انٹرنیٹ کو پابندیوں کے جال سے بچاتے لوگ

انٹرنیٹ کو پابندیوں کے جال سے بچاتے لوگ

Men Preventing Internet from Bansاظہار رائے کی آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اگلے وقتوں میں تحریروتقریر کی آزادی ہی آزادی رائے کے زمرے میں شمار کی جاتی تھی۔

تاہم 1980 کی دہائی میں کمپیوٹرز کے استعمال اور پھر انٹرنیٹ کے آجانے سے آزادی اظہار کی تعریف ہی بدل گئی اور آج کتابی شکل میں پیش کیے گئے خیالات سے زیادہ کمپیوٹر پر لکھی گئی تحریروں یا ترسیلی پیغامات پر کڑی نظر رکھنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے، بل کہ انٹرنیٹ کے نظام کو مزید بہتر اور تیز رفتار بنانے کے ساتھ ساتھ بعض ترقی یافتہ ممالک میں اس نظام پر اپنا اثر و رسوخ اور عالمی سطح پر بالا دستی رکھنے کی جنگ شروع ہوچکی ہے، بالخصوص امریکا اور بہت سے یورپی ممالک اس حوالے سے سرگرم ہیں، جس کے لیے نت نئے سافٹ ویئر، مانیٹرینگ سسٹم اور آپریٹنگ سسٹم بنائے جارہے ہیں، تو دوسری طرف انٹرنیٹ سسٹم پر اپنی دسترس رکھنے کے لیے من پسند قوانین تشکیل دیے جارہے ہیں۔

اس صورت حال میں جب کہ انٹرنیٹ کا استعمال ناگزیر ہوچکا ہے اور انٹارکیٹیکا کے برف پوش علاقوں سے لے کر افریقہ کے صحرائے صحارا کے تپتے میدانوں اور سمندروں کی گہرائیوں سے کائنات کی تاریکیوں تک، ہر جگہ انٹرنیٹ تحقیق اور جستجو کے متلاشیوں کے لیے ہراول دستے کا کام سرانجام دے رہا ہے، قابل تاسف امر یہ ہے کہ اطلاعات، معلومات، پیغامات اور اعتراضات سمیت ہر پہلو کو محض انگلیوں کی جنبش سے عام کرنے والے اس اہم ترین ٹول کو خاص و عام کی دسترس سے نہ صرف دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے، بل کہ عوام کی ذاتی معلومات اور کوائف پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔
پڑھناجاری رکھئے…