تصوف کیا ہے عام بندہ ولی اللہ کیسے بنتا ہے۔۔۔ از روحانی بابا

  اشغال و مراقبات کی حقیقت

صوفیہِ کرام نے سلوک کی ترتیب کچھ اس طرح رکھی ہے ۔اول صحبت جو کہ علم و جذبہ وعمل سے تعلق رکھتی ہے شیخ کامل کی صحبت جذبہ بیدار کرتی ہے اور شیخ کے عمل کا اثر مرید کے قلب پر ہوتا ہے اور صحبت ِ شیخ ہی علم کا باعث بنتی ہے پھر شیخ جذبات لطیفہ کے بیدار کرنے کے لیئے طالب کو اذکار جہر اور خفی تعلیم کرتا ہے اور بمطابق علم اس کو عمل پیدا ہونے کے لیئے بھی ارشاد فرماتا ہے ۔کثرت ذکر جہر و خفی کے بعد اشغال متعددہ اور مراقبات و توجہات کثیرہ بتاتا ہے۔
ان سب معاملات کے پس پردہ کیا حقائق کارفرما ہوتے یہ شیخ کامل کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے جب سالک ان پر عمل پیرا ہوتا ہے تو (تو بسبب عمل کرنے کہ یا عامل ہونے کہ)جان جاتا ہے پھر وہ بھی شیخ کامل بن جاتا ہے گویا یہ ایک عملی (راہِ) سلوک ہے جس کو وہی جان پاتا ہے جس نے عمل کیا ہو۔مثلاً ایک شخص صرف پہلوانی کا علم(بذیعہ کتاب اور آج کل بذریعہ C.D. Tutorial) اورTechniques جان کر پہلوان نہیں بن جاتا بلکہ وہ پہلوان اس وقت کہلوائے گاجب تک وہ Exercise نہ کرے اور اکھاڑے میں اُتر کر پہلوانی کے داو پیچ ظاہر نہ کرلے اور آزما نہ لے۔
صوفیانہ علوم بھی ایسے ہی ہیں یہ محض علم کی بات نہیں ہے بلکہ ریاضت سے حاصل ہونے والی صلاحیت ہے مگر اس میں عطاءومو ھبتِ الٰہی و جذبہِ حق کا شامل حال ہونا اشد ضروری ہے
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشند خدائے نہ بخشندہ
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔