تروینی تیرے نام زعیم رشید

تروینی تیرے نام :: زعیم رشید

تروینی تیرے نام زعیم رشیدکتاب تروینی تیرے نام معروف نوجوان شاعر زعیم رشید کا تیسرا ادبی پڑاؤ ہے۔ اس سے قبل “ایک صدا کی دوری” اور “غزلیاتِ میر حسن  شخص و شاعر” باذوق قارئین سے دادو دہش کے پھول وصول کر چکی ہیں۔ 128 صفحات پر مشتمل خوبصورت کتاب کو نظمینہ پبلیکشن لاہور نے شائع کیا۔ کتاب کے بیک فلیپ پر ہندوستان کے معروف شاعر گلزار رقم طراز ہیں

“تروینی کا یہ پودا لگا کر اب بڑی تسلی ہوتی ہے۔ یہ پھل پھول رہی ہے اور مجھ سے بھی اچھے باغبان ملے ہیں اسے۔ زعیم رشید کی خوبصورت تروینیاں پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی ہے۔ زعیم نے یہ بیل اوپر کی منڈیر تک پہنچا دی۔”

تروینی تیرے نام زعیم رشیدیہ کتاب اس حوالے سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ تروینی کی صنف میں پاکستان سے چھپنے والی یہ پہلی کتاب ہے۔ زعیم رشید بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں ان کی نظموں کا انگریزی زبان میں ترجمہ ہو کر انگلستان سے چھپ چکا ہے جو قارئین ادب کے لئے خاصے کی چیز ہے۔ لندن سے تعلیم یافتہ نوجوان زعیم رشید بنیادی طور پر صحافی ہیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں بھی لکھتے ہیں

ان کی حالیہ کتاب سے اردونامہ کے قارئین کے لئے انتخاب

تم اک ایسی صورت ہو

جس کا نام لبوں سے پہلے

آنکھوں میں آ جاتا ہے

 ++++++++

پہلے پہل تو شہر کی جانب دوڑ کے جایا کرتی تھی

جانے کیسا چندرا ظلم کمایا رنڈوے شہروں نے

گاؤں کی بیوہ پگڈنڈی بھی شہر کے نام سے ڈرتی ہے

++++++++

جدائی آخری بوسہ نہیں تھی

ابھی تو آنکھ بھر دیکھا نہیں تھا

مگر اتنے میں گاڑی جا چکی تھی

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*