الوداع جنرل پاشا

الوداع جنرل پاشا

General Ahmad Shuja Pashaاُس نے اپنے ناتمام ایجنڈے کو تمام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ وہ اپنے اس ناتمام ایجنڈے کو تمام کرنا قومی مفاد کا اہم ترین تقاضا سمجھتا تھا۔ وہ قومی مفاد کے نام پر ہر جائز و ناجائز راستہ بھی اختیار کرتا رہا لیکن ناکام رہا۔ ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ وہ جس آئین سے وفاداری کا حلف اٹھا کر آیا تھا اُسی آئین کو اپنے راستے کی سب سے بڑی دیوار سمجھتا رہا۔ وہ ایک سرکاری افسر تھا لیکن قومی مفاد کے نام پر ایک سیاسی ایجنڈے پر عمل پیرا تھا۔ قومی مفاد کے نام پر اُس نے ہمیشہ زبان سے کچھ اور دل سے کچھ اور کہا۔ قول و فعل کے اس تضاد کو آج کے زمانے میں ڈبل گیم کہا جاتا ہے لیکن وہ پوری دیانت داری سے اس ڈبل گیم میں مصروف رہا۔ اُس کا خیال تھا کہ پاکستان کو پارلیمانی جمہوریت نہیں بلکہ صرف اور صرف صدارتی جمہوریت بچا سکتی ہے حالانکہ پاکستان کو دولخت کرنے کی بنیادیں جنرل ایوب خان کی صدارتی جمہوریت نے فراہم کی تھیں لیکن وہ جنرل ایوب خان کا پرستار تھا۔ ایوب خانی جمہوریت کے حق میں اُس نے کئی صحافیوں کے سامنے دلائل دیئے اور اپنا یہ مشہور جملہ بار بار دہرایا کہ …“کیا آپ کے اور ہمارے بچوں پر بلاول، حمزہ اور مونس الٰہی حکومت کریں گے کیا ہمارے بچوں کو بھی وہی حکمران ملیں گے جو ہمیں ملے؟“… کچھ صحافی فوری طور پر قوم کے درد میں ڈوبے ہوئے اس سوال پر زور زور سے اثبات میں سر ہلانے لگتے لیکن کچھ صحافی سوچتے کہ یہ کیسا شخص ہے جو بار بار بلاول کے باپ کی حکومت سے اپنی مدت ملازمت میں توسیع حاصل کرتا ہے اور بلاول کو کوستا بھی ہے؟ ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ مجھے مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہئے لیکن جب بھی ملازمت کی مدت ختم ہونے پر آتی ہے ایک اور توسیع کی کوشش شروع کر دیتا ہے؟

پڑھناجاری رکھئے…