وہ جو دربدر خاک بسر ہوئے…انہیں پھر وہی حالات دو

وہ جو دربدر خاک بسر ہوئے
وہ جو لٹ گئے بے گھر ہوئے
وہ نہ مانگیں تم سے تمہارا گھر
نا تمہارا سکھ نا تمہارا در
وہ تو چاہتے ہیں گزر بسر
انہی وادیوں میں عمر بھر
یہ کڑا وقت یہ تلخیاں
یہ گردشیں یہ بجلیاں
ہے ہمارے رب کا یہ امتحاں
چلو قافلوں کو کرو رواں
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔