یہ طوفان انکشاف!…

 یہ طوفان انکشاف

پہلے نہیں تو اب یہ اندازہ ضرور ہوجانا چاہئے کہ ٹیکنالوجی کتنا بڑا عفریت بن چکی ہے اور ساری دنیا کیوں کر اُس کے سامنے بازیچہ اطفال بن کررہ گئی ہے۔ علامہ اقبال نے یہ کہہ کر مستقبل کے لامحدود امکانات کے بے کراں سمندر کو ایک شعر کے کوزے میں بند کردیا تھا کہ #

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

”وکی لیکس“ کی تازہ دستاویزات نے ایک عالم میں زلزلہ سا بپا کردیا ہے۔ سب سناٹے میں ہیں اور سپاٹ چہروں کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں۔ پتھر کی مورتیاں بن جانے والوں میں سے کسی کو کچھ خبر نہیں کہ وہ کیا کرے؟ نہ کہیں سے کوئی تردید جاری ہورہی ہے‘ نہ کوئی وضاحت سامنے آرہی ہے‘ نہ کوئی صدائے احتجاج بلند کررہا ہے اور نہ کوئی اپنی صفائی میں کوئی دلیل تراش رہا ہے۔ چار سو کشتوں کے پشتے لگے ہیں اور ٹیکنالوجی شوخ و شنگ حسینہ کی طرح منہ میں دوپٹہ دابے ہنس رہی ہے۔ اخلاقیات کا کوئی تقاضا رہا نہ تہذیب کا بھرم نہ رشتہ و تعلق کا رکھ کھاؤ نہ سفارتی قرینوں کی آبرو۔ یوں لگتا ہے کہ چار سو گریبانوں کی دھجیوں کے ڈھیر لگے ہیں اور اور کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اپنی آبرو کیسے بچائے؟۔
پڑھناجاری کرھئے۔۔۔