“چاہیے“ کا روگ ( زاویہ) از اشفاق احمد

میں آپ کو اکثر ایسی باتیں بھی بتاتا رہتا ہوں جو آپ کے مطالعے، مشاہدے یا نظر سے کم ہی گزری ہوں گی۔ ایک زمانے میں تو ہمارے ہاں بہت سی درگاہیں اور “ زاویے “ ہوتے تھے جہاں بزرگ بیٹھ کر اپنے طرز کی تعلیم دیتے تھے لیکن آہستہ آہستہ یہ سلسلہ کم ہونے لگا۔ یہ کمی کس وجہ سے ہوئی میں اس حوالے سے آپ کی خدمت میں درست طور پر عرض نہیں کر سکتا۔ وہ درگاہیں، زاویے اور وہ بزرگ یوں مفید تھے کہ وہ اپنی تمام تر کوتاہیوں اور کمیوں کے باوصف لوگوں کو ایسی تسلی اور تشَفّی عطا کرتے تھے جو آج کے دور کا مہنگے سے مہنگا Psychoanalyst یا Psychiatrist نہیں دے سکتا۔ خدا جانے ان کے پاس ایسا کون سا علم ہوتا تھا۔ ان کا کندھے پر ہاتھ رکھ دینا یا تشفی کے دو الفاظ کہہ دینے سے بڑے سے بڑا بوجھ آسانی سے ہٹ جاتا تھا۔ ہمارے بابا جی جن کے پاس ہم لاہور میں جایا کرتے تھے ان کی کئی عجیب باتیں ایسی ہوتی تھیں جو ہماری دانست سے ٹکرا جاتی تھیں اور وہ پورے طور پر ہماری گرفت میں نہیں آتی تھیں کیونکہ ہم ایک اور طرح کا علم پڑھے ہوۓ تھے۔ ہمارا علم سکولوں، کالجوں اور ولائیت کا تھا اور اس نصاب میں وہ بابوں کی باتیں ہوتی نہیں تھیں۔ ایک روز انہوں نے فرمایا کہ دنیا کی سب سے بری، تکلیف دہ اور گندی بیماری “ چاہیے کا روگ “ ہے۔ ان کی یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ آخر “چاہیے کا روگ“ کیا ہے۔ یہ بات یہاں سے چلی جب میں نے ڈیرے کے غسل خانے کے اس دروازے کو ٹھیک کر لینا چاہیے کی بات کی جس کا ایک دروازہ قبضہ ڈھیلا ہونے کے باعث ایک طرف جھکا ہوا تھا۔ میری اس بات کے جواب میں بابا جی نے فرمایا کہ چاہیے کا ایک روگ ہوتا ہے جو کمزور قوموں کو لگ جاتا ہے اور وہ ہمیشہ یہی ذکر کرتے رہتے ہیں کہ “یہ ہونا چاہیے“، “وہ ہونا چاہیے۔“ ہمارے ایک دوست صفدر میر تھے جو اب فوت ہو چکے ہیں وہ انگریزی کے Columnist تھے۔

پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔