ریکوڈیک میں سونے کے ذخائر یہودی کمپنی کو فروخت کرنے کی کوشش

Gold Mine

امریکی حکومت کے حکم اور ذاتی مفادات کے پیشِ نظر ریکوڈیک کے سونے کے ذخائر یہودی کمپنی کو فروخت کرنے کی منصوبہ بندی پر وفاق اور بلوچستان میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔ وزیراعلٰی بلوچستان صوبے کے حق کے لئے ڈٹ گئے۔ ہر فورم پر اپنا حق حاصل کرنے کی تیاری شروع کر دی۔ اسلام آباد میں مختلف ذرائع سے دستیاب اطلاعات کے مطابق ضلع چاغی کے علاقے ریکوڈیک میں واقعی سونے اور تانبے کے ذخائر کو استعمال میں لانے سے متعلق فیصلہ گزشتہ برس دسمبر میں ہی ہو چکا ہے۔ وفاقی حکومت امریکی حکم پر معاملے کو دوبارہ سے متنازع بنا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہرین کی طرف سے حکومت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ Tethyan کمپنی سے حکومت کا معاہدہ عملی وجود ہی نہیں رکھتا۔ کیونکہ کمپنی نے معاہدے کی بنیادی شقوں کی مخالفت کی جن میں ملکیت کی تبدیلی بھی شامل ہے۔ لہذا حکومت کوئی بھی حکمتِ عملی اختیار کر سکتی ہے، بلوچستان حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے سروے اور اس کی حیثیت کے تعین کی خاطر 1993 میں B.H.Pسے معاہدہ کیا گیا تھا جس کی 2000 میں TCC نامی ایک جوائنٹ وینچر کمپنی کے نام سے تجدید کی گئی۔ مگر 2006 میں TCC نے اپنی ملکیت میں تبدیلی کی اور آسٹریلیا کی کمپنی ANTOFOGASTA کے ساتھ جوائنٹ وینچر کر لیا۔ جس پر اس وقت کی صوبائی حکومت جو 25 فیصد کی ملکیت رکھتی تھی خاموش رہی، یہ معاہدی کی بنیادی سق کی خلاف ورزی تھی، جس سے معاہدہ ختم ہو گیا۔ مگر حکومت کی خاموشی کے سبب معاملہ چلتا رہا۔ کمپنی نے دوسری خلاف ورزی یہ کی کہ معاہدے کے مطابق سٹاف میں 95 فیصد مقامی آبادی کو لینے سے انکار کر دیا۔ جس سے مقامی سطح پر نفرت پیدا ہو گئی۔ تیسرے یہ کہ کمپنی نے کان کنی کا لائسنس حاصل کئے بغیر ہی کان کنی کے لئے تین سو ارب امریکی ڈالر کی سرمایا کاری کا اعلان کر ڈالا، چوتھے یہ کہ کمپنی نے معاہدے کے مطابق کام ختم نہیں کیا۔
پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔