جنرل شاہد عزیز کا ضمیر بہت دیر سے جاگا

جنرل شاہد عزیز کا ضمیر بہت دیر سے جاگا

Kargil War Heros of Pakistanجب کارگل کا واقعہ ہوا تو لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز اپنے ضمیر کوتھپک تھپک کر سلارہے تھے کیونکہ ابھی بہت کچھ حاصل کرنا تھا، مثلا ترقی پاکر لیفٹیننٹ جنرل بناد تھا، پھر کور کمانڈر اور پھر سارئے فائدے اٹھانے تھے ، مشرف کے رشتہ دار تھے وہ علیدہ ایک بونس پوائنٹ تھا۔ پاک فوج نے بھی اُن کا حق نہیں مارا اور انہیں اعلیٰ عہدے تک ترقی دی۔ لیفٹیننٹ جنرل بنے، کور کمانڈر رہے لیکن کیا مجال جو ضمیرکو جاگنے دیا ہو۔ حتیٰ کہ وہ ریٹائر ہوگئے وہ بھی مکمل مراعات کے ساتھ۔ سرکاری گھر، پلاٹ، پینشن اور سینئر افسران کو دی جانے والی تمام سہولیات وصول کیں۔ بونس میں چیئرمین نیب رہے مگر ضمیر سویا ہوا تھا۔ نوسال پہلےحج بھی کیااور باشرع مسلمان بنکر زندگی گزارنی شروع کر دی لیکن ان کا ضمیرسوتا رہا۔شاید اس ملک میں جمہوریت کو رواں دواں دیکھ کر چودہ سال بعد مری کے قریب فوجی کمائی سے بنائے گئے پر تعیش فارم ہاؤس میں بیٹھ کر اچانک انکا ضمیر جاگ اٹھا ۔ وہ مشرف کو اور کارگل کو رونے بیٹھ گے۔ اب اسلام اور مسلمانوں کا درد بھی جاگ اُٹھا ہے ، مشرف کی بداعمالیاں بھی یاد آرہی تھیں، کارگل میں بیچارئے ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ پاکستانی فوج نے جو ظلم کیئے، امریکہ نے ہم پر جو مہربانیاں کی ہیں یہ سب کچھ ا نہیں چین سے نہیں بیٹھنے دے رہا تھا، اس لیے ایک متنازعہ کتاب لکھ ڈالی اور وہ بھی اس وقت جب پاکستان اپنے داخلی اور خارجی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔  لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز کا ضمیر بہت دیر سے جاگا مگر پھر بھی پورا نہیں،

پڑھناجاری رکھئے…