پولیتھن (افسانہ)

پولیتھن (افسانہ)

تحریر:‌وارث اقبال

صدیق نے چھ بچوں سے بھرے پُرے گھر میں آنکھ کھولی تو اپنے ارد گرد غربت و افلاس کے تناور درخت دیکھے اور ان درختوں سے لپٹی ہوئی ماں باپ کے درمیان لڑائی اور توُ تو میں میں کی خاردار بیلیں ۔ کچھ پتہ ہی نہ چلا کہ کب بچپن آیا اور کب جوانی۔ چھوٹے موٹے کام کرتے کرتے قسمت نے اس کے ہاتھوں میں رکشہ کا اسٹیرنگ تھما دیا۔
شہر کی سڑکوں کے راستوں سے واقفیت حاصل کی ہی تھی کہ ماں باپ نے پیروں میں گھر داری کی بیڑیاں بھی پہنا دیں۔ اس حوالے سے قسمت کی دیوی اُس پر مہربان تھی کہ گھر والی ایسی ملی جو ہر حال میں خوش رہتی ۔ اُس وقت بھی جب صدیق اُسے اپنے رکشے میں بٹھا کر شہر کی سیر کروانے نکلتا اور گھر واپسی کے وقت لکشمی سے گول کپے کھلاتا اور اُس وقت بھی خوش رہتی جب صدیق شام کو آ کر اُسے یہ وعید سناتاکہ آج رکشہ کا کام نکل آیا تھا اس لئیے پکانے کے لئے کچھ نہیں لا سکا ۔ سارے دن کی انتظار کی ماری وہ معصوم تین روٹیاں اور چائے پکاتی ۔ چارپائی پرصدیق کے ساتھ جُڑ کر بیٹھ جاتی ، خود بھی کھاتی اور اپنے مجازی خدا کو کھلا کر حقیقی خدا کا شکر ادا کرتی۔صدیق کے ساتھ جُڑ کر بیٹھنے میں ہی کائنات کے سارے سرور چھپے ہوئے تھے۔
شادی کے بعد صدیق کی ایک ہی خواہش تھی کہ اُسے اُس کی اپنی چھت مل جائے۔جب اُس کے ہاں تیسرا بیٹاپیدا ہوانے والا تھا تو مالک مکان نے کرایہ بڑھانے کا تقاضا کیا ۔ صدیق بیچارہ تو ایک روپیہ اضافی خرچ کرنے کے قابل نہ تھا کیا کرتا پہلے مکان سے بھی تنگ مکان کرایہ پر لے کر اُس میں اُٹھ آیا۔ وہ رات اُس کی بیوی نے شدید تکلیف میں کاٹی، صبح فجر کے وقت اُس کا تیسرا بیٹا پیدا ہوا۔ جونہی وہ نیک بخت ہوش میں آئی اُس نے صدیق کا ہاتھ پکڑ کر کہا ، ’’ صدیقے یہ گہنے کس کام کے ، جا بیچ دے سب کچھ ، وہ کولر بھی بیچ دے، ٹی وی بھی بیچ دے بس اپنا گھر بنا لے ۔ ‘‘ یوں صدیق نے قسطوں پر ڈھائی مرلے کا ایک پلاٹ لے کر ایک کمرے کا گھر بنا لیا ۔

گھر بنا کر تو اُسے جنت مل گئی تھی وہ سارا دن رکشہ چلاتا اور شام کو کوڑے سٹاپ پر اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر چائے کا ایک کپ پیتا، تمام دوست ایک دوسرے کا دکھ بانٹتے۔ وہیں رکشوں کے سودے بھی ہوتے ، ٹائر اور سیٹوں تک کا تبادلہ کیا جاتا ۔ ان دوستوں میں سلامت کے ساتھ اُس کا کچھ زیادہ ہی یارانہ تھا۔ اگر کسی دن وہ شام کو کوڑے سٹاپ پر نہ جاتا تو اُسے لگتا کہ آج کاکام ادھورا رہاہے۔
با رشیں ہمیشہ آتی ہیں لیکن اس سال کچھ زیادہ ہی لمبی جھڑیاں لگتی رہیں۔ ایک جھڑی تو ایسی لگی کہ دس دن تک مسلسل بارش ہوتی رہی۔ رکشہ کا پہیہ تو کم چلا ہی تھا، کمرے کی چھت نے بھی اس لمبی جھڑی کے سامنے ہتھیار پھنک دئیے تھے۔ ایک رات تو حد ہی ہو گئی، چھت ایسی ٹپکی کہ سارے کمرے میں پانی بھر گیا ۔ ساری رات صدیق اور اس کی بیوی اپنے بچوں کے ساتھ مل کر پانی نکالتے رہے۔ پانی نکالتے ہوئے صدیق ایک ہی بات سوچتا رہا کہ چھت کا ٹپکنا کیسے روکا جائے۔ دماغ کے کسی کونے سے ایک ہی جواب مل رہا تھا کہ چھت پر پولیتھین کی شیٹ بچھا کر مٹی ڈال دینی چاہئیے۔ یہی خیال اُسے زیادہ موزوں لگا۔
اگلے دن جونہی سورج نے شکل دکھائی صدیق رکشہ لے کر پولیتھین کی شیٹ لینے نکل کھڑا ہوا ۔ جاتے ہوئے وہ کبھی کبھی رکشے کے ایک دروازے سے گردن باہر نکال کر آسمان کے رنگوں کا بھی اندازہ کر لیتا۔ پھر اس کا سادہ سا دماغ بجٹ بنانا شروع کر دیتا۔ تین سو میں سے دو سوکی تو شیٹ آ جائے گی سو روپے کی مٹی مل جائے گی۔ کسی مزدور کی تو ضرورت نہیں ہم خود ہی مٹی ڈال لیں گے۔ وہ اسی طرح کی باتیں سوچتا ہوا جارہا تھا کہ اچانک ایک رکشہ تیزی سے اسکے قریب سےگذرا اور اس کے سامنے جا کر رک گیا ۔ یہ سلامت کا رکشہ تھا۔ صدیق نے بھی رکشہ روکا اور اتر کر سلامت کے پاس پہنچا، ’’ خیر تو ہے سلامے کیا بچوں والی حرکتیں کر رہے ہو۔ ‘‘ سلامت کا ہاتھ پکڑا تو ہاتھ میں وہ گرم جو شی نہیں تھی، ’’ او خیر تو ہے سلامے کیا بات ہے۔‘‘ سلامت نے اُس کے کندھے پر سر رکھا اور بچوں کی طرح روتے ہوئے بولا، ’’ او یار تیری بھابھی کی طبیعت بہت خراب ہے ساری رات اُلٹیا ں کرتے ہوئے آدھی رہ گئی ۔‘‘
صدیق نے اُسے کندھے سے ہٹایا اور اُس کا چہرا اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں پکڑ اکر کہا، ’’ کسی ڈاکٹر کو دکھایا؟‘‘
’’ او یار ان جھڑیوں نے تو مت ہی مار دی ہے۔ ایک پیسہ نہیں ہے جو اتنے دنوں میں بچا ہو جو رکشہ چلتا ہے لگ جاتا ہے۔ اوپر سے کنجر کی پُتر یہ حکومت سی این جی کھولنے کا نام ہی نہیں لیتی۔‘‘سلامت نے آنسو پونچتے ہوئے جواب دیا۔ صدیق نے اپنی ایک مونچھ کو اپنے لبوں میں دبایا،وہ اکثر سوچتے ہوئے یہی حرکت کرتا۔ سلامت کی طرف غور سے دیکھا۔ اُسے اُس کے چہرے کے آئینے میں اپنی جیب دکھائی دے رہی تھی۔ دماغ نے کچھ دیر کیلکو لیٹر کی طرح کام کیا اورپھر وہ بولا، ’’ چل بھابی کے پاس ‘‘ ۔
شام تک سلامت کی بیوی ٹھیک ہونا شروع ہو گئی۔ کل دو سو روپے خرچ آئے اور صدیق اپنے بجٹ کے آدھےحصہ پر عمل کرتے ہوئے مٹی کی ایک ریڑھی لے کر گھر پہنچا۔ مٹی کو گھر کے ایک کونے میں رکھا اوراُس کے اوپر چادریں ڈال کر ڈھک دیا ۔ کہتے ہیں مٹی کسان کا سونا ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت یہ مٹی صدیق کے لئے کل حیات تھی۔
اگلے دن صدیق نے سا را دن رکشہ چلایا ۔ شکر ہے بارش نہیں ہوئی ۔آج ایک عرصے بعد اُس نے رکشے کے سارے کچے نکال کر پانچ سو روپیہ بچایا تھا۔ پولیتھین کا خیال دماغ کے کسی جھروکے سے جیسے نکلا تھاویسے ہی واپس چلاگیا۔ گھر میں تو ہر شے ختم ہو چکی تھی لگتا تھا جیسے بارشیں مرچ نمک بھی بہا کر لے گئی ہوں ۔ اس لئیے آج جو کمایا سودا سُلف خریدنے پر لگا دیا۔ شکر ہے آسمان کو رحم آگیا تھاآج کی رات نہیں برسا۔ آدھی رات کو آسمان پر تارے دیکھ کر صدیق نے شکر اداد کیا، ’’ لیکن پولیتھین تو بہت ضروری ہے۔ اگر بارش آگئی چھت تو ٹپکے گی ہی لیکن یہ مٹی بھی بہہ جائے گی۔ ‘‘
اگلے دن رات ایک بجےتک رکشہ چلتا رہا ۔ خرچے نکال کر صدیق نے دو سو روپیہ اپنی قمیض کی جیب سے نکال کر شلوار کی جیب میں ڈال لیا۔ شام کو اُس نے سلامت کو کہہ دیا تھا ،’’ کل دوپہر تک میں نے پولتھین ڈال دینی ہے۔ ‘‘ اور سلامت نے بھی آنے کا وعدہ کر لیا تھا۔
اگلے دن جب رکشہ نکالنے لگا تو دیکھا کہ سب سے چھوٹا بیٹا عمر ابھی تک سویا ہوا تھا۔ صدیق نے اپنی بیوی سے پوچھا
’’ خیر تو ہے یہ سویا ہوا ہے ، اسکول نہیں جانا اس نے۔ ‘‘ ’’ اسکول کیا جا ئے ایک جوتا تو ایسا ٹوٹا ہے کہ پورا پیر زمین چاٹتا ہے۔ دو دن سے روز جوتوں کی ضد کرتا ہے، رات میں نے کہہ دیا تھا جب تک چھت نہیں ڈلتی اسکول نہ جاؤ۔‘‘ بیوی کی بات سنی تو صدیق کی دائیں مونچھ خود بخود اُس کے منہ میں چلی گئی ، کچھ دیر بعد وہ بولا، ’’ اونہہ، ٹھیک ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے باقی دو بچوں کو رکشے پر بٹھایا اور اسکول کی طرف چل دیا۔
صدیق نے خود تو اسکول کا منہ تک نہ دیکھا تھا لیکن اپنے بچوں کو نہ پڑھانے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ’’ علی تو ڈاکٹر بنے گا، طلحہ بہت بولتا ہے یہ تو ہے ہی پیدائشی وکیل،اور چھوٹا عمر یہ کرکٹر بنے گا بہت پیسہ کمائے گا۔ ‘‘ وہ اپنے اس عزم کااظہار کئی دفعہ اپنی بیوی سے کر چکا تھا۔
دوپہر کو بچوں کو اسکول سے واپس لایاتو کھاناکھانے کے بعد عمر سے کہا ، ’’ عمر چل بھئی تمہارے بوٹ لے آئیں۔ ‘‘
رضیہ نے بیویوں کے عین نقش نقدم پر چلتے ہوئے کہا، ’’ پر صدیقے وہ لاسٹک کی شیٹ کا کیا بنے گا۔‘‘ جب سے پولیتھین کا ذکر شروع ہوا تھا صدیق کی کئی مرتبہ اصلاح کے باوجود وہ پولیتھین کو لاسٹک کی شیٹ ہی کہتی تھی۔صدیق نے اس کی بات تقریباً نظر انداز کرتے ہوئے جواب دیا۔ ’’ آ جائے گی ۔‘‘
اگلا دن بڑا اچھا لگا نہ بارش ہوئی نہ رکشہ کا کوئی خاص کام نکلا ۔رات گیارہ بجے تک رکشہ چلا اور پورے تین سو روپے بھی بچ گئے۔ آج رات وہ بہت سکون سے سویا۔ ’’ صبح پولیتھین شیٹ آجائے گی ۔‘‘
رکشہ کاپہیہ اگلے دن پھر حرکت میں آیا اور دوپہر کو پولیتھن کی دکان پر جا رکا۔ صدیق بڑے فاتحانہ انداز میں دکان میں داخل ہوا ۔ یوں جیسے کائنات خریدنے آیا ہو۔ ’’ یارا کوئی اعلیٰ قسم کی پولیتھین دکھاؤ۔ چھت پر ڈالنی ہے۔ پانی کا ایک قطرہ اندر نہ جائے۔‘‘ دکاندار نے کوئی چار قسموں کی پولیتھین سامنے رکھ دیں۔ ’’ ان میں سب سے اچھی کون سی ہے۔‘‘ صدیق نے کچھ پریشانی میں پوچھا۔ ’’ اگر آپ نے چھت پر ڈالنی ہے تو اس سے بہتر کوئی نہیں، ہے ذرا مہنگی۔‘‘ دکاندار نے ایک قسم کی شیٹ دکھاتے ہوئے کہا۔ ’’ بس ٹھیک ہے یہ چودہ بائی بارہ کے حساب سے دے دو۔‘‘ صدیق نے شیٹ کا ایک رول ایک طرف کرتے ہوئے کہا۔ دکاندار نے کیلکولیٹر پکڑا اور حساب کر کے بتایا۔ ’’ یہ بنے گی جی سولہ سو تراسی روپے کی لیکن آپ پندرہ سو روپے دے دیں۔ ‘‘ دکاندار کی بات سن کر تو صدیق کو لگا کہ اُس کے سامنے کوئی انسان نہیں جن کھڑا ہے جو کچھ لمحے میں اسے نگل لے گا۔ اُس کے سر میں درد کی ایک شدید لہر اٹھی جیسے کوئی پھوڑا ہو جو پھٹ گیا ہو۔ دکاندار کو صورتِ حال کی شدت کا اندازہ ہوگیا۔ اُس نے فوراً باقی سب رول ایک طرف کرتے ہوئے ایک رول صدیق کے سامنے رکھ دیا ، ’’ بھائی جان آپ یہ لے لیں ، یہ بھی کافی مضبوط ہے آپ کےکام آجائے گی ، ابھی کچھ دن پہلے میں نے بھی اپنے کمرے کی چھت پر یہی ڈالی ہے۔ یہ زیادہ مہنگی بھی نہیں بس آپ کے لئے تقریباً ایک ہزار کی بن جائے گی۔‘‘ لیکن صدیق کی جیب میں کل جمع پونجی تین سو روپے اُسے چٹکیاں کاٹ رہی تھی۔ وہ دکاندار سے کچھ کہے بغیر دکان سے باہر نکلا اور رکشہ سٹارٹ کر دیا ۔ اُس کی دائیں مونچھ مسلسل اس کے منہ میں تھی جسے وہ شدت سے چبا رہا تھا۔ وہ کسی سٹاپ پر نہ رکا بس چلتا جارہا تھا۔ اُسے یوں لگ رہا تھا جیسے کوٹھے کی چھت زمین بوس ہو گئی ہے اور اُس کے اندر وہ اور اُس کے گھر والے دب گئے ہیں۔
رنگ برنگ خیالات تھے جو اُسے دلدل کی طرح کھینچتے جارہے تھے۔ ہر نئے خیال کے ساتھ اُس کے رکشہ کی رفتار تیز ہو جاتی ۔
صدیق کا رکشہ بھاگتا جارہا تھا ۔ آج اُس میں کوئی سواری نہیں تھی۔ صدیق تھایا اُسے کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کے محل کا ملبہ۔ پھر اُس نے رکشہ اُس سڑک پر ڈال دیا جو کوڑے سٹاپ کی طرف جا رہی تھی۔ رکشے کی رفتار بھی تیز تھی اور سڑک کا فاصلہ بھی کچھ زیادہ۔ پھر اُسے کچھ خیال آیا اُس نے رکشہ روکا،جیب میں ہاتھ ڈالا اور پیسے نکال کر گنے، قمیض کی جیب دیکھی، شلوار کی جیب کو اُلٹا کر کے دیکھا۔ سکے شکےملا کر کُل چارسوو دس روپے ہوئے۔ وہ رکشہ روکے ،بیٹھے سوچتا رہا ۔ سوچیں تھیں کہ کہیں کے کہیں جارہی تھیں ، تصویریں تھیں کہ الجھتی ہی جارہی تھیں ، ہر رنگ دوسرے میں ملتا جا رہا تھا، دھندلی ، کالی تصویریں ۔ انہی میں کبھی کبھی کوئی تصویر واضح ہو جاتی ۔کبھی سلامت کے گھر کبھی ، ثاقب کے ہاں ، کبھی خورشید کے دروازے پرلیکن ہر دروازے پر مکینوں کی مجبوریاں چڑیلوں کی طرح سامنے آ جاتیں۔
وہ ایک ہاتھ رکشہ پر رکھے ٹریفک پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔ اُس کا جی چاہتا تھا کہ ساری گاڑیاں توڑ دے اور اُن کی چھتیں اُتار کر گھر لے جائے۔ وہ رکشے کے اندر جھانکنے لگا اور ایک پلگ پانا اُس کے ہاتھ میں آگیا۔ پولیتھین کی نرم و نازک شیٹ کے ایک ٹکڑے نے صدیق کے اندر سے ساری نرمی نکال کر باہر پھینک دی تھی۔ وہ رکشے کے اندر کچھ تلاش کر رہا تھا کہ اچانک اُس کی نظر رکشہ کی چھت میں پھنسی ہوئی ایک تصویر پر پڑی ، عمر کی تصویر ۔ اُس نے تصویر با ہر نکالی اور دائیں ہاتھ میں تھام لی ۔ عمر کا مسکراتہ چہرہ اُسے کہہ رہا ، ’’ نہ بابا نہ ایسا نہیں کرنا جب میں بڑا ہو جاؤں گا تو پولیتھین ڈلوا دوں گا ، مہنگی والی پولیتھین۔ ‘‘ صدیق رکشہ میں بیٹھا ، اُس کی آنکھوں سے اندر کی بارش کے چند قطرے گرے اور پھر جھڑی لگ گئی اور اُس جھڑی نے اُسے اس طرح نکھار دیا جیسے گرد سے اٹے درخت بارش میں دُھل کر نکھر جاتے ہیں۔
اُس کی مونچھ دانتوں تلے گئی ، کچھ سوجھاتو اُس نے رکشہ سٹارٹ کیا اور جا کر ایک دکان پر روکا۔ یہ شاپنگ بیگز کی دکان تھی۔ یہاں سے اُس نے پانچ کلو شاپنگ بیگز لئیے اور ایک سکھ کی سانس بھر کر گھر کی طرف چل دیا۔
گھر کی گلی میں داخل ہوا تھا تو ایک رکشہ کو کھڑے پایا یہ سلامت کا رکشہ تھا، اندر سلامت بیٹھا تھا۔ ’’ ارے تو کہاں ۔ خیر تو ہے، بھابھی تو ٹھیک ہیں۔ صدیق نے سلامت کو ملتے ہوئے سب سوال کر ڈالے ۔
’’ ارے سب ٹھیک ہے، پچھلے سال چاچے رفیق نے گھر بنایاتھا تو کچھ پولیتھین بچی پڑی تھی تو نے اُس دن ذکر کیا تو مجھے شک ہوا کہ چاچے کے ہاں سے مل جائےگی۔‘‘ رکشے میں رکھی پو لیتھین دیکھ کرصدیق کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ ’’ اوے سلامے یہ میرے لئے لائے ہو یا محلے کے لئے۔
چل جلدی اندر رکھ پھر کوڑے اسٹاپ پر بھی جانا ہے کتنے دن ہو گئے ہیں منشی چاچے کی دودھ پتی نہیں چکھی۔ سلامت نے پولیتھین نکالتے ہوئے کہا۔ صدیق اپنے گھر کے اُس کمرے کو دیکھ رہا تھا جسے نئی زندگی ملے گی۔ اُس کی کل کائنات وہ کمرہ اُس کا اپنا گھر۔

اردونامہ لنک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*