پیر کامل صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم

عکس

انسان اپنی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز سے گزرتا ہے۔ کبھی کمال کی بلندیوں کو جا چھوتا ہے، کبھی زوال کی گہرائیوں تک جا پہنچتا ہے۔ ساری زندگی وہ ان ہی دونوں انتہاؤں کے درمیان سفر کرتا رہتا ہے اور جس راستے پر وہ سفر کرتا ہے، وہ شکر کا ہوتا یا نا شکری کا۔ کچھ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ زوال کی طرف جائیں یا کمال کی طرف، وہ صرف شکر کے راستے پر ہی سفر کرتے ہیں، چاہے زوال حاصل کریں یا کمال اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ان دونوں راستوں پر سفر کرتے ہیں۔ کمال کے راستے پر جاتے ہوئے شکر کے اور زوال کی طرف جاتے ہوئے نا شکری کے۔ انسان اللہ کی ان گنت مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے۔ اشرف المخلوقات ہے مگر مخلوق ہی ہے۔ وہ اپنے خالق پر کوئی حق نہیں رکھتا، صرف فرض رکھتا ہے۔ وہ زمین پر ایسے کسی ٹریک ریکارڈ کے ساتھ نہیں اتارا گیا کہ وہ اللہ سے کسی بھی چیز کو اپنا حق سمجھ کر مطالبہ کر سکے مگر اس کے باوجود اس پر اللہ نے اپنی رحمت کا آغاز جنت سے کیا، اس پر نعمتوں کی بارش کر دی گئی اور اس کے بدلے اس سے صرف ایک چیز کا مطالبہ کیا گیا شکر کا۔ کیا محسوس کرتے ہیں آپ! اگر آپ کبھی زندگی میں کسی پر کوئی احسان کریں اور وہ شخص اس احسان کو یاد رکھنے اور آپ کا احسان مند ہونے کے بجائے آپ کو ان مواقع کی یاد دلائے پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔