طیبہ میں دعوت…انداز بیاں …سردار احمد قادری

روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمبوڑھے حبشی کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی۔ اس کے چہرے کی کالی رنگت غلاف کعبہ کی طرح اُجلی اور روشن تھی۔ اس کے قریب سے ایک عجیب طرح کی فرحت انگیز خوشبو آرہی تھی۔ اس کے ساتھ بیٹھا ہوا دوسرا حبشی خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ یہ دونوں حبشی ہمارے سامنے کھانے کی میز پر بیٹھے تھے یہ ایک سہانی اور خوشبووٴں سے لبریز شام تھی۔ ان کا خاندان صدیوں سے حرم نبوی میں مزار مقدس کے احاطے میں خدمت میں مامور ہے۔ یہ حبشی نسل کے لوگ ہیں اور ان کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنی نسل آگے نہیں بڑھا سکتے۔ ان کے اندر قدرتی طور پر نسل کشی یعنی نسل پیدا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی، لیکن یہ ایک مخصوص خاندان میں ہر زمانے میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ یہ حبشی غلام وہاں جاتے ہیں جہاں دنیا کا کوئی بادشاہ ،کوئی حکمران نہیں جا سکتا کسی تاجدار کو تاجدارِ مدینہ کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت نہیں ہے جو بھی جاتے ہیں اوپر والی سطح سے جالیوں کے اندر جاکر دیوار کے قریب کھڑے ہو کر سلام عرض کرکے واپس آجاتے ہیں۔ میں نے بوڑھے حبشی سے پوچھا کہ آپ کب سے مزار شریف کے احاطے میں جارہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ میں اس نوجوان کی عمر میں تھا جب وہاں جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔

پڑھناجاری رکھئے۔۔۔