سست عورت :: بشکریہ ام طلحہ پاک نیٹ فورم

 صبح کی اذان گونجی تو وہ مشین کی طرح اٹھ بیٹھی۔ جلدی سے لکڑیاں رکھیں اور پھونکنی سے چولھا جلانے لگی۔ آنکھوں سے بہتے پانی کو نظر انداز کرتے ہوئے،پانی لینے دوڑی اور وضو کیلئے پانی رکھا۔پانی رکھتے رکھتے شوہر کی غصیلی آواز نے اسے چونکا دیا۔
آگ بھی جلانی نہیں آتی کیا؟ سارا گھر دھوئیں سے بھر دیا۔
ڈرتے ڈرتے کچھ دیر بعد شوہر کو اٹھایا، اتھیں جی پانی گرم ہو گیا وضو کر لیں، شوہر نے وضو کیا پھر اسنے بھی وضو کرکے نماز پڑھی اور جلدی جلدی ناشتہ بنانے لگی، کام کرتے کرتے دھواں انکھوں میں لگا اور آنکھیں پھر بہہ نکلیں۔ روٹی پکڑاتے ہوئے شوہر کی نظر پڑی تو بھڑک اٹھا۔
کون مر گیا جو آنسو بہا رہی ہے؟
وہ گھبرا کر بولی نہیں دھواں لگ گیا تھا اسلئے پانی آگیا۔
تو کیا تیری ماں نے چولہا جلانا بھی نہیں سکھایا تھا کیا جو اب تک آنسو بہاتی ہے۔
ماں کا نام سن کر تڑپ اٹھی لیکن ہونٹ سی لئے، یہ سوچ کر کہ اگر ایک لفظ بھی کہا تو ماں کے نام اور معلوم نہیں کیا کیا سننا پڑے گا،
شوہر نے ناشتہ کیا اور کھیتوں کی طرف نکل گیا، جاتے جاتے آواز لگائی، کھانا وقت پر لے آناسست عورت!! سارا دن محنت کر کے بھوکا بیٹھا رہتا ہوں۔
شوہر کے جاتے ہی بچوں کو اٹھایا۔ منہ ہاتھ دھلایا اور ناشتہ کرایا اور سکول کی تیاری کی۔
بڑی بیٹی بولی اماں میں نے سکول نہیں جانا،
کیوں بیٹا! سکول کیوں نہیں جانا؟
اماں استانی ڈنڈے سے مارتی ہے، جھاڑو بھی لگواتی ہے اور اپنے گھر کا کام بھی کرواتی ہے۔
کوئی بات نہیں بیٹا! استاد کی خدمت سے تو پھل ملتا ہے۔
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔