ریمنڈ ڈیوس کو مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے

ریمنڈ ڈیوس کو مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے

Shah Mehmood Quraishi, Remynd Davis

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دو پاکستانی شہریوں کے قتل میں گرفتار امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کو ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت مکمل استثنی حاصل نہیں ہے اور انہوں نے یہ رائے وزارت خارجہ کی مشاورت اور حقائق کا جائزہ لینے کے بعد قائم کی ہے۔
وفاقی کابینہ کی تحلیل اور وزیر خارجہ کے منصب سے ہٹائے جانے کے بعد پہلی بار اسلام آباد میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر پہلے اس لیے نہیں کھل کر نہیں بولے تھے کیونکہ انہیں اس پر خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کے متعلق یہ موقف اختیار کرنے کے لیے ان پر پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا کوئی دباؤ نہیں ہے بلکہ ان کے بقول ان پر ان کے ضمیر کے دباؤ ہے۔شاہ محمود قریشی کے بقول انہوں نے ایسا کر کے اصل میں وزارت خارجہ کی ترجمانی کی اور اس معاملے پر اب بھی وزارت خارجہ کا ہر افسر ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
’وزارت خارجہ میں مجھے اکتیس جنوی کو جو بریفنگ دی گئی اس میں مجھے بتایا گیا کہ ہماری ماہرانہ رائے یہ کہتی ہے کہ جو امریکہ کا سفارتخانہ مکمل استثنیٰ کا مطالبہ کر رہا ہے ہماری رائے میں (ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں) وہ مکمل استثنی نہیں بنتا۔‘انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ نے ان کے سامنے ریمنڈ ڈیوس کے متعلق جو دستاویزات رکھیں ان کے گہرے مطالعے اور غور وخوض کے بعد وہ بھی اسی نتیجے پر پہنچے کہ ڈیوس کو مکمل استثنی حاصل نہیں۔
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔