میری چڑیل سے ملاقات

اسلام علیکم
میرا چڑیل سے ملاقات کا سچا واقعہ
تقریباً 30 سال قبل میری عمر 12 ۔13 سال کی ہوگی۔ اس وقت کی بات ہے ۔ مگر رکیئے زرا اس وقت کے ماحول کو سمجھ لیں۔ ہم جس جگہ والد صاحب اور چچا جان کی تقسیم کاروبار و گھر کے بعد رہنے آئے تھے اس واقعہ سے 5 سال قبل، اس علاقہ میں زیادہ تر خالی پلاٹس اور پاورلوم کارخانے تھے جو شام ہوتے ہی بند ہونا شروع ہو جاتے۔( آج کل تو 24 گھنٹہ پاور ہونے کی صورت میں جاری بھی ہوتے ہیں اور تمام کھانے پینے چائے وغیرہ کی دوکانوں کے ہمہ وقت جاری ہونے سے دن و رات یکساں ہی ہیں۔) رہائشی مکانات چند ایک ہی تھے۔ جن میں کچھ میں بجلی بھی نہیں تھی اور جہاں تھی وہاں بھی ایک آدھ بلب زیرو واٹ کے رات میں جلتے تھے باقی بند کردیے جاتے تھے۔ پڑوس میں ایک لاولد بوڑھے میاں بیوی رہتے تھے۔ بوڑھی جسے ہم منّیا خالہ کہتے تھے با حکمت تخلیق خداوندی ایسی شکل صورت کی تھیں کہ بلاشبہ ان کو تصوراتی چڑیل کا رول کسی بھی فلم میں با آسانی بنا میک اپ کے دیا جا سکتا تھا۔ اور افواوں کے تحت ان کے بارے میں خاصی ڈراونی باتیں منسلک تھیں مگر پڑوسی ہونے اور کہانیاں سننے کی لالچ ہمیں وہاں اکثر جانے پر مجبور کرتیں وہاں وہ باوجود بجلی کا کنکشن ہونے کے ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ رکھ کر چرخا کاتا کرتیں اور ہم ان کی خراب دھاگوں والی نریوں کو صاف کرنے میں مدد کرتے اس کے عوض وہ ہم کو کام کرتے ہوئے ایکشن کے ساتھ انتہائی خوف ناک قسم کی چڑیلوں اور سر کٹے بھوت یا “سادھو” کے واقعات سناتیں اور ان سب ہستیوں کا تعلق ہمارے شہر اور محلّہ سے ہی ہوتا ۔ کبھی کہتیں تیرے گھر کے پیچھے جہاں سوت رنگنے کی بھٹّی ہے وہاں سات بچّوں کی لاش دفن ہے جو اماوس کو نکلتے تھے مگر فلاں بابا نے ان کو باندھ دیا۔ اپنی گلی میں جو خالی پلاٹ ہے۔لالے سیٹھ کا، اور وہاں جو شہتوت کا درخت ہے۔ وہاں لالے سیٹھ کی لڑکی چڑیل بن کر رہتی ہے۔رات جو ادھر سے گذرے اسکو پکڑتی ہے۔ اور لالے سیٹھ کا بھوت اسکول کے فلاں کمرے میں رہتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔