہیں کہ اچھا خاصا ہوش و حواس رکھنے والا اور ایمان والا آدمی بھی ڈگمگانے لگتا ہے.

الحمداللہ اللہ پاک کی ذات پر اس کے تمام فرامین پر میں عقلی، عملی اور کلی طور پر ایمان رکھتا ہوں مگر یہ بات میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ میرے جیسے بندے کو وہ دہریئے لوگ اپنے پانچ فقروں میں ہی سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور قدم خدانخواستہ ڈگمگانے کا خدشہ شروع ہو جاتا ہے.
میں ذاتی تجربہ بتا رہا ہوں کہ فیس بک پر کچھ ایسے ہی صفحات کی میں نے رکنیت حاصل کر رکھی تھی تاکہ ان لوگوں کی باتوں کا اندازہ لگا سکوں.
مگر ان کی چند باتیں ایسی پڑھنے کو ملیں جن کا جواب میں اپنی کم علمی کی بناء پر تلاش نہیں کر پایا اور ایک وقت ایسا آیا کہ میں ہر وقت پریشان رہنے لگا کہ آخر معاملہ کیا ہے مگر صد شکر کہ اللہ پاک نے اپنی رحمت خداوندی سے مجھے اس دلدل میں گرنے سے بچایا، سب سے پہلے تو میں نے اپنے طور پر ان تمام صفحات کی رکنیت معطل کی اور اس کے بعد آہستہ آہستہ میں نے ان تمام باتوں کی بابت کرید شروع کی تو الحمداللہ میرا دماغ بالکل صاف ہو گیا.

کہنے کا مقصد یہ تھا کہ موضوع جیسا بھی بنائیں کھلی آزادی ہے مگر اس میں کوئی گمراہ کن مواد نا رکھیں اور اگر موضوع کی روانی کے لئے ایسا مواد رکھنا ضروری ہو تو اس مواد کے بالکل ساتھ اسی پوسٹ میں اس مواد کے رد کے سلسلے میں‌جامع عقلی و دینی دلائل کے ساتھ مفصل نوٹ بھی ضرور دیجئے گا تاکہ کل کلاں میرے جیسا کوئی کمزور اسے پڑھ کر گمراہی کا شکار ہی نا ہو جائے.

امید ہے کہ موضوع شروع کرنے سے پہلے میری درخواست کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور بھرپور طریقے سے میرے اٹھائے ہوئے نقاط پر عمل کیا جائے گا.



تبصرہ کا حق محفوظ

سید حماد رضا بخاری
کارکن
کارکن
مراسلات: 52
تاریخ شمولیت:: اتوار ستمبر 13, 2015 3:50 pm
جنس:: مرد
CONTACT:

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: سید حماد رضا بخاری » جمعرات اکتوبر 08, 2015 9:57 am

جناب عبید اللہ عبید صاحب! السلام و علیکم. یہ تو آئن سٹائن کا ایک مکالمہ تھا جومجھے اچھا لگا تو ترجمہ کرکے پیش کردیا. جہاں تک ربَ کائنات کی موجودگی پربحث کا تعلق ہے تو جناب میرے خیال میں اس موضوع پر بحث کی کوئی گنجائش ہے ہی. اللہ ہے اور وجودَ کائنات ہی اس کے وجود کی سب سے بڑی دلیل ہے. آپ نے پوچھا ہے:
اثبات ِ وجودِ باری تعالیٰ کے متعلق جدید کتابوں میں سے کون کون سی کتابیں آپ کو دستیاب ہوئی ہیں؟
تو حضور کتابیں تو بہت سی دستیاب ہیں، جبھی کہہ رہا ہوں کہ اس موضوع پر بحث کی کوئی گنجائش بچی ہی نہیں. مگر اس خیال سے کہ میرے الفاظ سے آپ کو کچھ مایوسی نہ ہوئی ہو، اپنی لکھی ہوئی ایک حمد تبرک کے طور پر پیش کرتا ہوں:

میرے خدا

تری حمد کیسے کروں بیاں؟
مری سوچ پر کڑا امتحاں
مرے لفظ تیرے اسیر ہیں
ترا اِذن ہو تو کھلے زباں
کوئی کیسے تجھ کو سمجھ سکے؟
کئی راز تجھ میں ہوئے نہاں
تجھے بھول کر ہوں بھٹک گیا
مجھے یاد آ مرے مہرباں!

مری تشنگی کو قرار دے
مری اُلجھنوں کو سنوار دے
میں خزائوں کاہوں ڈسا ہُوا
مجھے اب تو کوئی بہار دے

کبھی مسجدوں میں نہ مِل سکا
دلِ سوختہ میں مِلا کبھی
کبھی مانگ کر نہ عطا کیا
کہیں بے طلب بھی دِیا کبھی
کسی عقل میں تُو نہ آسکا
تجھے ہر کوئی نہ سمجھ سکا
اُسے اپنی ذات میں مل گیا
جسے جستجو کا ہنر ملا

تُو ہے شام میں تُو سحر میں ہے
تُو ہے عرش پر تُو دہر میں ہے
تُو نظر کی حد سے ہے ماورا
مگر اہلِ دِل کی نظر میں ہے

ہیں مرے نصیب میں خار کیا
مجھے مِل سکے گی بہار کیا
تری دسترس میں ہیں کھیل سب
کوئی جیت کیا؟ کوئی ہار کیا

(سید حمادرضابخاری)

عبیداللہ عبید
ماہر
مراسلات: 512
تاریخ شمولیت:: پیر دسمبر 29, 2008 6:26 pm
جنس:: مرد
مکانیت: Pakistan

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: عبیداللہ عبید » جمعرات اکتوبر 08, 2015 10:11 am

جناب عبید اللہ عبید صاحب! السلام و علیکم. یہ تو آئن سٹائن کا ایک مکالمہ تھا جومجھے اچھا لگا تو ترجمہ کرکے پیش کردیا. جہاں تک ربَ کائنات کی موجودگی پربحث کا تعلق ہے تو جناب میرے خیال میں اس موضوع پر بحث کی کوئی گنجائش ہے ہی. اللہ ہے اور وجودَ کائنات ہی اس کے وجود کی سب سے بڑی دلیل ہے. آپ نے پوچھا ہے:
اثبات ِ وجودِ باری تعالیٰ کے متعلق جدید کتابوں میں سے کون کون سی کتابیں آپ کو دستیاب ہوئی ہیں؟
تو حضور کتابیں تو بہت سی دستیاب ہیں، جبھی کہہ رہا ہوں کہ اس موضوع پر بحث کی کوئی گنجائش بچی ہی نہیں.


غالبا آپ '' اس موضوع پر بحث کی کوئی گنجائش ہے ہی نہیں '' لکھنا چاہتے تھے ،

''نہیں'' آپ سے چھوٹ گیا .

جہاں تک اس موضوع پر بحث کا تعلق ہے ، میں نے کب لکھا ہے کہ اس پر بحث ہونی چاہیے .

میرا اور چاند بابو کا خیال ہے کہ اس موضوع پر مخالف اور موافق مواد کو تحقیقی اور ابلاغی نقطہ نظر سے یکجا کیا جائے .تاکہ اگر کسی محقق کو ڈھونڈنا پڑے تو آسانی ہو.

اورکوئی ذات باری تعالی کے وجود کے بارے میں مخمصہ کا شکار ہوتو یقین اور اذعان کی دولت نصیب ہو.

عبیداللہ عبید
ماہر
مراسلات: 512
تاریخ شمولیت:: پیر دسمبر 29, 2008 6:26 pm
جنس:: مرد
مکانیت: Pakistan

Re: خدا کی موجودگی پر مباحثہ (تحریر: سید حماد رضا بخاری)

مراسلہاز: عبیداللہ عبید » جمعرات اکتوبر 08, 2015 10:23 am

اثبات ِ وجودِ باری تعالیٰ کے متعلق جدید کتابوں میں سے کون کون سی کتابیں آپ کو دستیاب ہوئی ہیں؟
تو حضور کتابیں تو بہت سی دستیاب ہیں، جبھی کہہ رہا ہوں کہ اس موضوع پر بحث کی کوئی گنجائش بچی ہی نہیں. مگر اس خیال سے کہ میرے الفاظ سے آپ کو کچھ مایوسی نہ ہوئی ہو، اپنی لکھی ہوئی ایک حمد تبرک کے طور پر پیش کرتا ہوں:


میرے خیال میں عام مارکیٹ میں اس موضوع پر بہت کم کتابیں دستیاب ہیں جو ہمارے عامۃ الناس کی راہنمائی کی کرسکیں.

لے دے کے، ہمارےقدیم علمِ کلام کا قیمتی ذخیرہ مارکیٹ میں موجود ہے جو یا تو عربی میں ہے یا ایسے اسلوب میں ہے جن سے عصرِ حاضر کے خواندہ حضرات خاطر خواہ استفادہ نہیں کرسکتے .

اُن سے استفادہ صرف ہمارے عربی خوان علما کرسکتے ہیں اور صرف عربی خوانی کافی نہیں ہے اس کے لیے بلکہ اسلامی عہد ِ زرین میں رائج منطق و فلسفہ سے واقفیت بھی ضروری ہے.

جبکہ اردومیں اس موضوع پر جو مود لکھاگیا ہے وہ عمومامارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوتا . پہلے موضوع کے حوالے سے کتاب کا نام اور پھر اس کی تلاش کا مشکل درپیش ہوتا ہے .اور ان میں بھی وہی مشکل ہے جو پہلے ذکر کیا گیا کہ عصری اسلوب کا فقدان ہے .


واپسی بجانب

کون متصل ھے

فورم پر موجود اراکین: 1 اور 0 مہمانان