داستان خواجہ بخارا کی

داستان خواجہ بخارا کی

مترجم: ممتاز مفتی

ہمیں یہ کہانی ابو عمر احمد ابن محمد سے ملی جس کو اس نے محمد ابن علی ابن رفع سے سنا تھا جو علی ابن عبدالعزیز کا حوالہ دیتا ہے جو ابوعبید القاسم ابن سلام کا حوالہ دیتا ہے جس نے اس کو اپنے استادوں کی زبانی سن کر بیان کیا تھا جن میں سے آخری استاد عمر ابن الخطاب اور ان کے بیٹے عبداللہ رحمۃ اللہ علیھ کو سند کے طور پر پیش کرتا ہے

ابن حزم “قمری ہار”

میں اس کتاب کو اپنے دوست مومن عادلوف کی پاکیزہ اور لافانی یاد سے موسوم کرتا ہوں جو ۱۹۳۰  کو ایک دشمن کی مہلک گولی کا شکار ہوئے۔

ان میں خواجہ نصر الدین کی بہت سی خصوصیات تھیں۔ عوام کے لئے بےلوث ایثار، ہمت، شریفانہ فراست اور ایماندارانہ زکاوت۔ میں نے یہ کتب لکھتے وقت رات کے سناٹے میں کئی بار ایسا محسوس کیا کہ جیسے عادلوف کا سایہ میرے پاس کھڑا ہے اور میرے قلم کی رہنمائی کر رہا ہے۔ پہاڑی قشلاق (گاؤں) نانائی میں ان کا انتقال ہوا اور کانی بادم میں وہ آرام کر رہے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔۔