کاپی رائٹ، پیٹنٹ، ٹریڈ مارک اور اس کے بارے میں شرعی حکم

کاپی رائٹ، پیٹنٹ، ٹریڈ مارک اور اس کے بارے میں شرعی حکم

 

فکری ملکیت، جس میں کاپی رائیٹ، پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک شامل ہیں، کی حفاظت کا نظریہ مغرب کے سرمایہ داری نظام معیشت کے زیر سایہ پیدا ہوا۔ صنعتی سرمایہ دار ممالک نے ۱۸۸۳ ء میں پیرس اور ۱۸۸۶ میں برن (Burne) میں فکری ملکیت کی حفاظت کا معاہدہ کیا۔ اس کے بعد بیس سے زائد معاہدے ہو چکے ہیں۔ پھر ان معاہدوں کی نگرانی اور سرپرستی کے لئے فکری ملکیت کی عالمی تنظیم ویپو (WIPO) کی بنیاد رکھی گئی۔ اس طرح ۱۹۹۵ء میں عالمی تجارتی تنظیم (WTO) نے فکری ملکیت کی حفاظت کو اختیار کیا اور ویپو (WIPO) اس کا ایک حصہ بن گئی۔ تجارت کی اس عالمی تنظیم نے یہ شرط رکھ دی کہ جو ممالک تجارت کے لئے اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنا چاہیں ان کے لئے فکری ملکیت کی حفاظت کا التزام ضروری ہے۔ اس طرح ان ممالک کے لئے یہ بھی شرط رکھ دی گئی کہ وہ ایسے قوانین وضع کریں کہ جن کی رو سے وہ اپنے اپنے ممالک میں فکری ملکیت کی حفاظت کر سکیں۔ پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔