پیپلز پارٹی کےتیر اور مسلم لیگ ق کی سائیکل پر مٹی پاوُ

پیپلز پارٹی کےتیر اور مسلم لیگ ق کی سائیکل پر مٹی پاوُ

Pakistan Peoples Party & Pakistan Muslim League Quaid Azamایک اخباری اطلاع کے مطابق “پاکستان پیپلزپارٹی اور ق لیگ کی قیادتیں اس مفاہمت پر پہنچ چکی ہیں کہ دونوں پارٹیاں آنے والے قومی انتخابات میں ایک دوسرے کے مقابلے میں امیدوار نہیں لائیں گی اور ملک بھر میں کسی بھی حلقے میں تیر اور سائیکل مد مقابل نہیں ہو ں گے”، تیر پاکستان پیپلز پارٹی کا اور سائیکل مسلم لیگ ق کا انتخابی نشان ہیں۔ اس سے پہلے کہ بات آگے چلے یہاں تیر اور سائیکل کے متعلق کچھ بات ہوجائے، پاکستان میں آپکو تیر کا نشان ہر غریب کے چہرے پر ملے گا، موجودہ حکومت نےعوام کومعاشی بدحالی، تعلیمی تنزلی ، بدامنی، سی این جی کی ناپیدگی، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بہت سارے قسم کے تیر مارئے ہیں اس لیے تیر پاکستان کا مقبول ترین نشان ہے، مگر صاحب سائیکل کی بات بھی اہم ہے، کیونکہ جب پیٹرول اور سی این جی کا حصول ناممکن ہوگا تب یہ سائیکل ہی ہوگی جو آپکو پیدل چلنے سے بچاے گی، ویسے سائیکل دو پہیوں کی سواری ہے چلتے چلتے گر بھی جاتی ہے ، پہلے یہ مشرف کے دربار میں تھی آجکل زرداری کے دربار میں گری ہوئی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں عمل میں آیا، بھٹو صاحب نے تو تلوار کے نشان پر 1970 اور 1977 کے الیکشن لڑئے مگر ضیاالحق نے جہاں بھٹو کو پھانسی دی
پڑھناجاری رکھئے…