کیا دہلی کی تاریخی مسجد بچ سکے گی؟

کیا دہلی کی تاریخی مسجد بچ سکے گی؟

DELHI METRO TRAIN AND JAMIA MASJIDشاہجہاں آباد عرف پرانی دہلی کی اکبرآبادی مسجد ایک مرتبہ پھر سرخیوں میں ہے ۔اس مرتبہ میٹرو ریل کے ہتھکنڈوں میں پھنسی یہ تاریخی مسجد جو 1857کی جنگ آزادی کے دوران مجاہدین آزادی کی نسبت سے برطانوی سامراج کے عتاب کا شکار ہوکر شہید ہوئی ‘14جون2012کی رپورٹ کے مطابق اب آثار قدیمہ کے رحم وکرم پر ہے جبکہ حقائق اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ آج کا سبھاش پارک دراصل ایڈورڈ پارک کی جدید شکل ہے جس کے نیچے وہ تاریخی مسجد ہے جسے معروف مغل شہنشاہ شاہجہاں کی بیگم اکبرآبادی نے 17ویں صدی عیسوی میں تعمیر کروائی تھی ۔تاریخ کی کتابوں میں اکبر آبادی مسجد کے نام سے معروف اس مقام پر آج میٹرو ریلوے کے بھاری بھرکم اوزار آزمائے جارہے ہیں جبکہ صدائے احتجاج بلند کرنے والوں میں حسب سابق حاجی شعیب اقبال ‘ دہلی رکن قانون ساز اسمبلی‘ مٹیا محل کے علاوہ اور کوئی نظر نہیں آرہا۔ اس سلسلہ میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمارت کے تباہ ہوجانے کی صورت میں‘ جیسا کہ انگریزوں نے اپنے اقتدارکا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاریخ کی صورت مسخ کی ہے‘کیا مسجد کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے؟ پڑھناجاری رکھئے…