سیلاب کسی کے لئے رحمت بھی ہے…..سب جھوٹ…امر جلیل

آج سب سے پہلے میں آپ کو میاں بیوی کے درمیان گفتگو کا چھوٹا سا ٹریلر سناتا ہوں۔ سوچ رہا ہوں گفتگو کا ٹریلر آپ کو چلتے چلتے سنا دوں یا بیٹھے بیٹھے سنا دوں۔ چلیئے یہ گفتگو میں آپ کو بیٹھے بیٹھے سناتا ہوں۔ یہ گفتگو میرے دوست ڈھول کے پول نے مجھے سنائی تھی۔ وہ ٹیلیفون ڈپارٹمنٹ میں لائن مین ہے۔ اس نے یہ گفتگو پوری کی پوری ریکارڈ کر لی تھی۔ ڈھول کا پول ہے تو ٹیلیفون محکمے کا ملازم مگر وہ سی آئی ڈی اور اس طرح کے وحشت ناک اداروں کے لئے مخبری کا کام بھی کرتا ہے۔ لوگوں کی گفتگو ٹیپ کر کے ان اداروں کے حوالے کرتا ہے۔ آپ میاں بیوی کے درمیان گفتگو کا ٹریلر سنئے۔
”جانو کام بنا؟“
”منسٹر کا ایجنٹ اس پوسٹنگ کے لئے بیس کروڑ مانگ رہا ہے“۔
”تو پھر سوچتے کیا ہو؟ سوئس یا فرینچ بینک سے بیس کروڑ آج کے آج ٹرانسفرکرا کے دیدو“۔
”مجھے ذرہ سوچنے دو“۔
”یاد ہے، بالاکوٹ والے زلزلے کے بعد تم نے اسی طرح سوچنے کی غلطی کی تھی اور دس کروڑ کے بجائے تمہیں پندرہ کروڑ دے کر آبادکاری افسر کی پوسٹنگ ملی تھی! زلزلے اور سیلاب بار بار نہیں آتے۔ اس مرتبہ عالمی امداد میں کھربوں ڈالر آ رہے ہیں۔ جانو تم آج کے آج منسٹر کے منہ پر بیس کروڑ مارو اور پوسٹنگ لے لو، یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے، اربوں کماؤ گے“۔
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔