موم کے کاغذ از جاوید چوہدری

ہم سب لوگ مڈ ایج میں پہنچ کر دو چیزوں کا کثرت سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ ایک ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ وقت کی رفتار میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے، ہم صبح اٹھتے ہیں اور جمائی لینے سے پہلے ہی شام ہو جاتی ہے، ہمارے پاس وقت کی اس قدر کمی ہو جاتی ہے کہ ہمیں ٹائم مینجمنٹ کے لئے بھی وقت نہیں ملتا، دہائیاں سالوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں، سال مہینے کے برابر ہو جاتے ہیں اور مہینے دن بن جاتے ہیں اور دن چند گھنٹوں کا ہو جاتا ہے اور ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے وقت ریت بن گیا ہے اور یہ ریت ہماری مٹھی سے تیزی سے کھسک رہی ہے یہاں تک کہ ایک دن ہم شیشے میں اپنی شکل دیکھتے ہیں تو وہاں ہمیں ایک اجنبی شخص دکھائی دیتا ہے، ہماری شکل تبدیل ہو چکی ہوتی ہے، ہمارے بال سفید ہو چکے ہوتے ہیں، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ چکے ہوتے ہیں، اور نسیں رسیوں کی طرح تن کر ہماری گردن کے ساتھ لپٹی ہوتی ہیں اور ہم حیرت سے دائیں بائیں دیکھتے ہیں اور خود سے سوال کرتے ہیں ہماری نوجوانی اور ہمارا لڑکپن کہاں گیا، میں نے تو ابھی دنیا دیکھی ہی نہیں تھی، یہ بڑھاپا کہاں سے آگیا، میرا بیٹا اس مہینے سترہ سال کا ہو جائے گا۔
پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔