پروجیکٹ بلیو بیم

Project Blue Beam

ایجوکیٹ یورسلف یا اپنے آپ کو تعلیم یافتہ بناو، کینیڈا کا ایک تھنک ٹینک ہے جو مختلف سائنسی و معاشرتی موضوعات پر تحقیقی رپورٹس شائع کرتا رہتا ہے، یہ مضمون بھی اسی تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ کا ترجمہ ہے جس میں اقوامِ متحدہ اور امریکی خلائی ادارے ناسا کے حوالے سے کچھ انکشافات کئے گئے ہیں، مزکورہ رپورٹ کو اس کینیڈین تھنک ٹینک کی ویب سائیٹ: http://educate-yourself.org پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، قارئین کی دلچسپی کے لئے اس رپورٹ کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے۔
*********
سرج موناسٹ (1945 تا 5 دسمبر 1996) کینیڈا کا ایک صحافی تھا جو پروجیکٹ بلیو بیم پر تحقیقات کر رہا تھا اس کی اور ایک دوسرے صحافی کی موت بظاہر حرکتِ قلب بند ہونے کے سبب ہوئی حالانکہ یہ دونوں صحافی چاق و چوبند تھے اور انہیں دل کی سرے سے کوئی تکلیف ہی نہیں تھی، دوسرے صحافی کا تعلقی بھی کینیڈا سے ہی تھا تاہم اس پر ہارٹ اٹیک اس وقت ہوا جب وہ دورے پر آئرلینڈ آیا ہوا تھا، کینیڈین حکومت نے سرجے موناسٹ کو پروجیکٹ بلیوبیم پر ریسرچ سے باز رکھنے کی غرض سے اس کی بیٹی کو اغوا کر لیا تھا، جو اپنی گمشدگی کے بعد کبھی لوٹ کر نہیں آئی، جعلی اور مصنوعی ہارٹ اٹیک مبینہ طور پر کسی کو فوری موت دینے کے بہت سے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے جو پروجیکٹ بلیو بیم نے اپنا ہے۔ یوں بظاہر سرجے موناسٹ اور کینیڈا کے دوسرے صحافی کی پروجیکٹ بلیوبیم کے حوالے سے ریسرچ گمنامی میں دفن ہو جاتی کہ اچانک 17 فروری 2009 کو ان دونوں صحافیوں کی ریسرچ کو کین ایڈچی نامی شخص نے تازہ ترین معلومات سے آراستہ کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیا۔
پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔