پختون کی بیٹی

آج کے زمانے میں ایسی قوم دنیا کی بھلائی اور انسانیت میں کیا حصہ لےگی
جو عورتوں کی عزت کو لوٹنے میں فخر محسوس کرتی ہو؟
جو ماں، بہن اور بیوی کو روٹی کمانے کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
یہ تو کوئ مردانگی نہیں۔
عورت بھی اللہ کی تخلیق ہے۔ وہ کوئ گاۓ یا زمین کا ٹکڑا نہیں ہے۔
جس نے تم کو جنا ہے اور تم اس کو بازارمیں نیلام کرتے ہو!
جس نےتم کو بھائ کہا تم سےلاڈ کیا،
اس بہن کو بیچ دیتے ہو!
تم اپنی ہی اولاد ، اپنی ہی بیٹی کو خان اور ملّک کے پاس چھوڑ آتے ہو
اور بیٹیوں سے باپ کہنے کا حق چھین لیتے ہو۔
…………………
 ۔ گُل
۝
میں نے کمپیوٹر آن کیا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اسائنمنٹ کی فائل کو کھولا۔
کلاس: فلسفہ۔ ایم چار سو دو۔ ارسطو
پروفیسر : سان کیلسی۔اسسِٹنٹ پروفیسرآف فلاسفی، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ایٹ لاس اینجلس۔
اسائنمینٹ: اَچھائ کا ورچو
ڈیؤ ڈیٹ: پانچ جولائ
کمپیوٹر کے اسکرین پر میسنجرکا ایک ’ پاپ اپ‘ نظر آیا۔
” سلام“۔
دماغ نے کہا نظر انداز کردو۔ میں نے’ مصروف ‘ہو نے کا بٹن کِلک کردیا اور اپنی توجہ اسائنمنٹ پر مرکوز کی۔
اچھائ۔ میں نے عنوان لکھا۔ اسکرین نے ایک بھبکالیا۔
” سلام“۔
میں نے ’ ناموجود ‘ ہو نے کا بَٹن کِلک کردیا۔ اور تَمہید لکھنی شروع کی۔ اچانک ذہن خالی ہو گیا۔
پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔