کسی بھی تکلیف سے نپٹنے کیلئے سب سے پہلے آپکا حواس میں رہنا انتہائی ضروری ھے۔ سر درد ، بے خوابی ، اعصابی جوش، اعصابی بے چینی، ڈپریشن، بے جاخوف ، بد ہضمی وغیرہ وغیرہ ایسی امراض ہیں جو ہنگامی بنیادوں ہر وارد ہورتی ہیں اور ان سے ہنگامی طریق سے نپٹا بھی جا سکتا ہے ۔یہ آزمودہ ہتھیار ہے جو کہ میرے تجربے میں شامل رھا ہے ۔
پہلی دفع مجھے اسکا تجربہ اس وقت ہوا جب میں پنجاب یونیورسٹی میں رہائش پزیر تھا، شام کو دوستوں کی محفل ہوتی ، ہاسٹل نمبر 18 ، کمرہ 207- 209،میں حالات حاضرہ پہ سیر حاصل گفتگو ہوتی، حامد میر، ببوبرال، سہیل احمد ، طاہر سرور میر ، ظ میم منہاس ، روح الامیں ناطق اور عمران الحق چوہان جیسے لوگ شامل محفل ہوتے۔(دو لوگوں کا نکال کر سب طالب علم تھے یعنی ببوبرال اور سہیل احمد کے علاوہ باقی سبھیی(
ایک روز عمران الحق جو کہ شعروشاعری کا چلتا پھرتا خزانہ تھا کہنے لگا ، بھئی میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے ، مجھے بس اجازت دو، میں نے فورا اسے اپنے استعمال کا فارمولا بتلایا اور دورد اچانک غائب،
دوسری دفعہ اسکا تجربہ مجھے ایک فیملی کے ہاں تیمارداری کے غرض سے گئے ہوئے ہوا،
پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔
پہلے ہم گکھڑ منڈی پہنچے، اور بعد ازاں گجرات شہر، گکھڑمنڈی تھانے کے صحن میں شہر کی ساری پولیس جمع تھی جبکہ ان سے دو فٹ کے فاصلے پر شہر کے سینکڑوں معززین بیٹھے تھے۔ ان معززین میں شہر کے علماء اکرام بھی تھے، بزنس مین بھی اور اساتذہ، وکلاء، دانشور اور صحافی بھی پروگرام کی نظامت کا فریضہ تھانے کا ایس ایچ او ادا کر رہا تھا۔ایس ایچ او نے اپنی تقریر کے دوران یہ حلف دیایہ میرے تھانے میں آج سے کوئی اہلکار رشوت نہیں لے گا اور اگر کسی اہلکار نے یہ حرکت کی تو اس کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہو گی۔
پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔
خانہ کعبہ کو ہر سال ایام حج کے دوران 9 ذوالحجۃکو نئے غلاف سے مزین کیا جاتا ہے۔ دستکاری کے ماہر کاریگر خانہ کعبہ کے غلاف پر سونے اور چاندی کے دھاگوں سے قرآن پاک کی آیات تحریر کرتے ہیں۔ مقامی زبان میں اسے کسوۃ کہتے ہیں۔ یہ غلاف تقریباً 670 کلوگرام خالص سفید ریشم سے تیار کیا جاتا ہے جس پر بعدازاں کالارنگ چڑھایا جاتا ہے۔ غلاف پر 150 کلوگرام سونے اور چاندی کے دھاگوں سے کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔اس کی تیاری مکہ مکرمہ کے مضافات میں واقع کسوہ فیکٹری میں ہوتی ہے، جو کہ خاص طور پر غلاف کعبہ تیار کرنے کیلئے بنائی گئی ہے۔
خانہ کعبہ کا غلاف کپڑے کے 47 ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ٹکڑے کی لمبائی 14 میٹر اور چوڑائی 101 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ حضور اکرم کے زمانے میں خانہ کعبہ کا غلاف کپڑے سے تیار کیا جاتا تھا۔ ایک سال میں رمضان المبارک اور حج کے دوران خانہ کعبہ کا غلاف دومرتبہ تبدیل کیا جاتا تھا۔
پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔
آپ کمپیوٹر میں چند اقدامات کر کے وائرس اور انٹی وائرس دونوں سے جان چھڑا سکتے ہیں، جی انٹی وائرس سے بھی! کیونکہ یہ دونوں ہی کمپیوٹر کی کارکردگی متاثر کرتے ہیں
۔
- لینکس اپریٹنگ سسٹم انسٹال کریں، وائرس کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے اور اسی لیے انٹی وائرس کی ضرورت بھی نہیں
- یوزر اکاونٹ ضرور بنائیں۔ روزمرہ یوزر اکاونٹ کا استعمال کریں۔ ایڈمنسٹریٹر اکاونٹ پروگرام وغیرہ انسٹال کرنے کے لیے ہی استعمال کریں۔ وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی وائرس حملہ کرتا ہے تو یوزر اکاونٹ میں رہتے ہوئے کم نقصان ہوتا ہے جبکہ ایڈمنسٹریٹر اکاونٹ استعمال کرتے ہوئے وائرس حملہ کرے تو پورا کمپیوٹر خراب ہو سکتا ہے
- سی ڈی، ڈی وی ڈی، یو ایس بی، فولڈر وغیرہ کو ڈبل کلک کر کے مت کھولیں، بلکہ مائی کمپیوٹر پر رائٹ کلک کر کے ایکسپلوئر کی آپشن منتخب کریں اور بائیں طرف آنے والی ونڈو کو استعمال کرنے ہوے اپنی منزل پر جائیے۔
پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔
ایک چرسی آنکھیں عطیہ کرنے گیا۔
آپریشن کے بعد ڈاکٹر نے پوچھا کچھ کہنا چاہتے ہو؟
چرسی: جسے آنکھیں لگائی ہیں اسے بتا دینا یہ 2 سوٹے لگانے کے بعد ہی کھلتی ہیں۔
میرے احساسِ جنوں کو وہ ہوا دی جائے
مجھ کو نیند آئے تو زنجیر ہلا دی جائے
سب کے گھر جلنے کا کچھ تو مجھے غم ہو محسوس
میرے گھر کو بھی ذرا آگ لگا دی جائے
میرے منصف نے یہ طے کر ہی لیا ہے شاید
جرم کوئی بھی کرے مجھ کو سزا دی جائے
وہ ہے پردوں میں تو تسکینِ نظر کی خاطر
مجھ کو اس کی کوئی تصویر دکھا دی جائے
مجھ کو مرنا تھا سو میں مر ہی رہا ہوں محسن
میرے قاتل کو تو جینے کی دعا دی جائے
ایک آدمی تلوار لیئے مسجد میں گیا اور آواز دی
پڑھنا جاری رکھئے۔۔۔