کرکٹ مگر یوسفی کی زبانی

کرکٹ مگر یوسفی کی زبانی

Cricket in the words of Mushtaq Ahmad Yousafiہم نے اپنے بچپن کا دور صرف ٹیسٹ کرکٹ کو دیکھنےاور سننے میں گذارا پھرایک روزہ کرکٹ کا وجودہوا مگر ٹیسٹ کرکٹ شاید دنیا کا واحد کھیل ہےجس میں عام طورپر 5 روز میں بھی کوی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا ، جبکہ ایک روزہ کرکٹ بھی پورے دن پر محیط ہوتی۔ جبکہ ٹی ٹوئنٹی نے تو دورانیے کا مسئلہ ہی ختم کر دیا ۔شرفاء کا کھیل کرکٹ جو اب سٹہ بازوں اور جواری کھلاڑیوں کی وجہ سے مشکوک کھیل بن گیا ہے اس کرۂ ارض پر سو سال سے زائد بہاریں دیکھ چکا ہے۔ جو کرکٹ کو واقعی سمجھتا ہے، صرف وہی جانتا ہے کہ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو آپ کو ہر ہر لمحے محظوظ کرے گا۔ایک بلے باز کا میدان میں بلا گھماتے ہوئے داخل ہونا، پھر گارڈ لینے اور کھیلنے کے لیے تیار کھڑے ہونے کا اپنا انوکھا انداز، جو بلے بازی کو پسند کرتے ہیں اور اس کی باریکیوں کو سمجھتے ہیں، اُن کے لیے اس پورے عمل کا ایک ایک لمحہ لذت آمیز ہے۔ اس کے بعد جب کھیل کا آغاز ہوتا ہے اور بلے باز اپنی تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کرتا ہے، چاہے دفاعی انداز میں کلائی کا استعمال ہو یا جارحانہ انداز سے بلا گھمانا، ہر انداز ایک ناقابل بیان لذت کا احساس دیتا ہے۔دوسری طرف گیند بازی اپنے اندر ایک الگ قسم کی خوبصورتی سموئے ہوئے ہے۔ تیز گیند باز ہو، یا بلے باز کو اپنی انگلیوں کے ذریعے نچانے والا اسپن گیندباز، گیند لے کر ان کا دوڑنے اور گیند پھینکنے کا مرحلہ تو ہیجان خیز ہے ہی لیکن ٹپہ پڑنے کے بعد گیند کس طرح بلے باز کو دھوکا دیتی ہے، یہ سب بھی شائقین کرکٹ کے لیے لذت بے شمار ساماں لیے ہوئے ہیں۔
پڑھناجاری رکھئے…