آل پاکستان گدھا کانفرنس

  آل پاکستان گدھا کانفرنس

مستنصر حسین تارڑ

ایک زمانے میں میں بہت بدنام تھا کہ یہ شخص انسانوں کے بارے میں کم کالم لکھتا ہے اور جانوروں کے بارے میں زیادہ لکھتا ہے۔ اسے انسانوں کی نسبت الو،گدھے، دریائی گھوڑے، مگر مچھ اور اودبلاؤ وغیرہ زیادہ پیارے ہیں۔ اس الزام سے بچنے کے لیے میں نے مسلسل انسانوںکے بارے میں کالم لکھے لیکن یہ بے نوازی نہ میرے کام آئی اور نہ ہی انسانوں کے کام آئی۔ انسان جیسے تھے ویسے ہی رہے بلکہ پہلے سے بھی بدتر ہوگئے لوگوں کی لاشیں کھمبوں پر لٹکانے لگے۔ انہیں ذبح کرنے لگے یا پھر اقلیتوں کی بستیوں پرحملے کرکے انہیں زندہ جلانے لگے تو اس صورت میں کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ میں پھر سے انسانوں کو ترک کرکے جانوروں کے قریب آجاؤں کہ وہ اس نوعیت کی ’’تہذیب یافتہ ‘‘ حرکات نہیں کرتے۔
میرا پچھلا کالم لاہور میں منعقد ہونے والی بھینس کانفرنس کے بارے میں تھا اور میں نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ اس کے نتیجے میں بھینسوں کو ان کا وہ مقام مل جائے گا جس کی وہ حقدار ہیں اور انہیں پاکستان کا قومی جانور ڈکلیئر کردیا جائے گا اب سوچتا ہوں تو یہ صرف بھینس ہی نہیں جس کو ہم نے اس کا جائز مقام نہیں دیا بلکہ بے شمار دوسرے جانور بھی ہیں جن میںگدھے سرفہرست ہیں۔ میں گدھوں کی خوبیاں نہیں گنواؤں گا،اگر آپ خود بال بچوں والے ہیں تو آپ کو یقینا یاد ہوگا کہ آپ اپنے بیٹے سے لاڈ کرتے ہوئے اسے مخاطب کرتے ہوئے ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ’’اوئے گدھے ‘‘ بلکہ جب بہت ہی پیار آتا تھا تو اسے گدھے کا بچہ بھی کہہ دیتے تھے یہ سوچنے کی بات ہے کہ آپ اپنے چھوٹے بچوں کو لاڈ پیار سے یہ کبھی نہیں کہتے کہ اوئے مگر مچھ یا اوئے گھوڑے کے بچے صرف گدھے کے بچے کہتے ہیں تو اس سے گدھے کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ ہمارے ایک نزدیکی تارڑ عزیز ہیں جو ایک بلند عہدے پر فائز ہوئے اور نیک نام ہوئے۔

پڑھناجاری رکھئے۔۔۔