چینی کا موجودہ بحران، حقائق کیا ہیں؟

White Sugarپاکستان میں شوگر ملز، ٹریڈنگ کارپوریشن اور کمرشل ہاؤسز کے پاس چینی کا چینی کا اسٹاک موجود ہے اور مزید 50 ہزار ٹن چینی چند روز میں پاکستان پہنچنے والی ہے۔ مگر اس کے باوجود اچانک چینی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا گیا ہے اور تاحال یہ عمل جاری ہے۔ 74 روپے تک فروخت ہونے والی چینی کہیں 100 روپے فروخت ہو رہی ہے تو کہیں اس کی قیمت 120 روپے سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ گرانی کا یہ طوفان کہاں سے اٹھا اور کہا جا کر رکے گا، اور نا ہی یہ کسی کے علم میں ہے کہ حکومت عوام کے ریلیف کے لئے کیا اقدامات اٹھا رہی ہے، چینی کے کاروبار پر نظر رکھنے والے حلقوں سے دستیاب اطلاعات کے مطابق چند چیزیں بہت واضح ہیں، اول یہ کہ ملک میں چینی کو کوئی بحران نہیں ہے، دوسری یہ کہ حکومت کو اس حوالے سے تمام تر آگاہی ہے اور جو بھی معاملات پیش آ رہے ہیں یہ ناگہانی نوعیت کے نہیں حکومت کی خاموشی اور بہت غلط فیصلوں کے سبب یہ سارا معاملہ پیش آیا۔ اس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ چینی کا یہ بحران وزیرِ زراعت کے اس مشورے کے بعد شروع ہوا کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ چینی مہنگی ہے تو عوام اس کا استعمال ترک کر دیں یہ صحت کے لئے اچھی نہیں۔
پڑھنا جاری رکھئے۔