سقوط ڈھاکہ کا سبق اور دفاع وطن کیلئے ہماری سیاسی‘ عسکری قیادت

سقوط ڈھاکہ کا سبق اور دفاع وطن کیلئے ہماری سیاسی‘ عسکری قیادت

 

16 December Pakistan & Bangladesh

قوم آج 16؍ دسمبر کو وطن ِعزیز کے دولخت ہونے کا سوگ متحدہ پاکستان سے وابستہ یادوں کو تازہ کرتے اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر منتج ہونیوالی سنگین غلطیوں کا اعادہ نہ ہونے دینے کا عہد کرتے ہوئے 39ویں یومِ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں منا رہی ہے۔ بلاشبہ آج کے دن کا سورج ہمیں شرمندگی اور پچھتاوے کا احساس دلاتے ہوئے نمودار ہوتا ہے اور ہمیں آئندہ کیلئے بھی اپنے مکار اور شاطر دشمن بھارت کی ایسی سازشوں سے ہوشیار رہنے اور ان سازشوں کا بروقت توڑ کرتے رہنے کی تلقین کرتا بھی نظر آتا ہے جو 16؍ دسمبر 1971ء کو پاکستان کے ایک بڑے حصے کو ہم سے جدا کرنے کا باعث بنی تھیں اور اس وقت کی بھارتی زنانی وزیراعظم اندرا گاندھی کو یہ بڑ مارنے کا موقع ملا تھا کہ آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے۔
بزدل اور شاطر ہندو بنیاء قیادت نے تو قیام پاکستان کے وقت ہی اسے ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا تھا اور نہرو نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے گا اور اگلے چند سالوں میں ہی دوبارہ بھارت کے ساتھ شامل ہونے پر مجبور ہو جائیگا۔

پڑھناجاری رکھئے۔۔۔