ہالو کاسٹ :: تجزیہ حقائق

نیور مبرگ کے ناٹک میں اسوالڈپہل کا چہرہ نمایاں‌ نظر آتا ہے۔ پہل 1934 تک جرمن بحریہ میں افسر رہا پھر ہملر کی درخواست پر اسے ایس ایس میں منتقل کردیا گیا۔ یہاں‌اس نے گیارہ برس تک اقتصادی اور انتظامی دفترکی سربراہی کے فرائض انجام دیے۔ 1941 کے بعد کنسنٹریشن کیمپوں کے پیداواری شعبے کی نگرانی اسی دفتر کے ذمے تھی۔ پہل بڑا حساس اور ذہین تھا۔ عدالت میں انتہائی افسردہ اوردل شکستہ نظر آتا۔ سینٹر میکارتھی نے اس کی اس کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہل پر سخت مظالم ڈھائےگئے جن کی تاب نہ لاکر اس نے چند کاغذات پر دستخط کردیے۔ انہی میں اس کا یہ بیان بھی تھا کہ 1944 کی گرمیوں میں اس نے آسخوٹز کیمپ میں گیس چیمبر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ نام نہاد عدالت کے سامنے اس نے اپنے اس بیان کی تردید کردی۔ مگر ناٹک رچانے والوں کو اس کی کیا پرواہ تھی۔ پہل کا دوست ڈاکٹر الفریڈسائیڈل ایک ممتاز وکیل تھا۔ اس نے عدالت میں دلائل سے ثابت کیا کہ پہل بے گناہ ہے اس پر یہودیوں کی نسل کشی کا الزام محض فراڈ ہے استغاثہ پہل کے خلاف زرا بھی سچی شہادت پیش نہ کرسکا لیکن عدالت نے پھر بھی اسے مجرم قرار دیا۔ صفائی کا ایک اور گواہ ایس ایس کا لیفٹیننٹ کرنل کرٹ شمد کلیوناؤ تھا اس نے18 اگست 1940 کو ایک حلفیہ بیان عدالت میں پیش کیا جس میں کہا تھا کہ کنسنٹریشن کیمپوں میں بے ضابطگیوں کی شکایت پیدا ہوئی۔ تو رائخ نے تحقیقات کے لیےکونرڈ مورگن کو جج مقرر کیا۔ پہل نے اس کے ساتھ پورا تعاون کیا۔ اور جب ایک کیمپ کمانڈنٹ پر قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے الزام میں مقدمہ چلا تو پہل نے اسے سزائے موت دینے کی زبردست حمایت کی۔ قارئین یہ سن کر حیران ہونگے کہ نیورمبرک کے سوانگ سے متعلق جو دستاویزات شائع کی گئی ہیں ان میں کہیں اس بیان کا ذکر تک نہیں‌آتا۔
یہی حشر متعدد جرمن افسروں کی شہادتوں اور حلفیہ بیانات کا ہوا۔ پڑھنا جاری رکھیں ۔۔۔۔۔۔