سعودی عرب میں جیزان، فیفا اور ابہا کا سفر (سفرنامہ)

اگست میں جدہ میں شدید گرمی پڑ رہی تھی۔ میں ان دنوں دفتر سے چھٹیاں لے کر سعودی عرب میں سیٹل ہونے کی تھکن اتار رہا تھا۔ پاکستان میں عموماً ہر سال گرمی کے موسم میں ہم شمالی علاقہ جات کی طرف جایا کرتے تھے۔ اب یہاں شمالی علاقہ جات کہاں سے لے کر آتے چنانچہ ہم نے جنوبی علاقہ جات کے سفر کا ارادہ کیا۔ جزیرہ نمائے عرب کا جنوب مغربی حصہ ، عرب کے شمالی علاقے کی نسبت کافی سر سبز ہے۔ زمانہ قدیم میں یمن، عرب کے سب سے زرخیز اور امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا تھا۔ قدیم یمن کا کافی بڑا حصہ اب سعودی عرب میں شامل ہے۔ یہ علاقہ خاصا سر سبز و شاداب ہے۔ اگرچہ سبزہ ہمارے شمالی علاقہ جات جتنا تو نہیں لیکن باقی عرب کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔

ہم لوگ علی الصبح فجر کی نماز کے فوراً بعد روانہ ہوئے۔ بچوں کو اس بات کا بہت شوق تھا کہ وہ صحرا میں طلوع آفتاب کا منظر دیکھ سکیں۔ ہم لوگوں نے اکثر ساحل پر غروب آفتاب کا منظر تو دیکھا ہی تھا لیکن موجودہ شہری زندگی میں طلوع آفتاب کا منظر ایک خواب سا بن گیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جدید شہری سہولیات نے ہمیں فطرت سے دور کر دیا ہے۔ جدہ رنگ روڈ سے ہم ہراج جانے والی سڑک پر مڑے۔ یہ پرانی گاڑیوں کا مرکز ہے اور یہاں بہت سے شوروم واقع ہیں۔ ہراج سے ایک سڑک سیدھی جیزان کی طرف نکلتی ہے۔ ہم اسی پر ہولئے۔

پڑھناجاری رکھئے۔۔۔