اہلیانِ وطن کو جشنِ آزادی مبارک ہو

پانی میں ڈوب رہی ہے میری دھرتی یہ ارضِ وطن
میں کس زبان سے کہوں آزادی مبارک

14 اگست آ گیا ، وہ دن لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں اور وہ اپنا الگ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ایک ایسا وطن جہاں وہ اپنی مرضی سے رہ سکتے ہیں ایک ایسا وطن جہاں ہر کوئی اپنا ہو گا جہاں کوئی غیر نہیں ہو گا، وہ وطن جہاں مسلمان آپس میں بھائی چارے سے رہیں گےجہاں کوئی تفرقہ بازی نہیں ہو گی، جہاں کسی مسلمان پر کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی۔اور اس وطن کو حاصل کرنے کے لئے لاکھوں نے اپنی جانیں لٹا دیں لاکھوں نے اپنے سر کے سہاگ خوشی خوشی لٹا دیئے، لاکھوں ماؤں نے اپنی گود اجاڑ ڈالی۔
اور بلاآخر پاکستان بن گیا، ایک ایسا وطن جو ان لاکھوں کے خون سے سینچا گیا تھا جس سے ان لاکھوں جانوں کےخواب وابستہ تھے، یہاں آنے والی ہر آنکھ اپنوں کے غم میں اشکبار تھی لیکن اپنی مٹی کی تاثیر ہی کچھ ایسی تھی کہ سب کچھ بھول گیا انہیں اپنا وطن مل گیا انہیں اپنے خوابوں کی تعبیر مل گئی۔ یہاں واقعی وہ بھائی چارہ دیکھا گیا جو چودہ سو سال پہلے دنیا میں پہلی باردیکھا گیا اور 14 اگست 1947 میں دوسری بار یہی مناظر دیکھے گئے ۔
پڑھناجاری رکھئے۔۔۔