• { SMARTFEED }
  • انٹرنیٹ پر اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کوشاں

    متصل |  شمولیت اختیار کریں۔

    نئے موضوع کی ترسیل موضوع کا جواب دیں  [ 14 مراسلے ] 

    منگل مارچ 01, 2011 2:21 pm

    غیر متصل
    مشاق
    مشاق
    رکن کی نمائندہ تصویر
    تاریخ شمولیت:: جمعہ دسمبر 03, 2010 5:35 pm
    مراسلات: 3721
    عمر: 32
    مكانیت: BOMBAY _ AL HIND

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 158 بار
    موصول شکریے: 193 بار
    قوم گویا جسم ہے افراد ہیں اعضائے قوم
    منزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم

    محفل نظم حکومت چہرہ زیبائے قوم
    شاعر رنگیں نوا ہے دیدہ بینائے قوم

    مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ
    کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ


    اقبال

    بشکریہ‌: عبدالرحمن حنفی

    _________________
    میرا بلاگ
    http://noonmeem.blogspot.com/



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ YIM

    جمعہ مارچ 04, 2011 4:26 pm

    غیر متصل
    مشاق
    مشاق
    رکن کی نمائندہ تصویر
    تاریخ شمولیت:: جمعہ دسمبر 03, 2010 5:35 pm
    مراسلات: 3721
    عمر: 32
    مكانیت: BOMBAY _ AL HIND

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 158 بار
    موصول شکریے: 193 بار
    مہدی برحق

    سب اپنے بنائے ہوۓ زندان میں ہیں محبوس
    خاور کے ثوابت ہوں کے افرنگ کے سیار

    پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
    نے جدت گفتار ہے نے جدت کردار

    ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ
    شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار

    دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت
    ہو نگہ جس کی زلزلہ عالم افکار

    اقبال

    _________________
    میرا بلاگ
    http://noonmeem.blogspot.com/



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ YIM

    پیر مارچ 07, 2011 10:17 am

    غیر متصل
    مشاق
    مشاق
    تاریخ شمولیت:: جمعرات جولائی 15, 2010 7:11 pm
    مراسلات: 3029
    عمر: 31
    مكانیت: اصل علاقہ ژوب لیکن ابھی کراچی

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 120 بار
    موصول شکریے: 230 بار
    بہت خوب
    اقبال کی شاعری کا کچھ مجموعہ یہاں پڑھیں.

    _________________
    www.vir-zone.com



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ WWWYIM

    پیر مارچ 07, 2011 12:43 pm

    غیر متصل
    مشاق
    مشاق
    رکن کی نمائندہ تصویر
    تاریخ شمولیت:: جمعہ دسمبر 03, 2010 5:35 pm
    مراسلات: 3721
    عمر: 32
    مكانیت: BOMBAY _ AL HIND

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 158 بار
    موصول شکریے: 193 بار
    r;o;s;e r;o;s;e شکریہ شعیب بھائی r;o;s;e r;o;s;e

    _________________
    میرا بلاگ
    http://noonmeem.blogspot.com/



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ YIM

    پیر مارچ 07, 2011 2:21 pm

    غیر متصل
    مشاق
    مشاق
    رکن کی نمائندہ تصویر
    تاریخ شمولیت:: جمعہ دسمبر 03, 2010 5:35 pm
    مراسلات: 3721
    عمر: 32
    مكانیت: BOMBAY _ AL HIND

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 158 بار
    موصول شکریے: 193 بار
    دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
    دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی

    شق ہو گیا ہے سینہ خوشا لذّتِ فراغ
    تکلیفِ پردہ داریِ زخمِ جگر گئی

    وہ بادہ شبانہ کی سر مستیاں کہاں
    اٹھیے بس اب کہ لذّتِ خوابِ سحر گئی

    اڑتی پھرے ہے خاک مری کوۓ یار میں
    بارے اب اے ہوا ہوسِ بال و پر گئی

    دیکھو تو دل فریبیِ اندازِ نقشِ پا
    موجِ خرامِ یار بھی کیا گل کتر گئی

    ہر بو‌ل ہوس نے حسن پرستی شعار کی
    اب آبروۓ شیوہ اہلِ نظر گئی

    نظّارے نے بھی کام کیا واں نقاب کا
    مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی

    فردا و دی کا تفرقہ یک بار مٹ گیا
    کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی

    مارا زمانے نے اسدللہ خاں تمہیں
    وہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئ

    _________________
    میرا بلاگ
    http://noonmeem.blogspot.com/



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ YIM

    منگل مارچ 08, 2011 4:16 pm

    غیر متصل
    مشاق
    مشاق
    رکن کی نمائندہ تصویر
    تاریخ شمولیت:: جمعہ دسمبر 03, 2010 5:35 pm
    مراسلات: 3721
    عمر: 32
    مكانیت: BOMBAY _ AL HIND

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 158 بار
    موصول شکریے: 193 بار
    ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
    ہو دیکھنا تو دیدہ دل وا کرے کوئی

    منصور کو ہوا لب گویا پیام موت
    اب کیا کسی کے عشق کا دعوی کرے کوئی

    ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر
    ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی

    میں انتہائے عشق ہوں تو انتہائے حسن
    دیکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی

    عذر آفرین جرم محبت ہے حسن دوست
    محشر میں عذر تازہ نہ پیدا کرے کوئی

    چھپتی نہیں ہے یہ نگہ شوق ہم نشیں
    پھر اور کس طرح انہیں دیکھا کرے کوئی

    اڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طور پر کلیم
    طاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی

    نظارے کو بہ جنبش مژگاں بھی بار ہے
    نرگس کی آنکھ سے تجھے دیکھا کرے کوئی

    کھل جائیں کیا مزے ہیں تمنائے شوق میں
    دو چار دن جو میری تمنا کرے کوئی


    اقبال

    _________________
    میرا بلاگ
    http://noonmeem.blogspot.com/



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ YIM

    منگل مارچ 08, 2011 10:00 pm

    غیر متصل
    کارکن
    کارکن
    تاریخ شمولیت:: جمعہ نومبر 27, 2009 9:10 pm
    مراسلات: 142

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 16 بار
    موصول شکریے: 15 بار
    v;g v;g v;g v;g v;g

    _________________
    کٹی اِک عمر بیٹھے ذات کے بنجر کناروں پر
    کبھی تو خود میں اُتریں اور اسبابِ زیاں ڈھونڈیں



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ

    بدھ مارچ 09, 2011 10:30 am

    غیر متصل
    مشاق
    مشاق
    رکن کی نمائندہ تصویر
    تاریخ شمولیت:: جمعہ دسمبر 03, 2010 5:35 pm
    مراسلات: 3721
    عمر: 32
    مكانیت: BOMBAY _ AL HIND

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 158 بار
    موصول شکریے: 193 بار
    شکریہ شکریہ شکریہ

    _________________
    میرا بلاگ
    http://noonmeem.blogspot.com/



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ YIM

    جمعہ مارچ 11, 2011 9:42 pm

    غیر متصل
    کارکن
    کارکن
    تاریخ شمولیت:: جمعہ نومبر 27, 2009 9:10 pm
    مراسلات: 142

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 16 بار
    موصول شکریے: 15 بار
    اے آفتاب! روحِ روان جہاں ہے تو

    شیرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو

    باعث ہے تو وجود و عدم کی نمود کا

    ہے سبز ترے دم سے چمن ہت و بود کا

    قائم یہ عنصروں کا تماشہ تجھی سے ہے

    ہر شئے میں زندگی کا تقاضہ تجھی سے ہے

    ہر شئے کو تری جلوہ گری سے ثبات ہے

    تیرا یہ سوز و ساز سراپا حیات ہے

    اے آفتاب! ہم کو ضیائے شعور دے

    چشم خرد کو اپنی تجلی سے نور دے

    ہے محفلِ وجود کا ساماں طراز تو

    یزداں ساکناں نشیب و فراز تو

    نے ابتداء کوئی نہ کوئی انتہا تیری

    آزاد قید اول و آخر ضیاء تری

    _________________
    کٹی اِک عمر بیٹھے ذات کے بنجر کناروں پر
    کبھی تو خود میں اُتریں اور اسبابِ زیاں ڈھونڈیں



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ

    جمعہ مارچ 11, 2011 10:06 pm

    غیر متصل
    معاون خاص
    معاون خاص
    رکن کی نمائندہ تصویر
    تاریخ شمولیت:: اتوار جولائی 20, 2008 7:58 pm
    مراسلات: 7727
    عمر: 34

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 24 بار
    موصول شکریے: 465 بار
    zub;ar :lol:



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ YIM

    جمعہ مارچ 11, 2011 11:40 pm

    غیر متصل
    کارکن
    کارکن
    تاریخ شمولیت:: جمعہ نومبر 27, 2009 9:10 pm
    مراسلات: 142

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 16 بار
    موصول شکریے: 15 بار
    ایک تحریر میری نظر سے گزری تو میں نے منا سب سمجھا کے دوستوں کے ساتھ اس کو شئیر کیا جائے۔

    اقبال کو نوبل انعام کیوں نہیں ملا؟

    علامہ اقبال اور رابندر ناتھ ٹیگور ہندوستان کے دو عظیم ہم عصر شاعر تھے جن کا کلام ایک ہی زمانے میں مشہور ہوا۔

    شاعری کی حدود سے نکل کر سیاسی اور سماجی میدان میں بھی دونوں شخصیات بیسویں صدی کے اوائل میں ایک ساتھ نمودار ہوئیں لیکن یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ عمر بھر دونوں کی ملاقات کبھی نہیں ہوئی۔

    علامہ اقبالؔ کے مداحوں کو اس بات کا ہمیشہ قلق رہا ہے کہ ہندوستان کے اولین نوبل انعام کا اعزاز اقبال کے بجائے ٹیگور کو حاصل ہوا۔ شاید اس ’’ زیادتی‘‘ کی تلافی ہو جاتی اگر بعد کے برسوں میں اقبال کو بھی اس انعام کا مستحق قرار دے دیا جاتا لیکن 1913ء سے 1938ء تک کے 25 برسوں میں ایک بار بھی نوبل کمیٹی کی توجہ اقبال پر مرکوز نہ ہو سکی۔

    چونکہ نوبل کمیٹی کی تمام دستاویزات اور خط و کتابت پر پچاس برس تک اخفاء کی پابندی رہتی ہے اس لئے سن ساٹھ کے عشرے تک یہ محض ایک راز تھا اور اس پر ہر طرح کی چہ می گوئیاں ہوتی تھیں۔ اسے ایک سوچی سمجھی سازش بھی قرار دیا جاتا تھاکہ علامہ اقبالؔ کو نوبل پرائیز سے کیوں محروم رکھا گیا تھا۔

    1963ء میں پرانے دستاویزات کے سامنے آنے پر کھلا کہ کمیٹی نے کوئی سازش نہیں کی تھی اور نہ علامہ اقبال کی نامزدگی کا جھگڑا کبھی پیدا ہوا تھا۔ لیکن اگر بنگال کے شاعر رابندر ناتھ کا نام کمیٹی کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے تو اقبال کی نامزدگی میں کیا قباحت تھی؟ پرانے دستاویزات اس سلسلے میں کوئی واضح رہنمائی نہیں کرتے۔

    سن 1914ء کے اوائل میں تیار ہونے والی ایک رپورٹ میں نوبل کمیٹی کے چیئرمین ہیرلڈ ہئیارن نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ میں چھڑنے والی جنگ کی ممکنہ تباہ کاری کو دیکھتے ہوئے کمیٹی سوچ رہی تھی کہ نوبل انعام ایسے ہاتھوں میں نہیں جانا چاہئے جو جنگ اور تباہی کے پر چارک ہوں۔

    کمیٹی کو احساس تھا کہ نوبل انعام حاصل کرنے والا ادیب راتوں رات شہرت کے آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔ ظاہر ہے ان تحریروں کا اثر دنیا کے سبھی باشندوں پرپڑتا ہے۔

    ہیرلڈ ہئیارن نے مختلف ماہرین کے آراء پیش کرنے کے بعد رپورٹ میں خیال ظاہر کیا کہ ادب کا نوبل انعام دیتے وقت اس امر کو بطور خاص مد نظر رکھنا چاہئے کہ یہ انعام کسی قوم پرستانہ مصنف کونہ چلا جائے یعنی کسی ایسے قلم کار کو جو ایک مخصوص قوم کے ملی جذبات کو ابھار کر دنیا پر چھا جانے کی ترغیب دے رہا ہو۔

    ظاہر ہے کہ اقبال کی شاعری کا بیشتر حصہ اسلام اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو یاد کرنے اور اسے بحال کرنے کی شدید خواہش کا مظہر ہے۔ اقبال اپنی ملت کو اقوام مغرب سے بالاتر سمجھتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں قوم رسول ہاشمی جن عناصر سے مل کر بنی ہے وہ دنیا کی کسی اور قوم میں نہیں پائے جاتے۔

    اگرچہ پہلی جنگ عظیم سے قبل بھی یورپ کے سلسلے میں اقبال کسی خوشی فہمی کا شکار نہیں تھے لیکن جنگ کے بعد یورپ کے بارے میں ان کی تلخی مزید بڑھ گئی۔

    1970ء کی ایک غزل میں اقبال نے کہا تھا: دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکان نہیں ہے۔

    کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہی زر کم عیار ہو گا

    نکل کر صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا

    سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

    تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی

    جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہو گا

    1914ء کی ایک رپورٹ میں نوبل کمیٹی کے چیئر مین خیال ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی اتھل پتھل ایک عارضی مرحلہ ہے۔ ادب کو ان وقتی مصلحتوں سے ماوراء ہو کر عالمی اور دائمی اقدار کا دامن تھامنا چاہیے۔

    کم و بیش یہی وہ خیالات تھے جن کی بنیاد پر مہاتما گاندھی کے نوبل پرائز کا راستہ بھی عرصہ دراز تک رکا رہا لیکن گاندھی کے کیس میں کم از کم چار مرتبہ ان کا نام کمیٹی کے سامنے آیا اور اس پر خاص بحث بھی ہوئی بلکہ نئی تحقیق کے مطابق تو 1948ء میں انہیں انعام ملنے ہی والا تھا کہ ان کی ناگہانی موت واقع ہو گئی۔

    علامہ اقبال کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ 1913ء میں ٹیگور کو انعام ملنے کے ربع صدی کے بعد تک اقبال زندہ رہے لیکن نوبل کمیٹی نے کبھی ان کے نام پر غور نہیں کیا۔ اقبال کی شہرت کا سورج اس وقت نصف النہار پر تھا اور یہی وہ زمانہ تھا جب اقبال کو حکومت برطانیہ نے ’’سر‘‘ کا خطاب عطا کیا تھا، اگرچہ یہاں بھی ٹیگور انہیں مات دے گئے کیونکہ ٹیگور کو سرکا خطاب سات برس پہلے 1915ء میں ہی مل گیا تھا۔

    ٹیگور مادری زبان کو مقدس سمجھتے تھے۔ ایک بار جب وہ اسلامیہ کالج لاہور کے طالب علموں کی دعوت پر پنجاب آئے تو طالب علموں نے ان کے استقبال کے لئے ان کا معروف بنگالی ترانہ گانا شروع کر دیا۔ ٹیگور نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے زیادہ خو شی ہو گی اگر آپ پنجاب کی کوئی سوغات پیش کریں۔ چنانچہ ٹیگور کی خدمت میں ہیر وارث شاہ کے چند بند، ہیر کی روائیتی طرز میں پیش کئے گئے۔ ٹیگور مسحور ہو کر رہ گئے اور محفل کے اختتام پر بولے میں زبان تو نہیں سمجھتا لیکن جتنی دیر ہیر پڑھی جاتی رہی میں مبہوت رہا اور مجھے یوں محسوس ہوتا رہا جیسے کوئی زخمی فرشتہ فریاد کر رہا ہو۔

    ٹیگور کو اقبال سے بھی یہی شکوہ تھا کہ اس نے اپنی مادری زبان کے لئے کچھ نہیں کیا۔ بقول ٹیگور اگر اقبال نے فارسی اور اردو کی بجائے پنجابی کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا ہوتا تو آج پنجابی ایک پر مایہ زبان تو ہوتی۔

    اقبال کے سلسلے میں ٹیگور کا یہ بیان ایک نوبل انعام یافتہ شاعر کا بیان بھی تھا۔ ایک ایسے شاعر کے بارے میں جو اس اعزاز سے محروم رہا۔

    یہ بیان تھا ’سر‘ کا خطاب ٹھکرا دینے والے ایک شخص کا، اس شخص کے بارے میں جس نے انگریزی کے عطا کردہ اس خطاب کو عمر بھر سینت سینت کے رکھا۔

    علامہ اقبالؔ کی شعری کائنات یقیناً ٹیگور کے شعری احاطے سے بہت بڑی تھی کیونکہ شعر اقبال کا ایک سرا اگر بطون ذات میں تھا تو دوسرا وسعت کائنات میں تھا۔

    _________________
    کٹی اِک عمر بیٹھے ذات کے بنجر کناروں پر
    کبھی تو خود میں اُتریں اور اسبابِ زیاں ڈھونڈیں



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ

    ہفتہ اپریل 09, 2011 5:26 pm

    غیر متصل
    مشاق
    مشاق
    رکن کی نمائندہ تصویر
    تاریخ شمولیت:: جمعہ دسمبر 03, 2010 5:35 pm
    مراسلات: 3721
    عمر: 32
    مكانیت: BOMBAY _ AL HIND

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 158 بار
    موصول شکریے: 193 بار
    شکریہ بھائی ، ، بہت بہترین شیئرنگ ہے جناب

    _________________
    میرا بلاگ
    http://noonmeem.blogspot.com/



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ YIM

    جمعرات اپریل 14, 2011 3:20 pm

    غیر متصل
    مشاق
    مشاق
    رکن کی نمائندہ تصویر
    تاریخ شمولیت:: جمعہ دسمبر 03, 2010 5:35 pm
    مراسلات: 3721
    عمر: 32
    مكانیت: BOMBAY _ AL HIND

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 158 بار
    موصول شکریے: 193 بار
    امامت { علامہ اقبال }
    تونے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
    حق تجھے میری طرح صاحبِ اَسرار کرے

    ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
    جو تجھے حاضروموجود سے بیزار کرے

    موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رُخِ دوست
    زندگی تیرے لیے اور بھی دُشوار کرے

    دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے
    فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

    فتنہء ملتِ بیضا ہے امامت اس کی
    جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے
    (ضرب کلیم)

    _________________
    میرا بلاگ
    http://noonmeem.blogspot.com/



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ YIM

    جمعرات اپریل 14, 2011 5:25 pm

    غیر متصل
    مدیر
    مدیر
    رکن کی نمائندہ تصویر
    تاریخ شمولیت:: ہفتہ اکتوبر 17, 2009 11:17 am
    مراسلات: 10823
    مكانیت: اللہ کی زمین

    دوسروں کا شکریہ ادا کیا: 275 بار
    موصول شکریے: 523 بار
    :clap: :clap: :clap: :clap:

    _________________
    ہوا کے رخ پے چلتا ہے چراغِ آرزو اب تک
    دلِ برباد میں اب بھی کسی کی یاد باقی ہے

    روابط: بلاگ|ویب سائیٹ|سکرائبڈ |ٹویٹر



    واپس اوپر واپس اوپر
      کوائف نامہ WWWYIM
    سابقہ مراسلات کا مشاھدہ:  بہ ترتیب  
    نئے موضوع کی ترسیل موضوع کا جواب دیں  [ 14 مراسلے ] 

    تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت کے مطابق ھیں


    کون متصل ھے

    فورم پر موجود اراکین: کوئی مندرج اراکین متصل نہیں ہیں اور 1 مہمان


    آپ کو اجازت نہیں ھے: اس فورم میں نئے موضوعات شروع کرنے کی
    آپ کو اجازت نہیں ھے: اس فورم میں جوابات ارسال کرنے کی
    آپ کو اجازت نہیں ھے: اس فورم میں موجود اپنے مراسلت کی ترمیم و تدوین کی
    آپ کو اجازت نہیں ھے: اس فورم میں اپنے مراسلات حذف کرنے کی


    تلاش برائے ــــ:
    رجوع بہ:  


    Powered by phpBB © 2000, 2002, 2005, 2007 phpBB Group اردو ترجمہ از: سید شاکرالقادری، و محمد کاشف مجید
    phpBB SEO

        Foruzstyleshout