ہمیں قرآن کریم کی تلاوت کیوں کرنی چاہئے؟؟

امریکہ کے مشرقی پہاڑوں کین ٹکی میں ایک بوڑھا امریکی اپنے ایک پوتے کے ساتھ رہا کرتا تھا ۔دادا کا یہ معمول تھا کہ وہ ہر روز صبح سویرے باورچی خانے کی میز پر قرآن پاک کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔پوتا جو اپنے دادا سے بہت محبت کیا کرتا تھا اسکی خواہش تھی کہ وہ بھی اپنے دادا جان کے نقش قدم پرچلتے ہوئے قرآن پاک کی تلاوت کیا کرے ، لہذا اس نے بھی تلاوت کلام پاک شروع کر دی تھی ۔
ایک روز اس نے دادا جان سے پوچھا “ دادا جان میں بھی آپکی طرح قرآن پاک پڑھتا ہوں ،لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا اور اگر میں کچھ سمجھتے ہوئے اسے یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو قرآن بند کرتے ہی سب بھول جاتا ہوں ، اب آپ ہی بتائے ۔اس طرح میرا قرآن پڑھنے کا کیا فائدہ ہوا“
دادا بغیر کچھ کہے خاموشی سے مڑے ،انہوں نے کوئلے انگیٹھی میں ڈالے اور دھیرے سے جواب دیا۔
بیٹا! یہ کوئلوں کی تھیلی لو اور دریا سے اس تھیلے میں پانی بھر لاؤ۔
لڑکے نے ویسا ہی کیا جیسا اس کے دادا نے کہا تھا ،لیکن گھر پہنچنے سے قبل ہی تمام پانی باسکٹ سے بہہ گیا تھا ۔جب وہ گھر خالی تھیلی لئے ہوئے پہنچا تو اسے دیکھ کر دادا جان ہنسنے لگےاور دھیرے سے بولے۔بیٹا اگلی بار ذرا تیزی سے چلنا اس کے بعد دادا نے دوبارہ اپنے پوتے کو دریا پر تھیلے میں پانی لینے دریا پر بھیج دیا ۔اس مرتبہ دریا سے پانی بھرنے کے بعد وہ بچہ تیزی سے بھاگنے لگا ، تاکہ تھیلہ خالی ہونے سے قبل گھر پہنچ جائے ، لیکن اس مرتبہ بھی جب وہ گھر پہنچا تو تھیلہ خالی تھا ۔
پوتے نے اکھڑی ہوئی سانسوں پر قابو پاتے ہوئے دادا کو بتایا کہ اس تھیلے میں پانی لانا ناممکن ہے ، اس لئے اسکی بجائے اگر وہ بالٹی لے جائے تو آسانی سے پانی لا سکتا ہے ۔
لیکن بیٹا میں بالٹی بھر پانی نہیں بلکہ تھیلی بھر پانی چاہتا ہوں ، اس لئے بیٹا پانی تو تمہیں اسی تھیلی میں ہی لانا ہوگا۔ بیٹا ! شائد تم اچھی طرح کوشش نہیں کر رہے ، تمہیں مزید محنت کی ضرورت ہے ، چلو شاباش !ایک مرتبہ پھر کو شش کر لو“ دادا جان نے پوتے کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور اب وہ دروازے کے باہر کھڑے ہو گئے، تاکہ اپنے پوتے کی کوشش کو دیکھ سکیں ۔

پڑھناجاری رکھئے۔۔۔