انٹرنیٹ ایک جائزہ

انٹرنیٹ ایک جائزہ

Internet an Analysis کمپیوٹر اورانٹرنیٹ نے روابط کو اتنا آسان بنا دیا ہے کہ پوری دنیا سمٹ کر ایک گاﺅں یعنی گلوبل ویلج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اب ہر کوئی ایک ہی جگہ بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر کی معلومات حاصل کر کے اپنے علم میں اضافہ کر سکتا ہے۔ انٹر نیٹ نظام ایک گلوبل نظام ہے جس میں سینکڑوں ملین کمپیوٹر آپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور یہ تمام وقت ایک دوسرے سے رابطہ قائم کئے ہوئے ہیں۔

انٹرنیٹ 60 کی دہائی میں امریکہ کے چند صاحبِ بصیرت لوگوں کی کوشش کا نتیجہ ہے، جن کا خیال تھا کہ کمپیوٹر کے ذریعے تحقیق، سائنس اور فوجی معلومات کے میدان میں مطلوبہ معلومات ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر تک بھیجی جا سکتی ہیں۔ 1962ء میں ایم آئی ٹی سے منسلک جے سی آر لیک لائیڈر نے سب سے پہلے گلوبل کمپیوٹر نیٹ ورک کا منصوبہ تجویز کیا اور اسی سال ایک نئے ادارے ڈیفنس ایڈوانس ریسرچ پراجیکٹس ایجنسی (ڈارپا) کے سربراہ کے طور پر اس منصوبے پر کام شروع کردیا۔

پڑھناجاری رکھئے۔۔۔