Digital to Biological Converter Machine

مصنوعی زندگی ’’چھاپنے‘‘ والی مشین ایجاد کرلی گئی

Digital to Biological Converter Machineمیری لینڈ: امریکی ماہرین کی ایک ٹیم نے برسوں کی محنت کے بعد ایسی پروٹوٹائپ مشین تیار کرلی ہے جو ڈی این اے اور آر این اے کے علاوہ پروٹین اور وائرس تک تیار کرسکتی ہے اور اس مقصد کےلیے اسے کسی انسانی مداخلت کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ یہ کارنامہ ڈاکٹر کریگ وینٹر کی سربراہی میں انجام پایا ہے جو نجی شعبے میں ہیومن جینوم پروجیکٹ کا مدمقابل منصوبہ مکمل کرنے اور انسانی جینوم کی نقشہ کشی انتہائی تیز رفتار بنانے کے حوالے سے خصوصی عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ یہ مشین جسے انہوں نے ’’ڈیجیٹل ٹو بایولاجیکل کنورٹر‘‘ (ڈی بی سی) کا نام دیا ہے، انٹرنیٹ یا ریڈیو سگنل کے ذریعے کوئی مخصوص پروٹین وغیرہ تیار کرنے کے تفصیلی احکامات وصول کرتی ہے اور ان پر عمل کرتے ہوئے متعلقہ چیز تیار کردیتی ہے۔
انک جیٹ پرنٹر کی طرح اس میں بھی مختلف کارٹریجز لگی ہوتی ہیں لیکن ایسی ہر کارٹریج میں کوئی رنگ نہیں ہوتا بلکہ وہ بنیادی مرکبات ہوتے ہیں جن کے ذریعے ڈی این اے، آر این اے، پروٹین اور خامرے وغیرہ تشکیل پاتے ہیں۔موصول شدہ احکامات پر عمل کرتے ہوئے یہ ’ڈی بی سی پروٹوٹائپ‘ مشین اپنی کارٹریجز سے مختلف مرکبات ایک خاص مقام پر ترتیب وار یکجا کرتی ہے اور انہیں آپس میں ملاکر مطلوبہ مصنوعی حیاتیاتی مواد تیار کرلیتی ہے۔اب تک اس کی مدد سے درجنوں پروٹین کے علاوہ مکمل برڈ فلو وائرس (H1N1) مصنوعی طور پر تیار کیا جاچکا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مزید بہتر ہونے کے بعد یہ ایک خلیے والے جاندار بھی ’’چھاپنے‘‘ کے قابل ہوجائے گی جبکہ کچھ اور ترامیم و اضافہ جات کے بعد اس سے زندگی کی اور زیادہ پیچیدہ صورتیں بھی تیار کی جاسکیں گی۔

پڑھناجاری رکھئے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

6 − two =