امریکہ نے وکی لیکس کے ذریغےانکشافات خود کرائے.

Wikileaks is a U.S Site

امریکہ نے وکی لیکس کے ذریغےانکشافات خود کرائے

امریکی اعلٰی قیادت کے اس دعوے کے باوجود کہ وکی لیکس کی جانب سے جاری کی جانے والی خفیہ سفارتی دستاویزات کے اجرا سے امریکی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جائے گا اور اس کے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات مجروح اور عالمی رہنماؤں کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ جائے گی، ابھی تک کوئی ایسا معاملہ یا نکتہ سامنے نہیں آ سکا ہے کہ جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ امریکی کی قومی سلامتی سے متعلق کوئی ایک بھی دستاویز ایسی سامنے آئی ہے جس سے افغانستان میں امریکی اسٹریٹیجی کو نقصان پہنچا ہوں، اس کے اسرائیل یا برطانیہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوئے ہوں۔ پاکستان سے امریکی سفارت کاروں کو نکالا گیا ہوں، فرانسیسی حکومت نے امریکی سفارت کاروں کے خلاف کاروائی کی ہو یا اقوامِ متحدہ کے سفارت کاروں کی جاسوسی کرنے کی پاداش میں امریکی انٹیلی جنس اور سفارت کاروں کے اقوامِ متحدہ کے حساس شعبوں میں داخلے کو بند کر دیا گیا ہو، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا مسلسل اس بات کا مشاہدہ کر رہی ہے کہ “وکی لیکس کاروائی“ سے صرف امتِ مسلمہ کو نقصان پہنچ رہا ہے جس کے حوالے سے سب سے پہلے ایرانی صدر احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ وکی لیکس کی کاروائی سے اس بات کا صاف اشارہ ملتا ہے کہ یہ ساری معلومات اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ یوایس اے کے کہنے پر جاری کی گئی ہیں اور اب بھی وکی لیکس کی کاروائیوں کی کمانڈ، درحقیقت امریکی حکام کے ہاتھ میں ہے جبکہ نام ویب سائیٹ کے بانی جولیان آسانگ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔